وزیراعلیٰ خیبر کے آبائی علاقے میں جرائم بڑھنے لگے

وزیراعلیٰ خیبر کے آبائی علاقے میں جرائم بڑھنے لگے

  

پاک افغان سرحد پر واقعہ جنوبی و شمالی وزیرستان کا علاقہ تو شورش زدہ تھا ہی اب خیبرپختونخوا کے شہری مقامات بھی امن دشمن کارروائیوں کا گڑھ بنتے جا رہے ہیں۔سیاحتی مقام سوات کی تحصیل مٹہ میں جو وزیراعلیٰ محمود خان کا آبائی حلقہ ہے مسلسل دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں،اور تھانوں پر حملے، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے واقعات بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔ گزشتہ روز تحصیل مٹہ کے تھانے سخرہ پولیس چوکی پر نامعلوم دہشت گردوں نے حملہ کیا،فائرنگ اور دستی بموں سے کیے گئے اس حملے میں کئی ایک اہلکار زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دن دیہاڑے ہونے والے حملے کے بعد ضلع بھر کی پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ تحصیل مٹہ  کے علاقے بالا سور سے ہی ایک کاروباری شخص کو بھی اغواء کر لیا گیا جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے دہشت گرد تنظیم کے ایک گروپ نے اغواء کر کے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا ہے۔مغوی کے بھائی نے سی ٹی ڈی تھانہ میں درج کروائے گئے مقدمے میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ انہیں تاوان کی ادائیگی کے لیے افغانستان کے نمبر سے کال موصول ہوئی۔ متعلقہ وفاقی اور صوبائی ادارے وزیراعلیٰ خیبر کے علاقے میں اس قسم کی کارروائیوں کا نوٹس لیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

مزید :

رائے -اداریہ -