ملک و قوم کا مفاد 

 ملک و قوم کا مفاد 

  

 جناب من !!!!!!  ہم بچپن سے یہ الفاظ سنتے آئے ہیں کہ ہمیشہ سے اپوزیشن والے حکومتی پالیسیوں اوراقدامات کے بارے میں یہی کہتے چلے جاتے ہیں کہ وہ ملک اور قوم کے مفاد کے خلاف ہیں مگر وہی اپوزیشن جب سریرآراء سلطنت ہوتی ہے اور حکومت کی باگ ڈورسنبھالتی ہے تو وہی پالیسیاں اوراقدامات مجبورا کرنا  پڑتے ہیں توبڑی ہی ڈھٹائی سے ان کی توجیہات پیش کی جاتی ہیں گویا کہ صاحب پی لے توفیشن ہے جمن پی لے تونشہ ہے بقول شاعر:

دن تمھارے خوب ترہیں اورہماری شب غلط!!!

تم کروتوسب صحیح اورہم کریں توغلط!!!!

لگتاہے کوئی دوسراشامل ہے ان اغلاط میں !!!!!

کل تلک جوٹھیک تھا کیسے ہواوہ اب غلط !!!!!!!

جناب من!!!!!! بدقسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر ڈکٹیٹرشپ پیرتسمہ پا بن کر عوام پرمسلط رہی ہے جس میں حکومتی کارکردگی پر سوال و جواب شجرممنوعہ ہیں کہ اس میں عوام کو حکومتی معاملات سے بے خبررکھنا لابدی اور ضروری امرخیال کیاجاتاہے اور ہرڈکٹیٹراپنے آپ کوعقل کل خیال کرتاہے زبان حال سے یہ دعوی کرتا ہے بقول شاعر:

سارے عالم پرہوں چھایا ہوا !!!!

مستند  ہے  میرا  فرمایا  ہوا !!!!!

اس لیے اسکے منہ سے جوبھی نکلا اسے حرف آخر کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور اسکی ذاتی اور محدود سوچ کو ہی ملک اور قوم کے مفاد سے جوڑا جاتا ہے اور اگر کوئی بھی اسکی محدود سوچ سے اختلاف کی جرائیت کرے اسے ملک اور قوم سے غداری کامرتکب خیال کیا جاتا ہے اور یہی چیز ہمارے ہاں کارفرمارہی ہے کہ باوجودتمام تر قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے ہمارا ملک اس وقت آئی ایم ایف اور دیگر دجالی طاقتوں کا دست نگر ہوچکا ہے اور نام نہاد جمہوریت بھی اگر اس ملک میں آئی تو اس میں بھی چند لوگوں کی ذاتی رائے کوہی سیاسی پارٹیوں میں زبردستی ٹھونسا گیا اور اس طرح سیاسی  جماعتیں بھی بجائے حقیقی جمہوریت کی علمبردار ثابت ہونے کے موروثی جماعتیں بن گئیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک آزاد سوچ ہی ڈیویلپ (Develop) نہ ہوسکی اور حکمرانوں کوکسی قسم کے احتساب کا خوف ہی نہ رہا جسکے نتیجہ میں بجائے بہتری آنے کے ملک زوال پذیرہوتاچلاگیا اور ان حالات میں بھی جبکہ ایک تو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے تحت عوام پربے ہنگم طورپر ٹیکس لگائے جارہے ہیں تودوسری طرف سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجہ میں ایک قیامت کا منظرہے ان حالات میں بھی نام نہاد حکمران عیش و عشرت کی زندگی میں غرق ہیں اور کوئی انکو پوچھنے والا نہیں بقول اکبرالہ آبادی:

قوم کے غم میں ڈنرکھاتے ہیں حکام کے ساتھ !!!!!!!

رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ !!!!!!

مزید :

رائے -کالم -