ریاستی غنڈہ گردی کے خاتمہ سے عالمی امن قائم کیا جائے

ریاستی غنڈہ گردی کے خاتمہ سے عالمی امن قائم کیا جائے

اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ بدستور چند بڑی طاقتوں کے نرغے اور تسلط میں چلا آ رہا ہے۔اس کے اہم اغراض و مقاصد میں، عالمی امن کا قیام اور غریب و کمزور ممالک کے لوگوں کے انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے حصول و تحفظ پر خصوصی طور پر زور دیا گیا ہے، لیکن عملی طور پر امریکی حکومت نے چند دیگر اتحادی ممالک کو ساتھ ملا کر اس کی کارکردگی اور تدبیر سازی پر اپنی غیر قانونی اجارہ داری اور بالادستی قائم رکھنے کی حکمت عملی اختیار کررکھی ہے۔اس طرح وہ چند طاقتیں، اپنی مرضی اور کارروائیوں کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے اور خطے میں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کو پامال کرنے کی الزام تراشی کرکے دیگر ممالک پر اپنی مسلح افواج سے حملہ آور ہونے کا وحشیانہ انداز اپنا لیتی ہیں۔ وہ طاقتیں، بعض اوقات مسلم ممالک پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کا الزام لگا کر اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی میں ملوث ہو کر وہاں بھی مداخلت کاری سے گریز نہیں کرتیں۔گزشتہ دو سال کے دوران لیبیا اور شام میں تمام متعلقہ اصولوں اور اقوام متحدہ کے منشور کو نظر انداز کرکے مداخلت کی گئی جو شام میں اب تک جاری ہے،جس میں 70ہزار سے زائد افراد موت سے ہمکنار ہوگئے ہیں۔

کیا اقوام متحدہ کے منشور میں ایسی کوئی شق موجود ہے؟ جس میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو، اپنی خواہش اور ضرورت کے مطابق دیگر ممالک پر فوج کشی کی کھلی چھٹی اور آزادی دی گئی ہے؟ ان ممالک میں جان و مال کے نقصانات بھی ہدف ممالک کے لوگوں کی ہلاکت اور املاک کی تباہی و بربادی کے ہی ہوتے ہیں، نیز وہاں انسانی زندگی کی ضروری سہولتیں، مثلاً سکول، کالج، ہسپتال، تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر اور اداروں کو فضائی بمباری اور ڈرون میزائلوں کی تخریب کاری سے تباہ کیا جارہا ہے۔غور طلب امر یہ ہے کہ ان ممالک میں سیاسی قیادت کا انتخاب تو وہاں کے مقامی عوام کو کرنے کا آئینی حق اور اختیار حاصل ہے،جس کے مطابق منتخب قائدین کو وہاں آئینی عرصوں کے لئے برسراقتدار رہنے کے لئے عوام کا تعاون حاصل ہونا چاہیے، لیکن غیر ملکی طاقتوں کو ایسا کوئی قانونی حق اور جواز استعمال کرنے کا اختیار حاصل نہیں کہ وہاں کی سیاسی قیادت کو محض اس لئے تبدیل کرنے کی خواہش اور کوشش کی جائے کہ وہ حکمران امریکی حکومت کی من پسند پالیسیوں کو اپنے ممالک میں نافذ اور جاری کیوں نہیں کرتے؟

امریکی حکومت نے سابق صدر بش سینئر کی قیادت میں عراق میں اپنی فضائی اور بری افواج سے حملہ کیا ، قبل ازیں عراق نے کویت پرفوج کشی کرکے اپنی جارحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔غیر جانبدار تجزیہ کاروں کی آرائ، کویت پر فوج کشی کی ذمہ داری بھی اس وقت کی امریکی حکومت پر زیادہ تر ہی متفق ہوتی آئی ہیں۔یہ دونوں ممالک مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل ہیں۔ ان حملوں میں ہزاروں لوگوں کو قتل و معذور کرنے کے علاوہ ملک کے طول و عرض میں ان کی املاک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔یہ واقعات، اگست 1990ءسے 1991ءکے آغاز میں رونما ہوئے۔بعدازاں مارچ 2003ءمیں ، امریکی حکومت نے دوبارہ عراق پر، وسیع پیمانے پر فوج کشی کرکے انسانی قتل و غارت کے جرائم کے ارتکاب کا آغاز کیا ،جو تاحال جاری ہے، حالانکہ امریکی حکومت کے صدر اور وزراءکے اخباری بیانات کے مطابق حملہ آور غیر ملکی افواج ،جو جنگی کارروائیوں پر مامور تھیں، وہ عرصہ زائد از ایک سال قبل وہاں سے واپس اپنے ممالک واپس جا چکی ہیں،لیکن ذرائع ابلاغ سے پتہ چلتا ہے کہ عراق میں تادم تحریر پُرہجوم مقامات اور اہم مواقع پر بہت قوت اور شدت سے بم دھماکے وقوع پذیر ہونے کا تسلسل جاری ہے، جن میں لاتعداد بے قصور افراد، معصوم بچے اپنی قیمتی خانوں سے محروم ہورہے ہیں۔

افغانستان میں لاکھوں افراد کے قتل عام کے باوجود امریکی حکمران اب تک دہشت گردی کی خودساختہ الزام تراشی اور افواہ سازی کی اصطلاحات میں طالبان اور القاعدہ کو ملوث کررہے ہیں۔ان حالات میں امریکہ اپنی بین الاقوامی سطح پر رواں اور مسلط ریاستی غنڈہ گردی ترک کرکے، عالمی امن پر توجہ مرکوز کرے۔قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ اقوام متحدہ کے موجودہ ڈھانچے میں چند سال قبل موجودہ حالات کے مطابق کچھ اصلاحات کے نفاذو اجرا کی کارروائیوں پر غوروفکر شروع کیا گیا تھا،کیونکہ اس عالمی ادارے کے موجودہ ارکان کی تعداد بڑھ کر اب 193ممالک تک پہنچ گئی ہے۔1945ءمیں اس کی بنیاد رکھنے کے وقت یہ تعداد محض 51 تھی۔ اب بھی سلامتی کونسل میں پانچ ارکان امریکہ، برطانیہ،فرانس، روس اور چین کو ہی عالمی سطح کے اہم امور پر بحث و تمحیص اورانہی پانچ بڑی طاقتوں کو اپنا ویٹو استعمال کرنے کا حق و اختیار حاصل ہے، جس کی بنیاد پریہی وہ طاقتیں ہیں،جودنیا کے کسی ملک اور خطہ ءارض میں جارحیت، مداخلت، غنڈہ گردی ، ریاستی دہشت گردی اور تخریب کاری کو جاری یا ختم کرنے کی پالیسی اختیار کرسکتی ہیں۔

افغانستان میں گزشتہ تقریباً 12سال سے امریکی اتحادی طاقتوں کی فوج کشی، جارحیت اور تباہ کاریاں، بدقسمتی اور بدنیتی سے انہی اختیارات اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے ناجائز استعمال کے ذریعے تاحال جاری رکھی گئی ہیں۔عراق پر حملہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ نے کوئی قرارداد منظور نہیں کی تھی، لیکن بش حکومت چونکہ ایسا کرنے کی تیاری کرچکی تھی، وہاں اس عالمی ادارے کی مرضی اور منظوری کے بغیر ہی عراق پر مسلح اتحادی افواج کے ذریعے چڑھائی کردی گئی اور وہاں تیل کے قیمتی ذخائر پر قابض ہونے کے لئے، بین الاقوامی قوانین کو دن دہاڑے پامال و برباد کیا گیا۔شام پر امریکی حکومت کی جارحانہ پالیسی تاحال جاری ہے، وہاں شب و روز مقامی لوگ اپنے جان و مال سے محروم ہورہے ہیں، جن کی اکثریت مسلم آبادی والے علاقوں کی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی مجوزہ اصلاحات میں پاکستان اور دیگرمسلم ملک کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا حق و اختیار دیا جائے ۔ ٭

مزید : کالم