زور آور سنگھ کی کمان میں سکھ فوج نے لداخ فتح کیا اور جنوبی تبت میں داخل ہو گئی

 زور آور سنگھ کی کمان میں سکھ فوج نے لداخ فتح کیا اور جنوبی تبت میں داخل ہو گئی
 زور آور سنگھ کی کمان میں سکھ فوج نے لداخ فتح کیا اور جنوبی تبت میں داخل ہو گئی

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:43 

رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد پنجاب کی فوج پورے ہندوستان میں انگریز فوج کے بعد دوسری سب سے بڑی اور منظم فوج تھی۔ اس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ لاہور شہر میں داخل ہوتے وقت رنجیت سنگھ کی کل فوج صرف 8 ہزار غیر منظم سپاہیوں پر مشتمل تھی جو بہادر تو ہوں گے لیکن جدید جنگ کے فن سے نابلد تھے۔ لیکن 40 سال بعد 1838ءمیں اس فوج کی صورت حال مندرجہ ذیل تھی۔

29617پیدل فوج۔ کل ماہانہ تنخواہ 2 ، لاکھ 22 ہزار 6 سو ساٹھ روپے۔ 

3 گھڑ سوار دستے۔ عام سوار تعداد 4 ہزار نوے تھی اور کل تنخواہ 90 ہزار 90,000۔

 گھڑ سواروں کا خاص دستہ۔ تعداد تقریباً 11ہزار تنخواہ 32 لاکھ سے زائد۔

 توپ خانہ۔ توپوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار سے زائد۔ 188 بھاری توپیں اور 280 ہلکی توپیں توپچیوں کی کل تنخواہ 33,000 روپے۔

اس فوج میں شمولیت کےلئے کسی خاص مذہب سے تعلق کی پابندی نہیں تھی بلکہ ضروری شرط یہ تھی کہ سپاہی کا تعلق کسی جنگجو قبیلے یا برادری سے ہو۔ جاٹ، سکھ، ہندو راجپوت، مسلمان راجپوت، پٹھان، کھتری اور برہمن لڑاکا ذاتیں سمجھی جاتی تھیں۔ 

رنجیت سنگھ کی فوج کے کئی دیسی جرنیل بہت مشہور ہوئے ان میں سے کچھ کے نام یہ ہیں۔ ہری سنگھ نلوہ، اکالی پھولا سنگھ، مصر دیوان چند، حکما سنگھ چمینی، دیسا سنگھ مجیٹھیہ، دیوان محکم چند، فتح سنگھ دلے والیا، نہال سنگھ اٹاری والا، توپ خانے کا جرنیل چودھری غوث خان المعروف غوثا، پیدل فوج کا شیخ عبداللہ اور روشن خاں، گورکھا جرنیل بال بھدرا۔ 

اس زبردست فوجی طاقت کے ذریعے رنجیت سنگھ نے پنجاب کو متحد کیا اور بیرونی حملہ آوروں کی راہ میں دیوار بن گیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے دوسروں کے علاقے بھی فتح کیے جن میں پشاور اور دیگر افغان مقبوضات ، نیز کشمیر اور ملتان شامل ہیں۔ اس نے سندھ پر قبضہ کرنے کی بھی ٹھان رکھی تھی لیکن بوجوہ فوج کشی نہ کر سکا۔ رنجیت سنگھ کے جرنیل زور آور سنگھ کی کمان میں سکھ فوج لداخ کو فتح کرنے کے بعد جنوبی تبت میں داخل ہو گئی۔ یہاں زور آور سنگھ کو شکست ہوئی اور وہ مارا گیا۔ جبکہ تبتیوں نے ہزار سے زائد پنجابی گرفتار کر کے غلام بنائے اور انہیں پایہ تخت لہاسہ لے گئے۔ 

مہاراجہ رنجیت سنگھ روشن دماغ، ذہین ، بہادر اور زبردست قوت فیصلہ کا مالک انسان تھا۔ ناخواندہ ہونے کے باوجود اس نے نہایت دانائی سے کام لیتے ہوئے پنجاب کو متحد کیا اور جدید طرز کی فوج قائم کی اس نے اپنے سے بہت طاقتور انگریزوں کا ہوشیاری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ کبھی بڑہک بازی اور کھوکھلے دعوے نہیں کیے بلکہ طاقت کے توازن کا صحیح صحیح اندازہ کرتے ہوئے حقیقت پسندی کے ساتھ فیصلے کیے۔اسی طرح اس نے کسی بات کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ 

مہاراجہ نے فوجی طاقت کو نہایت احتیاط سے استعمال کیا اور ہمیشہ صلح و آشتی اور بات چیت کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب طاقت استعمال کیے بغیر بات بنتی نظر نہ آئی تو طاقت استعمال کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کیا۔ 

رنجیت سنگھ بردبار اور منصف مزاج حکمران تھا۔ اس کی اس صفت کو اس زمانے کے انگریز مورخ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ پرنسپ لکھتا ہے ”مہاراجہ کی طبیعت میں غصے کا دخل کم تھا۔ انتہائی طیش کے عالم میں بھی وہ کسی کو جان سے مار دینے کا حکم نہیں دیتا تھا“ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اس نے اپنے دور اقتدار میں کسی ایک شخص کو بھی سزائے موت نہ دی۔ اٹھارہویں صدی کے ترک، پٹھان اور مغل حکمرانوں کے ساتھ اس کا موازنہ کیا جائے تو وہ ان سے زیادہ عظیم اور قدآور شخص نظر آتا ہے۔ 

رنجیت سنگھ میں خامیاں بھی تھیں۔ اس کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ وہ امور سلطنت چلانے کے لیے مستقل ادارے قائم نہ کر سکا اور نہ ہی نظام حکومت بنا سکا۔ جب تک زندہ رہا ذاتی خوبیوں اور اچھائیوں کی وجہ سے ملکی نظام چلاتا رہا۔ دربار کو کنٹرول کرنے کے علاوہ فوج کو اپنی ذمہ داریوں اور حدود سے تجاوز نہیں کرنے دیا لیکن اس کے مرنے کے ساتھ ہی سارا نظام درہم برہم ہو گیا۔ دربار اختیار میں نہ رہا اور فوج بے لگام ہو کر پنجابی ریاست کو خود ہی کھانے لگی۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -