امریکہ میں امیر طبقے پر تاریخ کے سب سے زیادہ ٹیکس لگانے کی تیاری 

امریکہ میں امیر طبقے پر تاریخ کے سب سے زیادہ ٹیکس لگانے کی تیاری 

  

 واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ میں تاریخ کے سب سے زیادہ ٹیکس لگانے کی تیاریاں جاری ہیں اور سرکاری ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسی کے مطابق اس سے صرف امیر طبقہ متاثر ہوگا۔ کیپٹل ہل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یکم اکتوبر سے شروع ہونیوالے 2022ء کے مالی سال کے بجٹ کا جو بل کانگریس میں زیربحث ہے اس میں سرکاری بنچ نے 29کھرب ڈالر کا ریکارڈ ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ سرمایہ دار طبقے پر کا ر پوریٹ ٹیکس 21فیصد سے بڑھا کر ساڑھے 26فیصد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 50لاکھ ڈالر سالانہ سے زائد آمدن رکھنے والے افراد پر ٹیکس میں بھی تین فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک ارکان کے تیار کردہ مسودے کے مطابق امریکی کمپنیوں کے غیر ممالک میں بزنس پر عائد ہونے والے کم از کم ٹیکس کی شرح ساڑھے دس فیصد سے بڑھا کر ساڑھے 16فیصد کی جارہی ہے۔ اس کیساتھ ہی کیپٹل گین ٹیکس کی شرح بھی 23.8 فیصد سے بڑھ کر 28.8 فیصد ہو جائے گی۔ ایوان نمائندگان کی طریق کار اور ذرائع متعین کرنے والی اہم کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ نیل نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے ٹیکس تجاویز کی تفصیلات جلد بتانے کا وعدہ کیا ہے تاکہ سرکاری پارٹی میں اعتدال پسند طبقے کو مطمئن کیا جاسکے۔ جنہیں ٹیکسوں میں اتنے اضافے کے اقتصادی اثرات کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔ یہ تفصیلات اسی ہفتے سامنے آجائیں گی۔ تاہم کیپٹل ہل ذرائع کے مطابق افرادپر ٹیکس سے دس کھرب ڈالر اور کارپوریشنز پرٹیکس سے 900ارب ڈالرآمدن متوقع ہے۔ اس دوران وائٹ ہاؤس کے ترجمان اینڈریو بیٹس نے چیئرمین نیل کی تجاویز کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صدر بائیڈن کی مالیاتی پالیسی کے مقاصد کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس میں چار لاکھ ڈالر سالانہ آمدن سے کم افراد پر ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جبکہ سابق صدرڈونلڈٹرمپ نے زیادہ سرمایہ دار طبقے کو جو چھوٹ دے رکھی تھی اسے ختم کیا جارہاہے۔

امریکہ ٹیکس

مزید :

صفحہ اول -