ترنڈہ سے کوٹ سبزل تک ڈاکوراج، روزانہ وارداتیں، مزدور قتل 

ترنڈہ سے کوٹ سبزل تک ڈاکوراج، روزانہ وارداتیں، مزدور قتل 

  

رحیم یار خان (بیورو رپورٹ) ضلع بھر میں چوریوں اور ڈکیتیوں کی وارداتیں عروج پر رحیم یار خان دریائے سندھ کے کنارے پر ڈاکوں کی مضبوط کمین گاہیں قائم ہوچکی ہیں۔  خبر کے مطابق ضلع بھر میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی خراب چوری،ڈکیتی،راہزنی اور اس سب کے دوران قتل اقدام قتل کی وارداتوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ چل نکلا رحیم یار خان پولیس ڈاکوں کے سامنے بے بس ترنڈہ محمدپناہ سے لے کر کوٹ سبزل (بقیہ نمبر17صفحہ6پر)

تک دریائی پٹی ڈاکوں کے لیے محفوظ آماجگاہ بن گئی آئے روز شہریوں کو سرعام لوٹا جانے لگا شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ گزشتہ 24سے 48 گھنٹے کے دوران ضلع کے مختلف مقامات پر ڈاکوں نے شہریوں سے لاکھوں روپے کی نقدی چھین لی ڈکیتی کی دو بڑی وارداتیں جن میں سے پہلی ڈکیتی کی واردات چک 198 کے قریب ایک نجی چائے کی کمپنی کے ساتھ پیش آئی جس میں نامعلوم ڈاکوں نے گاڑی کے ساتھ سلیز مین سے آٹھ لاکھ سے زائد کی رقم چھین کر فرار ہو گئے جبکہ گزشتہ روز ظاھرپیر میں مقامی تاجر سیبھی نامعلوم ڈاکوں نے دن دہاڑے آٹھ لاکھ روپے کی رقم چھین لی اور اسی دوران مزاحمت پر امزدور ایاز احمد  کو گولی مار کر ہلاک کردیا اس کے علاوہ شہر بھر میں درجنوں چوری کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ آئے روز چوری، ڈکیتی،اور اغوا کی وارداتوں سے شہری خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے خوف میں مبتلا ہیں ضلع بھر میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں پر شام ڈھلتے ہی ڈاکو سرعام دندناتے پھرتے ہیں اور یہ عام شہریوں کے لیے علاقے نوگو ایریا بنتے جا رھے ہیں لہذا وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار،آئی جی پنجاب را سردار،ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب،ضلع بھر میں امن و امان کی تیزی بگڑتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے فوری طور پر نوٹس لے تاکہ شہریوں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے اور جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع کرتے ہوئے انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے

۔

چوری، ڈاکے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -