پتوکی میں بدکاری کا دھندہ عروج پر  پولیس خاموش تماشائی 

پتوکی میں بدکاری کا دھندہ عروج پر  پولیس خاموش تماشائی 

  

بدکاری کے گھناؤنے پیشہ سے وابستہ افراد اور عورتوں کی تعداد میں روز بروز خوفناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تحصیل پتوکی شہر پتوکی سمیت سرائے مغل اور پھول نگر میں اس وقت ان قحبہ خانوں اور فحاشی کے اڈوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے ویسے تو صوبائی دارالحکومت لاہور کے سمیت پورے ملک بھر میں جسم فروشی کا دھندہ کھلے عام پولیس کی ملی بھگت کے ساتھ ہو رہا ہے جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے قانون ساز اداروں نے بھی اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے اس وقت یہ کام پتوکی شہر اور پھول نگر میں اپنے پورے عروج کو چھو رہا ہے ان علاقوں کے تھانہ جات میں تعینات پولیس اہلکاروں کی ملی بھگت سے یہ کاروبار ہورہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت پتوکی سرائے مغل اور پھول نگر میں کئی جگہوں پر یہ فحاشی کے اڈے قائم ہیں جرائم اور دیگر کرائم کے علاوہ زیادہ تر مقدمات فحاشی عریانی کے درج ہوتے ہیں اور پھول نگر میں اگر دیکھا جائے تو بے شمار کیس اس قسم کی فحاشی کے زیادہ تر ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں پولیس درج ہی نہیں کرتی کیونکہ وہ مقامی پولیس اہلکاروں سے ملی بھگت کے ساتھ اس گندے کاروبار کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پتوکی شہر اس وقت بدکارمنڈی کے نام سے پورے پنجاب بھر میں مشہور ہے اس منڈی میں دور دراز کے شہروں سے کھاتے پیتے گھرانوں کے تماشبین لڑکے آتے ہیں یاد رہے کہ پتوکی شہر اور گردونواح سے تعلق رکھنے والے کھاتے پیتے گھرانوں کے نوجوان بھی اس دھندے میں اپنی دولت لٹا کر اوربے یارو مددگار ہوکر بربادی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں بڑے بڑے تاجر اس گندے دھندے میں اپنا سب کچھ تباہ کر کے فٹ پاتھوں پر معمولی کام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس میں برباد ہونے کے بعد بہت سارے لوگ منشیات کے عادی ہونے کے بعد موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور کچھ جو باقی بچے ہیں وہ زندگی کے دن گن رہے ہیں اور اب تقریبا یہی حال بھول نگر شہر کا ہوچکا ہے اس شہر میں باقاعدہ طور پر بدکاراڈے قائم نہ ہیں ورنہ یہاں بھی پولیس والے دھندہ کمانے کے لئے ضرور سرپرستی کرتے مگر یہاں پر اس دھندے کی نوعیت کچھ اس طرح سے ہے کہ اس کو کرنے والے لوگوں نے شہر کی مختلف آبادیوں میں ڈیرے لگائے ہوئے ہیں یہاں پر یہ کاروبار مقامی پولیس کی سرپرستی میں بذریعہ موبائل فون بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس علاقہ سے بسنے والے لوگوں کے ساتھ ایک زیادتی اور بھی ہو رہی ہے کہ جو بھی ایس ایچ او تحصیل پتوکی میں آ کر لگتا ہے اسے ڈی پی او قصور دو یا تین ماہ کے بعد تبدیل کرکے کسی اور تھانے میں لگا دیتے ہیں کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ جب ایسے ایس ایچ او کو اپنی تعیناتی علاقہ کی سمجھ آنے لگتی ہے اور وہ اس طرح کا کاروبار کرنے والے افراد پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے پچھلے دس برسوں میں ایسی بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی یہی وجہ ہے کہ صوبہ پنجاب میں تحصیل پتوکی جرائم کے لحاظ سے بہت بد نام ہے۔

٭٭٭

کئی پولیس اہلکاروں کی سرپرستی میں اڈوں پر سرعام دادِ عیش دی جارہی ہے

جو بھی ایس ایچ او ایسے افراد پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، اس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے 

مزید :

ایڈیشن 1 -