بڑے انتخابات کا چھوٹا ماڈل؟ 

بڑے انتخابات کا چھوٹا ماڈل؟ 
بڑے انتخابات کا چھوٹا ماڈل؟ 

  

یہ بات اپنی جگہ کہ کون جیتا کون ہارا؟ مگر اصلی تے وڈی بات یہ ہے کہ الیکشن ہوئے تو، ورنہ ہمارے ہاں تو بلدیاتی انتخابات کی تاریخ عجیب ہے۔ بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسریاں کہا جاتا ہے مگر جمہوری حکومتیں ہمیشہ بلدیاتی انتخابات کرانے سے دامن بچاتی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات جب بھی ہوئے فوجی اور آمرانہ حکومتوں نے کرائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے حالیہ انتخابات عمرانی حکومت میں ہوئے ہیں تو یہ حکومت آمرانہ ہے۔ بلدیاتی انتخابات کا سخت حکم تو تنگ آکر سپریم کورٹ نے دیا اور کینٹ بورڈز نے پہل کر دی۔ یوں بھی کینٹ بورڈ والے پہلے بھی الیکشن کراتے رہتے ہیں کہ ان کے ہاں فیصلے منتخب اور جمہوری افراد نہیں کرتے۔ ہماری ہوش میں، بلکہ ملکی تاریخ میں پہلے بلدیاتی انتخابات فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اپنے وضع کردہ بی ڈی نظام کے تحت کرائے۔ اگر وہ اسے الیکٹورل کالج نہ بناتے تو یہ سماجی خدمت کا اچھا ادارہ بن سکتا تھا اور شاید چلتا بھی رہتا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے دو دو تین تین ادوار میں اور تحریک انصاف کے موجودہ دور میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی نوبت نہ آئی تا آنکہ سپریم کورٹ نے سخت وارننگ کے ساتھ حکم دیا تو امکان پیدا ہوا کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو جائے گا۔ تاہم بے یقینی کی فضا ابھی قائم ہے اسی لئے تو کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات مکمل ہوتے ہی الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بھی جلد بلدیاتی الیکشن کرائے۔

ایک زمانے میں کینٹ بورڈز کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اس بار پارٹی ٹکٹوں کے لئے جوڑ توڑ، پارٹی پرچموں کی بہار روایتی انتخابات کا ماحول پیدا کر گئی البتہ یہ کرم ہوا کہ انتخابات ملک بھر میں پر امن ہوئے۔ ہلکی پھلکی موسیقی کہیں کہیں سنائی دی تاہم مجموعی طور پر صورتحال پرامن رہی۔ کوئی بڑا تصادم نہیں ہوا۔ نتائج کو دیکھا جائے تو کوئی بہت زیادہ حیران کن نہیں رہے۔ حکمران تحریک انصاف چاروں صوبوں میں موجود ہے اور اس کے امیدوار بھی میدان میں تھے۔ تحریک انصاف کا ٹکٹ جن کو نہیں ملا وہ آزاد کھڑے ہو گئے اور ان میں سے بہت سارے جیت بھی گئے۔  تحریک انصاف کو لاہور، پشاور، راولپنڈی اور ملتان میں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مسلم لیگ (ن) کو گوجرانوالہ اور جہلم جیسے مضبوط گڑھ کہلانے والے علاقوں میں شدید دھچکا لگا۔ دھچکا تو (ن) لیگ کو ملتان میں بھی لگا مگر تحریک انصاف سے بہتر رہی۔ پی ٹی آئی کو ملتان کینٹ سے ایک نشست بھی نہ ملی جبکہ مسلم لیگ (ن) کو ایک نشست ملی کل دس میں نو نشستیں آزاد امیدوار لے گئے۔ آزاد حیثیت میں جیتنے والوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ حکمران پارٹی کے چھجے پر جا بیٹھتے ہیں۔

