پاکستان قدرتی آفات کے لحاظ سے ہائی رسک پر، ہرسال 2ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، ایشیائی بینک 

پاکستان قدرتی آفات کے لحاظ سے ہائی رسک پر، ہرسال 2ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، ...

  

 اسلام آباد(آن لائن)قدرتی آفات کے بارے میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے رپورٹ جاری کردی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے  پاکستان کو قدرتی آفات کے لحاظ سے ہائی رسک قراردیدیا۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہی زلزلے سے زیادہ ہے جب کہ پاکستان میں ہرسال قدرتی آفات سے 2ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ قدرتی آفات سے ہر سال اوسطاً 863 افرادجاں بحق ہوتے ہیں۔ قدرتی آفات کی تباہی سے پاکستان میں غربت بڑھتی ہے۔سیلاب، فصلیں، گھراورسامان سب تباہ کردیتا ہے۔پاکستان میں سیلاب وزلزلے کے باعث سب سے زیادہ لوگ غربت کا شکار ہیں۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ میں زیادہ تر لوگ غربت کا شکار ہیں۔ سیلاب پاکستان کے پسماندہ اضلاع کو مزید پسماندہ کردیتا ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ  پاکستان میں فصلوں کی انشورنس بہت محدود ہے، پاکستان میں صرف 2لاکھ 27ہزار کسانوں کی فصل انشورڈ ہے۔رپورٹ میں پاکستان میں سیلاب اور زلزلوں سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات  کو غیر تسلی بخش  قرار دیا گیا ہے۔  رپورٹ کے مطابق سیلاب اور زلزلے سے بچاؤ کیلئے ڈیزاسٹر رسک فنانس اپروچ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں حالیہ سیلاب سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔ تقریباً 20 لاکھ ھر اور کاروبار تباہ ہوئے۔ 7000 کلومیٹر سڑکیں بہہ گئیں اور 256 پل ٹوٹ گئے ہیں۔

قدرتی آفات

مزید :

صفحہ آخر -