سخا کوٹ، آل ٹرانسپور ٹ کا 15ستمبر کی ہڑتال موخر کرنے کا عندیہ 

سخا کوٹ، آل ٹرانسپور ٹ کا 15ستمبر کی ہڑتال موخر کرنے کا عندیہ 

  

  سخاکوٹ(نمائندہ پاکستان)آل گڈز ٹرانسپورٹ خیبر پختو نخواہ نے 15ستمبرکو ہونیوالے ہڑتال کے کال موخر کر تے ہوئے مناسب وقت پر کال دینے کا عندیہ دیدیا۔ہڑتال موخر کرنے کا اعلان آل گڈز ٹرانسپورٹ یونین خیبر پختونخواہ کے صدر انجینئر محمد جمیل نے پر ہجوم پریس کانفرنس میں کیا۔اس مو قع پر صوبائی چیئر مین حاجی لیاقت خان،نائب چیئرمین ایوب جدون، جنرل سیکرٹری سکندر خان،پریس سیکرٹری نصیب گل،نائب صدر اقبالستان باچہ، نائب صدر دوم حاجی ربنواز، فنانس سیکرٹری نور رحمان شو خانے، مزدا یونین کے صدر حاجی لطاف گل، قاری عارف اللہ اور حاجی محمد طیب کے علاوہ صوبہ بھر کے اضلاع کے گڈز ٹرانسپورٹ یونینز کے عہدیداران بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر انجینئر محمد جمیل نے ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا اور کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹ ملک کے معیشت میں ریڑھ کے ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے مگر پھر بھی ان کے ساتھ مجرمانہ رویہ اپنا کر جگہ جگہ مختلف فیس، ٹیکس، بے جا پرچوں، چالان،اوورلوڈنگ اور دیگر بہانو اور غیر قانونی حربوں سے تنگ کیا جارہا ہے اور ان کے جائز اواز کو کہیں نہیں سنا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ انشورنس ٹیکس، دھواں سٹیکرز، سروس ٹیکس اورکراس ٹیکس ٹرانسپورٹرز کے ساتھ بڑا ظلم ہے۔انہوں نے کہا کہ مردان میں رات کو چا لان دینے اور صوابی میں اوورلوڈنگ کے نام پر ہزاروں کا جرمانہ اور موٹروے کے ہر بیٹ پر چالان کسی طور پر منظور نہیں اس سلسلے میں یونین کے عہدیدار جلد سیکرٹری ٹرانسپورٹ سے ملاقات کریں گے اور انکو تمام صورتحال سے اگاہ کریں گے اورمسائل حل نہ ہونے پر تاریخی ہڑتال شروع کریں گے جس سے پیدا ہونیوالے صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ انجینئر محمد جمیل نے کہا کہ ہم نے پندرہ ستمبر کو صوبہ گیر ہڑتال کی کال دی مگر چند قانونی لوازمات پورا کرنے اور مسائل کے حل کے لئے اسان طریقے اپنانے اور ذاتی اثر رسوخ استعمال کرنے کی کوشش ا ور چند دیگروجوہات کی بنا پر اگلے اعلان تک موخر کر رہے ہیں لیکن ائندہ کال دینے سے صوبے کے معیشت کا پہیہ رک جائیگا اور مارکیٹ میں پھل سبزی دال گھی اوردیگر خوراکی اشیا سے لیکر ادویات تک کی سپلائی بند ہوجائیگی جس کے قصور وار گڈز ٹرانسپورٹ نہیں بلکہ ٹریفک پولیس، ٹی ایم ایز ٹول پلازے موٹر وے پولیس اور دیگر متعلقہ حکومتی ادارے ہونگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -