آل قبائل لویہ جرگہ کی سپریم کونسل کا انضمام کیخلاف گرینڈ قبائلی جرگہ کا اعلان 

آل قبائل لویہ جرگہ کی سپریم کونسل کا انضمام کیخلاف گرینڈ قبائلی جرگہ کا ...

  

 پشاور(سٹی رپورٹر)آل قبائل لویہ کی سپریم کونسل نے انضمام کے خلاف تحریک کو مزید تیز کرنے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر قانونی فورم استعمال کرنے سمیت آنے والے دنوں میں میر علی میں گرینڈ قبائل جرگے کا اعلان کیا ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت عسکری قیادت سے بھی نوٹس لیتے ہوئے مزاکرات کرکے مطالبات پر سنجدگی سے غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں قبائل تحفظ مومنٹ پاکستان کے آل قبائل لویہ جرگہ مشران نے ملک حاجی محمد حسین سمیت مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت وقت ال قبائل قوم کے نمائندہ لویہ جرگہ کو قبائل کی طرف سے سرکاری طور پر بطور سپریم کونسل تسلیم کیا جائے اور وہ ساری سہولیات فراہم کی جائے جو ایک کونسل کو ہوتی ہے اور اس کونسل کو اختیار کو اختیار ہوگا کہ ضم شدہ اضلاع کے ہر ایجنسی میں جرگہ پینل تشکیل دے تاکہ جرگے کے زریعے علاقائی مسائل کو حل کیا جا سکے۔ ال قبائل لویہ جرگہ سپریم کونسل کے مشران نے کہا کہ  26اگست کو رینگ روڈ پشاور میں تمام قبائلی اقوام کے سرکردہ عمائدین کا ایک لویہ جرگہ منعقد ہو اجسمیں قرار داد کے ذریعے تمام قبائل اقوام کاایک سپریم کونسل متفقہ طور پر اکثریت کیساتھ منظوری ہوئی یہ کونسل غیر ائینی بالجبر انضمام کی واپسی اور دیگر امور کیلئے وفاقی و دیگر سرکاری اداروں کیساتھ مذاکرات و جرگے کرینگے۔ قبائلی عمائدین نے کہا کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں حکومت ی جانب سے تبدیلی کے دعوں تردید کرتے ہیں،انضمام نے قبائل کی زندی اجیرن کر دی،  قبائل تحفظ مومنٹ پاکستان آل قبائل الگ صوبے کے مطالبے پر قائم رہنے اور اسکے لیے جدوجہد تیز کرنے کا اعلان کر تے ہوئے  آنے والے دنوں میں شمالی وزیرستان میر علی میں تمام قبائل کا نمائندہ جرگہ منعقد ہوگا جسکے بعد حتمی فیصلے لیے جاینگے  انہوں نے کہا کہ  قبائل کے نام کو سرتاج عزیز سمیت سب نے کیش کیا، ایم این اے شاجی گل اور انکے بھائی نے قبائل جرگہ کے نام پر مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ بنا رکھا ہے انہوں نے کہا کہ قبائل تحفظ مومنٹ پاکستان نے مطالبات کے حوالے سے 10 نکاتی ایجنڈے کا اعلان کرکیا ہے، حکومت مزاکرات کرے یا پھر قبائل احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کا انضمام اور مقبوضہ کشمیر کی جداگانہ حیثیت کا خاتمہ ایک ہی طرح کے فیصلے ہیں، قبائلیوں  کے ساتھ مردم شماری میں بہت بڑا دھوکہ کیا گیا، ڈیڈھ کروڑ سے زائد قبائلی کو کنسینسس میں 50 لاکھ شو کیا گیا، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف، چیف جسٹس، کور کمانڈر اور وزیر اعلیٰ محمود خان سمیت تمام متعلقہ حکام کو آگاہ کرچکے ہیں کہ ہم پر امن لوگ ہیں ہماری فریاد سنی جائے اور قبائل کے مسائل حل کرنے کیلئے لویہ جرگہ کو قبائل کیطرف سے سرکاری طور پر سپریم کونسل تسلیم کیا جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -