میو ہسپتال کے اندر ٹارچر سیل کا انکشاف، ہسپتال میں آنے والے افراد پر تشدد کی متعدد ویڈیوز سامنے آگئیں

میو ہسپتال کے اندر ٹارچر سیل کا انکشاف، ہسپتال میں آنے والے افراد پر تشدد کی ...
میو ہسپتال کے اندر ٹارچر سیل کا انکشاف، ہسپتال میں آنے والے افراد پر تشدد کی متعدد ویڈیوز سامنے آگئیں

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) میو ہسپتال میں  سیکیورٹی سپروائزر،سیکیورٹی گارڈز اور وارڈ اٹینڈنٹس کی جانب سے ہسپتال میں آنے والے افراد پر تشدد کا انکشاف ہوا ہے۔ملزمان کی جانب سے شہریوں پر ہسپتال کے کمرے میں تشدد کیا جاتا تھا۔

تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی سپروائزر ذوہیب اور دیگر عملے کی جانب سے شہریوں پر تشدد کی متعدد فوٹیجز بھی سامنے آئی ہیں۔ویڈیوز سامنے آنے پر ہسپتال انتطامیہ بھی حرکت میں آگئی ہے اور متعلقہ افراد کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب تھانہ گوالمنڈی کی چوکی میو ہسپتال پولیس نے مرکزی ملزم ذوہیب کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایس پی سٹی رضوان طارق کے مطابق ملزم  میو ہسپتال سیکورٹی سپروائزر کے طور پر کام کرتا ہے۔ملزم ہسپتال سے شکایات ملنے پر معصوم لوگوں پر تشدد کرتا،ملزم ہسپتال میں آنے والے غریب لوگوں پر تشدد کر کے باہر نکال دیتا۔ملزم کی ویڈیو وائرل ہونے پر فوری کارروائی عمل میں لائی گئی ۔ملزم ذوہیب کے خلاف مقدمہ درج کرکے  تفتیش شروع کردی گئی ہے۔کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دیں گے ۔قانون کی بالا دستی کو ہر صورت یقینی بنائیں گے۔عوام الناس کے جان و مال کی حفاظت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ نے فوٹیجز سامنے آنے پر دو ملازمین کو معطل کردیا ہے۔

مزید :

جرم و انصاف -علاقائی -پنجاب -لاہور -