خدا تیری لحد پر شبنم افشانی کرے...!!!

خدا تیری لحد پر شبنم افشانی کرے...!!!
خدا تیری لحد پر شبنم افشانی کرے...!!!

  

ابھی تو "دل آویز " جناب تنویر عباس نقوی اور" دل نشین" جناب راجہ اورنگزیب کی "جدائی کے زخم" مندمل نہیں ہوئے تھے کہ" دل ربا" حافظ ظہیر اقبال اعوان بھی  "داغ مفارقت" دے گئے...زندگی کا بڑا صدمہ ...زندگی بھر نہیں بھولے گا!!!اخلاص سے لبریز اس با وفا آدمی نے 18سال پہلے "شام کے اخبار "کے نیوز روم سے شروع ہونے والا" دوستی کا سفر" "زندگی کی شام "تک نبھایا اور خوب نبھایا...سوچا بھی نہیں تھا کہ "چٹان "کی طرح ہمیشہ ساتھ کھڑا رہنے والا" من موہنا دوست یوں "ریت "کی طرح ہمیشہ کے لیے  زندگی سے "سرک" جائے گا...

 "زندگی کی کتاب" اپنے طے شدہ وقت میں کتنی برق رفتاری سے ورق ورق "تمام "ہو جاتی  ہے...پھر ہر گذرتے دن کے ساتھ سب کچھ "ردی "ہو جاتا ہے ۔..صرف خلوص اور وفا کے ابواب باقی رہ جاتے اور دائم پڑھے جاتے ہیں...!!!ابھی مہینہ بھی نہیں ہوا...ایک رات بارہ بجے کے قریب فون آیا...بولے کہاں ہو؟میں نے کہا گھر سونے کی تیاری کر رہا ہوں...کہنے لگے میں نے چھوٹے بھائی مدثر کو ڈائیلسز کے لیے اسلام آباد لیکر جانا ہے... بھانجی خضرا کی یونیورسٹی فیس ہے...میں آپ کو پیسے دے جاتا ہوں ،جمع کرادیجیے گا... پھر وہ "بابا مٹھو"کے ساتھ رات ایک بجے میرے پاس آئے. ..دروازے پر کھڑے کھڑے کچھ "چھیڑ چھاڑ" والی باتیں ہوئیں...

28اگست کی شب حافظ صاحب کا فون بجا...دوسری طرف ان کے بجائے ان کے بڑے بہنوئی نصیر صاحب تھے...انہوں نے بتایا حافظ صاحب کو دل کی تکلیف ہوئی ہے اور وہ سیالکوٹ کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں...پھر حافظ صاحب کے بھائی طاہر اعوان نے بتایا کہ بھائی نصیر" لائٹ" لے رہے ہیں...معاملہ سیریس لگتا ہے...میں نے کہا بہتر ہے انہیں لاہور لے آئیں...نوائے وقت کے "ینگ رپورٹر" برادر عزیز اظہار الحق واحد کی دوڑ دھوپ سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اینجیو گرافی ہوگئی...تین شریانیں بند تھیں...ڈاکٹرز نے ہارٹ سرجری تجویز کی...ایک دو ڈاکٹروں کو پرائیویٹ دکھایا تو انہوں نے سٹنٹس کا مشورہ دیا...

اینجیو گرافی سے ایک شب پہلے ہم پی آئی سی کے "عرفان اللہ بلاک "میں دو گھنٹے بیٹھے ...میرے بچوں کے حفظ کے استاد قاری ضیا الرحمان صدیقی بھی ساتھ تھے...اکٹھے چائے پی اور خوب گپ شپ کی...صحافی کالونی میں "عابد چودھری کی قلی" سے شملہ پہاڑی پر "مچ گیلری" کے "درویش دوستوں" کی باتیں ہوئیں...بیٹھے بیٹھے عابد چودھری کو فون ملا دیا...اعجاز مرزا کال اٹینڈ نہ کر پائے...باتوں باتوں میں کہنے لگے یار پریس کلب چکر نہ لگا آئیں... میں نے کہا حافظ صاحب کبھی تو سیریس ہو جایا کرو...ہسپتال سے گھر شفٹ ہوئے تو ایک رات ملنے کے لیے صحافی کالونی گیا...فون کیا تو کہنے لگے میں چیک اپ کے لیے واپڈا ٹائون  آیا ہوں.....میں مسجد میں قاری صاحب کے پاس بیٹھ کر  واپس آگیا...

ایک دو دن بعد میسج کرکے" حال دل" پوچھا تو لکھ بھیجا:جی بہتر ہوں... ہسپتال سے "باغی" ہو کر گھر میں علاج بذریعہ دوائی ہو رہا ہے...پوچھاکس نے گھر علاج تجویز کیا؟بولے ڈاکٹرز نے... تین ہفتے دوائی کھانے کے بعد چیک کرانا ہے...میں نے کال کرکے تفصیل پوچھی تو بتانے لگے ہومیو دوائی سے افاقہ ہے...آپ سے کتنی بات ہوگئی لیکن سانس نہیں پھولا...میں نے کہا آرام کریں کل ملتے ہیں.۔.اگلے دن سہ پہر کے وقت حافظ صاحب کی "مسڈ کال" تھی..."رنگ بیک "کی تو کہنے لگے ویسے تو میں بہتر ہوں لیکن گھر والے کہہ رہے ہیں کہ لاپروائی نہ کریں اور سٹنٹس ڈالوالیں...عمر ہسپتال جا رہا ہوں دعا کرنا...ہائے قسمت!یہ تین منٹ سکینڈ کی گفتگو زندگی کی آخری گفتگو بن گئی...

اسی شب ایک دوست کے ساتھ پریس کلب میں گیارہ بجے تک نشست کے بعد گھر آیا تو حافظ صاحب کو خیریت پوچھنے کے لیے میسج کیا...جواب نہ آیا تو سوچا آرام کر رہے ہوں گے...ایک بجے موبائل بند کرکے سو گیا...نماز فجر کے وقت فون آن کیا تو طاہر بھائی کا میسج تھا کہ حافظ صاحب ہمیں چھوڑ کر چلے گئے...پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی...آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا...فون کیا تو حافظ صاحب کے والد گرامی نے رلا دیا...طاہر صاحب بھی نڈھال تھے...گھر بتایا تو سب رودیے...ڈسکہ پسرور روڈ پر چند گھروں کے نام سے آباد بستی "بھائی دا کھوہ" پہنچے تو مرد عورتیں،بچے بوڑھے حتی کہ درودیوار بھی" سوگوار" تھے...ہر طرف ایک کہرام تھا...ہر دل غمگین...ہر آنکھ اشکبار تھی...اور تو اور آسمان بھی اس دن ایسے برسا جیسے رو رہا ہو.. .!!!!

جناب امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ ہمارے جنازے ہماری صداقت کی گواہی دینگے...لاہور سے خاکسار...مجاہد اقبال...راجہ ریاض .. . رانا شفیق پسروری...وسیم فاروق شاہد...مدثر خان...مخدوم بلال...عابد چودھری...ذوالفقار چودھری...اعظم خاور...عمران علی نومی.. . حاجی وارث جبکہ شکرگڑھ سے اظہر عنایت اور شفیق شیرازی اپنے دوست کے "سفر آخرت" میں شریک ہوئے... نوشین نقوی اور میری اہلیہ نے بھی بڑے ظرف والی بھابھی ثمینہ کو "پرسہ" دیا...پسرور ڈسکہ سے تو گویا انسانوں کا سمندر امڈ آیا...جس نے سنا کھنچا چلا آیا...جنازے پر ایک جم غفیر تھا.. . گاؤں کے اطراف اتنی گاڑیاں تھیں کہ چھوٹے سے گائوں سے نکلتے آدھا گھنٹہ لگ گیا...خراج عقیدت سا خراج عقیدت تھا...

حافظ ظہیر کون تھا؟؟؟خود غرضوں،مفاد پرستوں اور ابن الوقتوں کے"بدبودار ہجوم"میں ایک بے لوث اجلا آدمی ...بڑے زمیندار گھرانے کا چشم و چراغ... سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا...آفرین !ماں باپ اور بہن بھائیوں نے اسے ساری زندگی بڑا بنا کر رکھا..."من گھڑت چودھریوں" کے زمانے میں وہ جینوئن چودھری تھا کہ خاندانوں اور نسلوں کا پتہ گفتار نہیں کردار سے چلتا ہے.۔.وہ "بھیس بدل "کر لاہور کی صحافتی دنیا میں 30سال گزار گیا... کسی کو پتہ ہی نہ چلا کہ اس" درویش" نے پیسوں کے لیے نہیں "صحافت کے شوق" میں آدھی زندگی بتا دی...اللہ بھلا کرے لاہور پریس کلب کے پروگریسو گروپ کا کہ اس نے چند برس پہلے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے لائف ممبر شپ دیکر انہیں عزت بخشی...

