کیا ایچ ای سی 2021 کی ریفارمز صرف چیئرمین ایچ ای سی کو ہٹانے کیلئے لائی گئیں ؟ ، اسلام آباد ہائیکورٹ 

کیا ایچ ای سی 2021 کی ریفارمز صرف چیئرمین ایچ ای سی کو ہٹانے کیلئے لائی گئیں ؟ ، ...
کیا ایچ ای سی 2021 کی ریفارمز صرف چیئرمین ایچ ای سی کو ہٹانے کیلئے لائی گئیں ؟ ، اسلام آباد ہائیکورٹ 

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) ہائر ایجوکیشن کمیشن ( ایچ ای سی ) صدارتی آرڈیننس کے خلاف کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی ، وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان عدالت میں پیش ہوئے ۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں ایچ ای سی پر بحث ہوئی ، کوویڈ کی وجہ سے یونیورسٹیوں کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار دی گئی ، کابینہ اجلاس میں ہی چیئرمین ایچ ای سی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزارت کی سمری سے تو لگ رہا ہے ان کا مسئلہ صرف ایک شخص ہے ، لگتا ہے وزیر اعظم کو صحیح نہیں بتایا گیا کہ احتجاج کیوں ہو رہا ہے ۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز نے چیئرمین ایچ ای سی کو ہٹانا صحیح قرار دیا، یونیورسٹی کی کارکردگی کو ایچ ای سی ہی دیکھتی ہے ، ایچ ای سی ایکٹ 2002 میں ترمیم کر کے ہائر ایجوکیشن کمیشن 2021 لایا گیا ، سابق چیئرمین کو ترمیمی ایکٹ 2021 کے تحت عہدے سے ہٹایا گیا ۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ نئے قانون کے تحت تو ایچ ای سی کے پورے کمیشن کو ہٹایا جا سکتاتھا ، کیا وہ ریفارمز صرف چیئرمین ایچ ای سی کو ہٹانے سے لانا تھا ، کیا کمیشن اتنا بے بس تھا کہ ایک شخص اسے ڈکٹیٹ کر سکتا تھا ، وزیر اعظم کی صوابدید ہے کہ جسے چاہیں کابینہ میں رکھیں مگر یہاں تو بات الگ ہے ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ طارق بنوری کا کیس سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے ، یہ درخواست طارق بنوری نے نہیں دی ، قابل سماعت ہی نہیں ہے ۔

مزید :

قومی -