پولیس ملازمین کی شہادت کے باوجود ڈکیتی، چوری کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ!

پولیس ملازمین کی شہادت کے باوجود ڈکیتی، چوری کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ!

  

پولیس جوانوں کی فرض شناسی کے دوران اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے باوجود شہر بھرمیں ڈاکو راج میں کمی کے بجائے، دن بہ دن اضافہ ہو تا جارہاہے،جو لمحہ فکریہ اور المیے سے کم نہیں ہے۔ ایک جانب غریب شہریوں کو ہوش ربا مہنگائی اور بے روز گاری نے جیتے جی مار دیا ہے، تو دوسری جانب ڈاکوؤں اور لٹیروں نے ان کی زندگی اجیرن بنا کر انھیں خوف زدہ کر رکھاہے، جو پولیس کے اعلی حکام کی ناقص کارکردگی کابین ثبوت ہے۔جرائم کی وارداتوں کے سد باب کے لیے پولیس کے اعلی سطحی اجلاس بھی ہو رہے،لیکن اسٹریٹ کرائمز،ہاؤس رابری،اغوا، لوٹ مار کی وارداتیں بھی تواترسے جاری ہیں،اب اس کے تدارک کے لیے سائنسی اور جنگی بنیادوں پرعمل کرنا، ناگزیر ہوچکا ہے۔اس میں بھی دو رائے نہیں کہ جہاں پولیس میں شامل چند کالی بھیڑیں پولیس کی بدنامی کا سبب بنتی ہیں، وہیں پولیس کے بہادر،ایمان دار اور فرض شناس جوان جان بھی قربان کر کے پولیس کا مورال بلند کر نے میں مثال بن جاتے ہیں۔ ایک ایسی ہی مثال تھانہ مانگا منڈی کے علاقہ میں 30اور 31اگست کی درمیانی شب پیش آئی جہاں دو پولیس کا نسٹیبل عباد اور عادل حسین دوران ڈیوٹی مشکوک افراد کو روکنے کی کوشش میں شہید ہو گئے۔ان شہید اہلکاروں کی تھانہ مانگا منڈی میں درج ایف آئی آر میں پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ بسلسلہ گشت سرکاری گاڑی پر اے ایس آئی لیاقت علی،کانسٹیبلان محمد عمران،محمد اقبال،بلال قادراور مراتب علی موجودتھے جس کا ڈرائیور گلزار احمد ہے مانگا رائے ونڈ روڈپل نہر موجود تھے کہ بوقت قریب سو ا 3 بجے رات دوکس نامعلوم موٹر سائیکل سی ڈی 70 چائنہ پر سوار رائے ونڈ کی طرف سے آئے جن کو گاڑی کی ہیڈ لائیٹ کی روشنی میں دیکھ کر مشکوک سمجھ کر رکنے کا اشارہ کیا ہلکے کریم کلر سفیدی مائل کپڑوں میں ملبوس بعمریں 25سال کے قریب جو کہ پچھلے سوار نے ایک کالے رنگ کا صافہ گھٹنے پر رکھا تھا نے اپنی موٹر سائیکل جانب مانگا منڈی بھگا دی جس کا باامداد ہمرائیاں تعاقب کیا گیا اور محافظ تالاب سرائے کا نسٹیبلان ظفر اقبال،ندیم مسلح، عباد علی مسلح عادل حسین جوکہ مانگا پل بائی پاس موجودتھے کو کال کرکے دو کس موٹر سائیکل سوار کے آنے کی اطلاع کی جو کہ محافظ تالاب سرائے نے نامعلوم دو موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا جو نہ رکے اور اپنی موٹر سائیکل مانگامنڈی بائی پاس کلمہ چوک کی طرف گئے جو اس دوران معہ ہمرائیاں اور محافظ تالاب سرائے بھی مانگا بائی پاس کلمہ چوک 2کس نامعلوم موٹر سائیکل سوارکے تعاقب میں پہنچ گئے ہر دو کس ملزمان نے داتا ہوٹل نزد کلمہ چوک مانگا بائی پاس اپنے اپنے دستی پسٹل سے پولیس پارٹی پر جان سے مار دینے کی غرض سے سیدھی فائرنگ شروع کردی ڈرائیور سوار نے اپنے بائیں ہاتھ سے اور پیچھے والے سوار نے اپنے دائیں ہا تھ سے فائرنگ کرتے رہے،ڈاکوؤں کی فائرنگ سے کا نسٹیبل عباد علی کو سامنت چھاتی پر فائر لگا اور عادل حسین کو بائیں آنکھ کے پاس سر پر فائر لگا جو دونوں کا نسٹیبلان عباد علی اور عادل حسین شدید مضروب ہو کر زمین پر گر پڑے اور کانسٹیبل عباد علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر شہید ہو گئے جبکہ کا نسٹیبل عادل حسین کو برائے علاج معالجہ بزریعہ 1122جناح ہسپتال لاہور لے کر جارہے تھے کہ وہ راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے شہید ہوگئے پولیس نے یہ مقدمہ مقامی ایس ایچ او انسپکٹر مجاہد حسین کی درخوسات پر درج کر لیا ہے۔

رواں ماہ کے دوران جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے دوران یہ لاہور پولیس کے جوانوں کی کی مسلسل تیسری شہادت ہے۔لاہور کے علاقے موہنوال کا رہائشی سید عادل حسین اور چونیاں ضلع قصور کا رہائشی عباد علی تھانہ مانگا منڈی میں محافظ سکواڈ میں تعینات تھے۔شہید کانسٹیبلز عادل حسین اور عباد علی کی نماز جنازہ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں پورے اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔آئی جی پنجاب انعام غنی،سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر،ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال،ڈی آئی جی آپریشنز کیپٹن(ر) سہیل چوہدری،ڈی آئی جی سکیورٹی محبوب رشید،سی ٹی او منتظر مہدی،ایس ایس پی ڈسپلن مبشر میکن، ایس ایس پی آپریشنز و انوسٹی گیشن،ڈویژنل ایس پیز،ڈی ایس پیز اور پولیس جوانوں کی بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کے جسد خاکی کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر اور دیگر اعلٰی افسران نے شہدا کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور ان کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔اعلٰی پولیس افسران نے شہدا کے جنازوں کو کندھا بھی دیا۔سابق آئی جی پنجاب انعام غنی،سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر اور دیگراعلٰی پولیس افسران نے شہید کانسٹیبلز کے بھائیوں اور دیگر ورثاء سے اظہار تعزیت کیا،انہیں دلاسہ دیا اور اہلخانہ کے مکمل دیکھ بھال کی یقین دہانی کروائی۔شہید عادل حسین شاہ نے سوگواران میں بھائی،بیوی اور دیگر ورثا جبکہ کانسٹیبل عباد علی ڈوگر کے سوگواران میں بیوی، دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ کانسٹیبل عادل حسین نے سال 2017 جبکہ عباد علی نے 2006ء میں بطور کانسٹیبلز پولیس فورس جوائن کی۔ شہید عادل حسین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ صرف ایک ماہ قبل اس کی شادی ہوئی تھی۔

شہید کی بیوی نے اس موقع پر روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر جب بھی گھر آتا تو سب سے پہلے گھر میں داخل ہوتے ہی بلند آواز میں سلام کرتا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کے ساتھ تین مرتبہ سورہ قل شریف پڑتا اور سب گھر والوں سے معلوم کرتا کہ آج کس نے نماز بروقت ادا کی ہے اور کس نے ابھی تک ادا نہیں کی وہ ہمیشہ معاشرے کی ناہمواریوں کا زکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوجاتا اور ہر نماز کے دوران اللہ تعالی سے شہادت کی موت کا آروزمند رہنا اس کی عادت میں شامل تھا بیوی کے مطابق وہ اکثر تھانے میں پیش آنے والے واقعات کی بات کرکے حکمرانوں پر تنقید بھی کرتا تھا بھائی کے مطابق اس کے والد عادل سے بات کرتے ہوئے ہمیشہ اسے عدل کرنے کی نصیحت کرتے تھے اس کے شہید بھائی نے ہمیشہ گھر والوں سے نرم لہجے میں بات کی اور کبھی بھی کسی کو ناراض ہونے کا موقع نہیں دیا۔ عباد علی کے بچوں نے روزنامہ پاکستان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ”بابا“ان سے بہت پیار کرتے تھے اور اکثر ہماری ”مما“ کو کہتے تھے کہ ہماری نوکری کانٹوں کی سیج ہے، خطرناک ملزمان کو پکڑنا اور امن قائم کرنے کے لیے جان قربان کرنا پمارے فرائض میں شامل ہے اگر زندگی میں بچوں کو راستے میں چھوڑ کر”امر“ ہو جاؤں تو ان کا مجھ سے زیادہ خیال رکھنا انھیں کبھی تکلیف نہ آنے دینا ”بابا“ کی یہ باتیں آج ہمیں بار بار یاد آرہی ہیں بچوں کے مطابق بابا جب بھی گھر آتے ان کے لیے کھلونے اور کھانے پینے کاسامان ساتھ ضرور لاتے،ایک بار ممانے شرارتیں کرنے پر ہمیں ڈانٹنے کے ساتھ مارپیٹ کی ہم نے بابا کو فون کرکے شکایت کی بابا اسی رات گھر پہنچ گئے اور انھوں نے مما سے ناراض ہوتے ہوئے کہا بیٹاں گھر کی مہمان اور بیٹے بڑھاپے کاسہارا ہوتے ہیں انھیں ناراض کرنے سے اللہ ناراض ہوجاتا ہے یہ پروردگار کے دیے ہوئے انمول تحفے ہیں ان کے ساتھ ہنسی خوشی میں وقت گزارا کر۔

سی سی پی او غلام محمود ڈوگر نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا شہید کی شہادت سے قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں،ہر شہادت کے ساتھ ہمارا مورال مزیدبلند ہوتا ہے، پنجاب پولیس میں 1500 سے زائد شہادتیں ہیں جبکہ لاہور پولیس میں شہدا کی تعداد اب 324 ہو گئی ہے۔ شہدا کے ورثا کی فلاح و بہبود ہمارا اولین مشن ہے،ان کی خوشی غمی میں برابر کے شریک ہیں۔ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملزمان کو ہر صورت گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوائیں گے ملزمان کی گرفتاری کے لیے انھوں نے ”اطلاع عام“ کے نام سے ایک اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہوئے علاقے میں بھی تقسیم کیا ہے کہ شہداء پر فائرنگ کرنے والے ملزمان کی اطلاع دینے والے افراد کو 5  لاکھ انعام دیا جائے گا اس حوالے سے جاری اشتہار پر انھوں نے اپنا اور سی آئی اے افسران کے نمبرز بھی جاری کیے ہیں اور کہا ہے کہ اطلاع دینے والے کام خفیہ رکھا جائے گا۔ڈی آئی جی آپریشنز کیپٹن ریٹائرڈ سہیل چوہدری نے شہید کانسٹیبلان کو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ لاہور پولیس نے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قیام امن کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔فرض کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس کے بہادر جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ شہر میں امن کے قیام کے لیے لاہور پولیس ہمیشہ صف آراء رہی ہے۔اس افسوس ناک واقعہ کے بار میں ایس ایس پی آپریشنزوقار شعیب انور قریشی نے کہا ہے کہ قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنا رہے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کے قلع قمع کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔لاہور پولیس کے مزید دو فرزند 30اور 31اگست کی درمیانی شب شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کے دوران ڈاکووں کا مقابلہ کرتے ہوئے فرض کی راہ میں قربان ہو گئے۔کانسٹیبلز عادل اور عباد کی شہادت کے بعد لاہور پولیس کے شہداء کی مجموعی تعداد 324 ہوگئی ہے۔

٭٭٭

ٹھوس حکمت عملی اپنائے بغیر شہریوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا 

 اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس کے بہادر جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں 

مزید :

ایڈیشن 1 -