اس طرح دیکھا جائے تو آزادوں میں سے بھی بہت سارے تحریک انصاف میں جا سکتے ہیں۔ ایک بات رائے عامہ کے حوالے سے دلچسپ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں آزاد حیثیت سے جیتنے والے جتنے امیدوار پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور اس بار ان کو بلے کا نشان ملا وہ سارے (ملتان سے) ہار گئے۔ ملتان کینٹ کے حلقہ نمبر 3 کا معاملہ الگ ہی دلچسپی کا حامل رہا۔ یہاں سے کامیاب ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اختر رسول فریدی گزشتہ انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے خواہاں تھے مگر ٹکٹ چودھری اسد ایڈووکیٹ کو مل گیا اور وہ بھاری اکثریت سے جیت بھی گئے۔ اختر رسول فریدی آزاد کھڑے ہو کر ہار گئے۔ اس بار کاغذات جمع ہوئے تو تکنیکی بنیادوں پر اسد چودھری کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے۔ مسلم لیگ (ن) نے نوجوان اختر کو ٹکٹ دیدیا۔ اپیل میں چودھری اسد کے کاغذات منظور ہو گئے مگر ٹکٹ تو اختر کو مل چکا تھا۔ چودھری اسد آزاد کھڑے ہو گئے۔

حلقے کے عوام نے اس بار بھی آزاد کی بجائے لیگی امیدوار کو ہی نمائندہ چن لیا بس بندہ بدل گیا۔ ملک گیر انتخابی نتائج میں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی برتری قائم رہی اگرچہ کچھ کم ہو گئی۔ والٹن میں پی ٹی آئی کا مکمل صفایا ملتان کی طرح ہی رہا۔ گوجرانوالہ میں البتہ اس نے میدان مار لیا۔ بہاولپور میں (ن) لیگ نے 3 اور پی ٹی آئی نے دو نشستیں لیں مسلم لیگ (ق) کو کوئی نشست نہ ملی حالانکہ (ق) لیگ کے وفاقی وزیر اور جنوبی پنجاب سے واحد ایم این اے طارق بشیر چیمہ کا تعلق بہاولپور سے ہی ہے پنجاب میں تحریک انصاف کا تیسرے نمبر پر آنا اس کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ مسلم لیگ (ن) نے صوبے میں 44 نشستیں جیتی ہیں۔ آزاد 31 اور پی ٹی آئی 27 نشستوں پر کامیاب رہی۔ عددی اعتبار سے پنجاب سب سے بڑا (نصف سے زیادہ) صوبہ ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں بنانے کے لئے یہاں سے اکثریت بلکہ واضح اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر کینٹ بورڈ کے انتخابات کو عام انتخابات کا چھوٹا ماڈل سمجھ لیا جائے تو تحریک انصاف کو سنجیدگی سے اپنی حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی۔ الیکٹرانک مشین اور تارکین وطن کے ووٹوں کا نسخہ نہ چلا تو ”اک واری فیر“ کا خواب چکنا چور بھی ہو سکتا ہے۔

اپوزیشن کی صفوں میں عدم اتحاد اور کسی عوامی تحریک کی عدم موجودگی میں بھی اگر پی ٹی آئی ان انتخابات میں آئیڈیل نتائج حاصل نہیں کر سکی تو اسے اپنے کمزور پہلوؤں کی ”مرمت“ اور مضبوطی کا اہتمام کر لینا چاہئے۔ اگر مکمل غیر جانبدار اور کسی مشین کی مدد کے بغیر ہونے والے چھوٹے انتخابات میں تحریک انصاف پہلے نمبر پر آ سکتی ہے تو ”دیگر عوامل“ سود مند ہونے کی صورت میں بہتر اور مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ خصوصاً مہنگائی کی بڑھتی رفتار کو بریکیں لگانے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف کو کافی خوش کر لیا گیا ہوگا۔ اب عوام کو خوش یا کم از کم مطمئن کرنے کے اقدامات ہی کر لئے جائیں۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے لئے بھی یہ نتائج چشم کشا ہونے چاہئیں۔ اگر اپوزیشن عوام میں حکومت مخالف تحریک پیدا نہ کر سکی تو ”حکمرانوں کو مہنگائی خود ہی لے بیٹھے گی“ کے اندازے شاید درست ثابت ہو سکیں۔ پیپلزپارٹی تو شاید حکمرانی کی مدت مکمل ہونے تک پی ڈی ایم سے دور دور ہی رہے گی۔ تحریک اس کے بغیر ہی چلانا ہو گی۔ جماعت اسلامی کو قریب لانے کی کوشش کی جائے تو اس سے ممکنہ تحریک کو منظم کرنے میں آسانی ہو گی۔ لیکن جماعت تنہا پرواز پر تلی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -