نوشہرہ‘ واپڈا اہلکاروں نے لوٹ مار کی نئی داستان رقم کردی

نوشہرہ‘ واپڈا اہلکاروں نے لوٹ مار کی نئی داستان رقم کردی

  

نوشہرہ (بیورورپورٹ) نوشہرہ میں واپڈا اہلکاروں نے لوٹ مار کی نئی داستان رقم کردی، کرپٹ واپڈا اھلکاروں نے محکمے کو اپنی ذاتی انڈسٹری میں تبدیل کردیا، واپڈا پبی 3 کے انسپکٹرضیاء نے دیہاتوں میں اپنے ٹھیکدار مقرر کررکھے ہیں، ماھانہ لاکھوں روپے وصول کرنے لگا،گھریلو میٹروں پر مارکیٹیں اور انڈسٹریاں چلائے جانے کا انکشاف،بجلی چوری نہ کرنے والے صارفین کے میٹر ٹمپرڈ کرکے ان سے ڈیمانڈ کیا جاتا ہے،دفاتر کے چکروں سے قاصر صارفین کے میٹرٹمپرڈ کرکے ڈیفیکٹیو کوڈ ڈال کر ان سے بھاری جرمانے وصول کرکے بجلی چوری کے لاسز پورے کئے جاتے ہیں، واپڈا کی بجلی چور مافیا صارفین کو بجلی چوری پر مجبور کرنے لگے، سفید پوش اور شریف شہریوں کے کھمبوں پر لگے میٹروں کو ٹمپرڈ کرکے ڈیفیکٹیو کوڈ ڈال کر ان سے فی میٹر دس ھزار کی ڈیمانڈ کرتے ہیں، منظورِ نظر کنزیومر کورٹ صارف کو دھائی لاکھ کے بدلے ساڑھے چھ لاکھ معاف کردئیے دوسری طرف نوشہرہ میں کنزیومر کورٹ سے کیس جیتنے والے سفارش اور نذرانہ دینے سے محروم شہری دفاتر کے چکروں میں رل گئے،اس حوالے سے میڈیا ٹیم نے نوشہرہ کے مختلف علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا جس میں کرپشن اور بے قاعدگیوں کے ہوش ربا تفصیلات سامنے آئیں ہیں نوشہرہ کے سب ڈویژن پبی 3 بجلی چوری کو انڈسٹری کا درجہ دینے اور دیہاتوں کے دیہات ٹھیکے پر دینے میں سرفہرست ہے جہاں انسپکٹر ضیاء نے اپنے قوانین بنا رکھے ہیں مختلف دیہاتوں میں بجلی چوروں کیلئے اپنے ٹھیکے دار مقرر کررکھے ہیں جو ایک ایک میٹر کے کنڈوں پر درجنوں گھروں کو بجلی دیکر ان سے ماھانہ لاکھوں وصول کرتاہے جبکہ ان کنڈوں کی بجلی چوری کے لاسز ناجائز جرمانوں اووربلنگ میں ان شہریوں سے وصول کی جاتی ہے جو دفاتر کے چکروں سے قاصر ہوتے ہیں اسی طرح گھروں سیباہر لگے میٹروں کو ڈیفیکٹیو کوڈ میں ڈال کر انہیں بلیک میل کیا جاتاہے لیبارٹری سے بچنے کے نام پر ان سے فی میٹر دس ھزار وصول کئے جاتے ہیں، جی ٹی روڈ کے سنگم پر واقع پورے کے پورے مارکیٹ گھریلو میٹروں پر چلائے جارہے ہیں اسی طرح کنزیومر کورٹ سے ہونے والے فیصلوں میں بھی محکمے کو لاکھوں کاٹیکہ لگایا جاتاہے جس کی زندگی مثال تازہ ترین فیصلہ ہے کنزیومر کورٹ نے شہری کی اپیل پر2لاکھ 48ھزار معافی دی واپڈا حکام نے ذاتی جائیداد سمجھ کر شہری کو 6لاکھ 49ھزار روپے معاف کردئیے اور کرپشن کا معاملہ یہاں ختم نہ ہوا بلکہ کرپشن سامنے آنے پر واپڈا حکام نے اپنی ہی معافی کے خلاف مزید لاکھوں سے وکیل ھائرکرکے پشاور ھائی کورٹ میں اپیل دائر کی اس طرح محکمے کو دونوں طرف سے دھیمک کی طرح کھارہے ہیں ضلع نوشہرہ کرپٹ واپڈا اہلکاروں کیلئے یورپ بن چکا ہے نوشہرہ کی عوامی سماجی حلقوں نے محکمہ واپڈا کو دھیمک کی طرح چھاٹنے والے کرپٹ اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیاہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -