جسٹس کاٹجو: پاکستان کیوں ناگزیر ہے؟

جسٹس کاٹجو: پاکستان کیوں ناگزیر ہے؟

انڈین پریس کونسل کے چیئرمین (ر) جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں قیام پاکستان کے حوالے سے دو قومی نظریئے کو بالواسطہ اور بلا واسطہ دونوں طرح سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ نہ صرف بھارتی سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں، بلکہ تامل ناڈو اور یو پی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس بھی رہے ہیں اور ان کے بیانات اکثر بھارت کے اندر بھی مختلف طبقات کی جانب سے ہدف تنقید بنتے رہے ہیں۔خصوصاً دسمبر2012ءمیں ایک لڑکی جب جنسی درندگی کا نشانہ بننے کے بعد جان سے گئی تو بہت زیادہ احتجاج پر انہوں نے کہا تھا کہ جس ملک میں چند برس کے اندر ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کسان غربت کے ہاتھوں خودکشی کرلیں، وہاں محض ایک خاتون کی موت پر احتجاجاً آسمان سر پر اٹھا لینا عجیب سی بات لگتی ہے.... ان کے اس بیان پر بہت مخالفت سامنے آئی۔اس کے علاوہ ہندو دہشت گردی کے لئے انہوں نے بھارتی میڈیا کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا تو اس پر خاصی لے دے ہوئی۔اس کے باوجود ان کا تاثر ایک اعتدال پسند ہندو دانشور کے طور پر ہوتا ہے۔اسی پس منظر میں بعض حلقوں کی رائے ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے اکثر مبصرین متفق ہیں کہ آنے والے برسوں میں ممکنہ طور پر بھارت کے اندر کئی اور پاکستان وجود میں آ سکتے ہیں اور برہمنی سیکولرازم کا یہ مسخ چہرہ اس سوال کا حقیقی جواب ہے کہ پاکستان کیوں ناگزیر تھا اور ہے؟

اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے قومی ڈھانچے میں بہت سی کوتاہیاں موجود ہیں، جن کو دور کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، مگر یہ امر ملحوظِ خاطر رہنا چاہیے کہ خود احتسابی اور خود مذمتی میں ایک باریک سی حد فاصل ہوتی ہے۔بدقسمتی سے وطن عزیز کے دانش وروں کے ایک بڑے حلقے کے نزدیک اجتماعی طور پر خود کو بُرا بھلا قرار دینا ہی ”دانش“ کی علامت بن کر رہ گیا ہے، وگرنہ اپنی کوتاہیوں کی نشان دہی کے ساتھ ان مسائل کے ٹھوس اور قابل عمل حل بھی تجویز کئے جانے چاہئیں۔ یہ امر بھی پیش نظررہنا چاہیے کہ خدانخواستہ ہماری قومی سلامتی اور اس کے محافظ اداروں کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اجتماعی طور پر ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ بھارت کے جمہوریت اور سیکولرازم کے تمام دعوﺅں کے باوجود 20کروڑ کے لگ بھگ ہندوستانی مسلمان آج بھی دوسرے ہی نہیں، بلکہ تیسرے درجے کے شہری ہیں۔

ایک انسان دوست بنگالی ہندو دانشورشرت بسواش نے کچھ عرصہ پہلے بی بی سی کی ہندی سروس میں بھارتی مسلمانوں کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلاشبہ بھارت میں ڈاکٹر ذاکر حسین، فخر الدین علی احمد اور عبدالکلام کو صدارت کے منصب پر فائز کیا گیا اور ممبئی کی فلم انڈسٹری میں بھی چند مسلمان اداکار اہم مقام کے حامل رہے ہیں، مگر اس سے آگے بھارتی مسلمانوں کے ضمن میں کوئی اچھی خبر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے 9مارچ 2005ءکو جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں مسلمانوں کا احوال جاننے کے لئے جو سچر تحقیقاتی کمیٹی بنائی تھی، وہ 30نومبر2006ءکو اپنی رپورٹ پیش کر چکی، مگر بھارتی مسلمانوں کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہوگئی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق بھارت کے دیہی علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی 94.9 فیصد تعداد خطِ افلاس سے نےچے اور شہری علاقوں میں 61.1فیصد غریبی سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔دیہی علاقوں کی 54.6فیصد اور شہری علاقوں کی 60فیصد آبادی نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا۔دیہی علاقوں میں مسلم آبادی کے 0.8اور شہری علاقوں میں 3.1مسلم گریجوایٹ ہیں اور 1.2پوسٹ گریجوایٹ ہیں۔

مغربی بنگال کی کل آبادی کا 25فیصد مسلمان ہیں، مگر سرکاری نوکریوں میں یہ شرح 4.2ہے۔آسام میں یہ شرح 40فیصد، مگر نوکریاں 11.2فیصد۔کیرالا میں 20فیصد آبادی کے پاس 10.4فیصد سرکاری نوکریاں ہیں، البتہ کرناٹک(سابقہ میسور ٹیپو سلطان والا) میں 12.2فیصد مسلم آبادی کے پاس نسبتاً بہتر، یعنی 8.5فیصد نوکریاں ہیں۔بھارتی فوج اور متعلقہ سلامتی کے اداروں نے اپنے یہاں سچرکمیٹی کو سروے کی اجازت ہی نہیں دی، مگر عام رائے ہے کہ ان اداروں میں شرح کسی طور بھی 3 فیصد سے زائد نہیں۔اس تصویر کا یہ رخ اور بھی بھیانک ہے کہ مہاراشٹر میں مسلمان کل آبادی کا 10.6فیصد سے کم ، مگر یہاں کی جیلوں میں موجود قیدیوں کا 32.4فیصد حصہ مسلمان ہے۔دہلی کی آبادی میں مسلمان حصہ 11.7فیصد، مگر یہاں کی جیل میں قیدیوں کا 27.9فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔صوبہ گجرات کی جیلوں میں بند کل افراد کا 25.1فیصد مسلمان ہیں، جبکہ آبادی میں یہ تناسب محض9.1کا ہے۔کرناٹک کی جیلوں میں 17.5مسلمان بند ہیں، جبکہ آبادی میں یہ تناسب 12.23ہے۔

مہاراشٹر میں جیلوں میں ایک برس سے زائد بند قیدیوں کا 40.6بھارتی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔یہ المیہ بھی قابل توجہ ہے کہ جیلوں میں بند بھارتی مسلمانوں کی بھاری اکثریت دہشت گردی یا دیگر سنگین جرائم میں ملوث قرار نہیں دی گئی۔بھارتی پولیس نے محض شبہ میں انہیں معمولی جرائم کے تحت بند کر رکھا ہے۔بھارتی مسلمانوں کو اس عجیب صورت حال سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے کہ بی جے پی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں کہتی ہیں کہ کانگرس نے مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے ،جبکہ کانگریس سمیت تمام پارٹیاں، انڈین آرمی، خفیہ ادارے، پولیس ، میڈیا اور عدلیہ کا بڑا حصہ ان کی حب الوطنی کو مشکوک سمجھتا ہے۔بنکوں سے انہیں قرضہ ملنا تو دور کی بات، اپنے آبائی علاقوں کے باہر انہیں کرائے پر مکان یا دکان بھی دی جانی معیوب سمجھی جاتی ہے۔تبھی تو کثیر الاشاعت بھارتی اخبار”انقلاب“ نے اپنی 8اگست 2011ءکی اشاعت میں ”سچر کمیٹی کی رپورٹ سے متعلق سرکاری دعوے کھوکھلے“ کے عنوان سے نیوز رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے کہا ہے کہ 5برس کا عرصہ گزرجانے کے باوجود سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں ہوا۔

وطن عزیز کے سبھی حلقوں کو بھارتی مسلمانوں کی حالت زار کو سامنے رکھنا چاہیے اور خود احتسابی اور خود مذمتی میں فرق ملحوظ رکھا جائے کہ باشعور اور زندہ قوموں کا یہی طریقہ ہوتاہے۔اس بابت اصل ذمے داری مقتدر طبقات....(بھلے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں)....اور سول سوسائٹی پر عائد ہوتی ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ جسٹس مرکنڈے کاٹجو جیسے انسان دوستی کے دعویدار بھی ان زمینی حقائق پر خاطر خواہ توجہ دیں گے اور تسلیم کرلیں گے کہ پاکستان کا قیام کیوں ناگزیر تھا اور ہے۔      ٭

مزید : کالم