حادثات،48گھنٹوں میں گٹروں کے ڈھکن تبدیل کرنے کاحکم

حادثات،48گھنٹوں میں گٹروں کے ڈھکن تبدیل کرنے کاحکم

  

  ملتان (سپیشل رپورٹر،نیوزرپورٹر)کمشنر ملتان ڈویژن ڈاکٹر ارشاد احمد نے واسا کو گٹروں کے ٹوٹے ڈھکن تبدیل کرنے کیلئے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیدی۔انہوں نے افسران کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ حادثہ کی صورت میں متعلق افسر کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار کمشنر ڈاکٹر ارشاد احمد نے واسا کی کارکردگی بارے جائزہ اجلاس کی صدارت (بقیہ نمبر33صفحہ6پر)

کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سیوریج لائینوں سے گیس کا اخراج نا ہوپانا کراؤن فیلئر کا باعث بنتا ہے۔واسا سیوریج لائنوں میں کسی ایک مقام پر گیس کے اخراج کیلئے جالی نما ڈھکن لگائے۔ملتان۔خدمت آپکی دہلیز پر پروگرام راؤنڈ 2 کے دوسرے ہفتے نکاسی آب کے آغاز سے ہی واسا کی کارکردگی مانیٹرنگ شروع کر دی گئی ہے۔عوامی شکایات کو دوری حل کیا جائے۔کوئی افسر عوامی شکایت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔واسا تمام ڈسپوزل اسٹیشنز پر جنریٹر فعال رکھے جائیں۔ شہر میں جاری سیوریج لائینوں کی تبدیلی، واٹر لائنوں، ٹیوب ویلز کی اپ گریڈیشن پر کام تیز کیا جائے۔بعد ازاں ایم ڈی ناصر اقبال کی جانب سے کمشنر ملتان کو بریفنگ دی گئی۔ایڈیشنل کمشنر سرفراز احمد، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ موجود تھے۔جنوبی پنجاب کے ترقیاتی بجٹ کے موثر استعمال کیلئے نئی حکمت عملی اپناتے ہوئے محکمہ شماریات نے  عوامی مسائل پر مبنی سکیموں کی نشاندہی کا سروے مکمل کرلیااس سلسلے میں محکمہ شماریات پنجاب کے زیر اہتمام ترقیاتی محکوموں کے افسران کا تربیتی سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت کرتے ہوئے کمشنر ملتان ڈویژن ڈاکٹر ارشاد احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف  پر مشتمل ریسرچ ڈیٹا اکٹھا گیا ہے۔وزیر اعلی سردار عثمان بزدار جنوبی پنجاب کی ترقی کے خواہاں ہیں۔  اس خطے کی عوام کے اصل مسائل کا حل وسائل کا درست استعمال ہے۔محکمہ شماریات کا سروے حقیقی مسائل کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہوگا۔ڈائیریکٹر محکمہ شماریات ہیڈکوارٹر پنجاب شمس الہدی نے کہا کہ قومی تعمیر نو کے محکمے انڈیکیٹر سروے میں شامل سکیموں کو ترجیح دینگے۔54000 گھروں میں جاکر 211 انڈیکٹر پر ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے۔ریسرچ ڈیٹا حکومتی ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے پالیسی میں استعمال کیا جائے گا۔ڈائیریکٹر ڈویلپمنٹ وقاص خان خاکوانی، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ شماریات محمد حسنین حیدر، قومی ترقی   کے محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔

گٹروں کے ڈھکن

مزید :

ملتان صفحہ آخر -