حافظ صاحب تمام تر" آزادیوں" کے باوجود بنیادی طور پر" اسلام پسند" آدمی تھے...علمائے کرام سے عقیدت تھی...میرے ساتھ کئی اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھے...اللہ نے حج عمرے کی سعادت بخشی...پریس کلب کی محفل حسن قرات و نعت کے ایک پروگرام  میں میرے کہنے پر ایک عمرہ پیکیج بھی دیا...لاہور پریس کلب کی خواتین ممبرز کا وفد سیالکوٹ گیا تو ڈاکٹر شمس کے ساتھ ساتھ وہ بھی میزبان تھے...

یادیں اتنی ہیں کہ سوچتا ہوں تو دیوانوں کی طرح یادوں میں کھو جاتا ہوں۔..کچھ جھلکیاں پیش خدمت ہیں...روزنامہ مقابلہ،آج کل اور خبریں میں اکٹھے کام کیا...ایک دوسرے کے کلب الیکشن دل و جان سے لڑے...میرے خلاف بات سنتے نہ میں نے کبھی کسی کو ان کیخلاف بولنے کی اجازت دی... ایک دوسرے کے گھر  اپنوں کی طرح آنا جانا تھا...طویل رفاقت میں کبھی ناراضی نہ ہوئی.۔.مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ دوستی کے اس رشتے کو" اٹوٹ انگ "بنانے میں ان کا حصہ زیادہ ہے..۔

2003 ءمیں میری لاہور پریس کلب کی ممبر شپ کے لیے فارم وہ لائے...جمع انہوں کرائے...پھر اسی بنیاد پر مجھے صحافی کالونی میں پلاٹ ملا... میرے پاس آج لاہور میں گھرہےتو اس کےپیچھےبھی حافظ صاحب کی "کاوش" ہے...2007ء میں پاکستان کامنفرد اخبار "آج کل" نکلا تو حافظ صاحب عمرے پر تھے...واپسی پر  ائیر پورٹ سے سیدھے اپنی اہلیہ کے ساتھ لارنس روڈ دفتر  آئے...باہر ہی کھڑے کھڑے ملاقات ہوئی...میں نے کہا نقوی صاحب نے  "ڈسٹرکٹ نیوز ایڈیٹر" کی سیٹ آپ کے لیے خالی چھوڑی ہوئی ہے...  جوائن کرلیجیے...چند روز بعد ٹیم کا حصہ بن گئے...حافظ صاحب نقوی صاحب اور راجہ صاحب پر بھی جان چھڑکتے...راجہ صاحب کے بیٹے عبداللہ کے ولیمے اور نقوی صاحب کے صاحبزادے حاذق کی بارات پر ہم اکٹھے تھے...راجہ صاحب کے پلاٹ پر حکم امتناعی میں ہم گواہ بھی تھے جبکہ  اپنی موجودگی میں چار دیواری کراکے  "لینڈ مافیا "کو  بھی"ماربھگایا"...!!!!!

حافظ صاحب کو بچھڑے 8دن ہوگئے...کل پہلی جمعرات ہے...اسی روز وہ اس جہان چلے گئے جہاں سے لوٹ کر کوئی نہیں آتا...یوں ہی" ماہ و سال "بیت جائینگے کہ قیامت کا نقارہ بج اٹھے گا...جنازے سے واپسی پر  دعا کی کہ اے اللہ کریم مجھے دکھا دے میرا یار کس حال میں ہے...؟؟؟حیرت ہوئی کہ مسافر کی دعا اتنی جلدی قبول ہو جاتی ہے...حافظ صاحب ابھی کل منگل کی صبح خواب میں ملے...ہمیشہ کی طرح  مسکراتے ہوئے... ہمیشہ کی طرح  جلدی میں دوستوں سے ملتے ہوئے کہ یار مجھے  پنڈ جانا ہے...!!!حافظ صاحب!اتنی بھی کیا جلدی...!! بوڑھے امی ابو، باجی ثمینہ,حسنات،انشراح اور ننھی منی زینب کا ہی خیال کر لیتے...!!!

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی.....!!!

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -