مجموعہءتضادات!

مجموعہءتضادات!
مجموعہءتضادات!

  

مَیں سےد ہوں ۔آلِ رسول ، چھ مرتبہ مجھے خانہ کعبہ کے اندر جانے کا موقع ملا ۔ بےت اللہ کی چھت پر چڑھ کر تکبےر بلند کی .... جو سعادت مجھے حاصل ہوئی، وہ دنےا کے کِسی مُسلم سربراہ مملکت کو حاصل نہ ہو سکی ۔

” سےدپرویز مشرف “ کی یہ اصطلاح ماضی کے عوامی لےڈر شےخ رشےد نے اُس وقت متعارف کرائی تھی جب پروےز مشرف کے عےن عروج کے دورمےں لاکھوں کے مجمعے سڑکوں پر ” گو مشرف گو “ کے نعرے بلند کر رہے تھے ۔ شےخ رشید جِس کے ساتھ ہوتے ہےں ،زمےن و آسمان کے قلابے ملا کر اُسے ” آسمان ستائش “ پر چڑھا دےتے ہےں ۔ مشرف کے گندے پوتڑے دھونے کی ذِمہ داری کوئی آسان کام نہےں تھا ۔ شےخ رشید نے ےہ ذِمہ داری نہ صِرف خوب نبھائی، بلکہ پروےزمشرف کی وہ خوبےاں تک ” ڈھونڈ نکالیں“ جو مشرف ” بے چارے “ پر خود بھی شیخ رشیدکے بیانات کے بعد ” منکشف “ ہوئی تھےں ۔ مطلوبہ ”نتائج “ نہ ملنے پر دس بار وردی کے اندر ” صدر مملکت منتخب “ کرنے والے تو سب سے پہلے ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔ پھر شےخ رشےد نظر آئے اور نہ خوش گفتار علی درانی ،لدھڑ منارہ کی ” آخری آرام گاہ “ مےں مدفون چودھری الطاف حسےن کا بھتےجا فواد چودھری بھی ” آہنی جنرل “ کو چھوڑ کر مشرف بہ زرداری ہو گےا ۔بےرسٹر محمد علی سےف، جو کبھی دبئی کی بلند و بالا عمارت مےں جنرل کو لاکھوں ممبرز اور تنظےمی رہنما¶ں کی تفصےلات بتاےا کرتا تھا ” نظرےاتی اختلافات “ کا شکار ہو کر الطاف حسےن کی ” حق پرست “ جماعت مےں شامل ہونا چاہتا ہے۔

پاک فوج کے کم اورپرویز مشرف کے لئے زےادہ ”نفس ناطقہ “ کے طور پر کام کرنے والے ” قرےشی “ بھی کہےں غائب ہےں ۔ کراچی مےں آسےہ اسحاق سےکرٹری اطلاعات کے طور پر اور مرغےوں کے کاروبار سے وابستہ ڈاکٹر امجد ” سعادت مند جنرل “ کے ساتھ رہ گئے ۔ خِدمات کے اعتراف ےا قحط الرجالی کے باعث ڈاکٹر امجد ” مقبول پارٹی “ کے سےکرٹری جنرل بنا دئےے گئے ۔ جنرل نے اےسی بے وفاقی و تنہائی کا تصور کبھی خواب مےں بھی نہیںکےا ہو گا .... مگر ےہ دنےا اےسی ہی ہے ۔مفادات کے حصول کے لئے کچھ نامی گرامی خواتےن و حضرات خود سےڑھی بن گئے تھے ۔ کچھ نے ” کرےم جنرل “ .... KIND GENRAL ....کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے حےدر آباد کی بی بی شاہ ، کئی عزےزاﺅں ، کئی طارقاﺅں کو ” بطور سےڑھی “ استعمال کےا اور جنرل کی بلند و بالا عمارت مےں داخل ہو گئے ۔ آج جنرل ان سعادت مندوں کو بے وفا ،جھوٹے لوگ ، مفاد پرست اور نہ جانے کِن کِن ناموں سے ےاد کرتا ہے ۔

آسےہ و امجد کی آواز پست ہے، اس لئے ” بے چارے “ جنرل کو خود اپنی سعادت مندی ثابت کرنے کے لئے بےت اللہ کی چھت کی کہانےاں بےان کرنے اور آلِ رسول ثابت کرنے کے لئے کےا کےا پاپڑ بےلنے پڑتے ہےں ۔ پروےزمشرف کی زندگی مےں ٹھہرا¶ نہےں ۔ آگرہ مےں واجپائی ، اےڈوانی اور جسونت سنگھ کو اےسی سناتا ہے کہ لوگ واہ واہ کر اٹھتے ہےں ، پھر امرےکہ کے دبا¶ پر ”کشمےرےوں “ سے دغا بازی و بے وفائی کا اےسا وار کرتا ہے ، جےسا اُن کے کھلے دشمن بھارت نے بھی نہ کےا ہو گا ۔غےر مستقل مزاجی اور شخصی تضاد کے لئے صِرف کشمےر ہی نہےں ،بے شمار مثالےں موجودہےں ۔اُسے”مجموعہ تضادات“ کہنے میں کوئی برُائی نہیں۔

چک شہزاد کی ” محفوظ و پُرسکون “ رہائش گاہ مےں علماءسے ملاقات مےں اےک جانب موصوف نے آلِ رسول ہونے کا دعویٰ کےا اور دوسری جانب سماجی رابطے کی وےب سائٹ کے اپنے صفحے پر اپنے ” کتے چی “ کی تصوےر آوےزاں کی ۔ غم تنہائی دور کرنے کے لئے موصوف ” ”چی“ سے شغل فرما رہے ہےں ۔ تصوےر کے نےچے موصوف نے تحرےر کےا ہے کہ مےری ماں ” بےگم زرےں مشرف “ اِسے دنےا کا خوبصورت ترےن کتا کہتی ہیں ۔

بلاول نوڈےرو مےں مزار شہداء پر منعقد ہونے والی تقارےب مےں اپنی ماں اور نانا کے قاتلوں کو کٹہرے مےں لانے اور انصاف کے حصول کی بات کرتا رہاہے ، مگر کسے معلوم نہےں کہ غاصب جنرل کے خلاف آئےن توڑنے اور بے نظےر بھٹو کے قتل کی کارروائی نہ کرنے کا ذِمہ دار کون ہے ؟....جنرل پروےز مشرف کے ” آئےنی و آہنی “ اقدامات کے خلاف انصاف فراہم کرنے والی سب سے بڑی عدالت مےں مقدمہ شروع ہو چکا ہے ۔ عدالتی فےصلے اپنی جگہ، مگر ” بہادر جنرل “ کِسی عالمی ضمانت کے بغےر کِسی بھی صورت میں پاکستان نہ آتے ۔ اُس ضمانت نامے کا کےا ہو گا جو خادم اعلیٰ کے مشورے نہےں، بلکہ ” بڑے خادمےن “ کے حکم پر تےار کےا گےا ؟؟ ضمانت نامہ جس کے باعث پرویز مشرف کے دفاع کے لئے اُس کے گھر پر طےارے پرواز کرتے ہےں۔

پروےز مشرف صاحب!.... قرآن مےں مےرا رب کہتا ہے کہ ” بے شک مےری پکڑ بڑی سخت ہے “۔ قوم کے بےٹے ہی نہےں بےٹی بھی آپ نے غاصب امرےکا کو بےچ دئےے ۔ حق گوئی کے باعث مجھ ناچےز جےسے سےنکڑوں لوگ آپ کے انتقام کی بھےنٹ چڑھ کر نہ صرف تشدد کا نشانہ بنے ،بلکہ جن کے پےارے ” گم “ کر دئےے گئے اور مےرے چاند سمےت سےنکڑوں کو گم کر کے آپ کے مصاحبےن نے انہیں ”طالبان“ کی فہرست مےں ڈال دےا ۔ جنرل صاحب! ” چی کتا “ آپ کو سکون نہےں دے گا ۔ سکون استغفار اور مےرے رب کی ےاد مےں ہے ۔ روکے، گڑگڑا کے معاف کرنے والے کے سامنے سجدہ رےز ہو جائیں ،شاےد بخشش ہو جائے ۔ آل رسول کے گھمنڈ سے نکل جائیں۔    ٭

مزید : کالم