پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری

پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی ساست کے آغاز سے حکومت تک اور حکومت سے ضےاءالحق کے شب خون اور شب خون سے پھانسی کے پھندے تک بے شمار اےسے کام کئے جو انہیں تارےخ مےں زندہ رکھنے کے لئے کافی ہےں ۔ مےرا موضوع ذوالفقار علی بھٹو ےا ان کے کارنامے نہےں ، مےرا موضوع وہ سچ ہے جسے سن کر پاکستان پےپلز پارٹی کے رہنما کبوتر کی طرح آنکھےں بند کر لےتے ہےں ۔ ٹی وی کے کسی ٹاک شو مےں بھی جب پاکستان پےپلز پارٹی کے رہنما مےاں محمد نواز شرےف کو آمرےت کی پےداوار کہتے ہےں تو جواب آں غزل کے طور پر سامنے سے جواب آتا ہے.... ” ذوالفقار علی بھٹو کے بارے کےا خےال ہے جو فےلڈ مارشل کو ڈےڈی کہا کرتے تھے؟ “ بس پراب پےپلز پارٹی والے آئےں بائےں شائےں کرنے کے علاوہ کچھ نہےں کر سکتے ۔ اس موضوع پر بھی بات ہو سکتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور مےاں نواز شرےف مےں کےا فرق ہے ؟لےکن مےرا موضوع ےہ بھی نہےں،بلکہ مَیں صرف ےہ بتانا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سےاسی زندگی کی ابتداءمارشل لاءکے” گملے “سے ہوئی ۔ کوئی بھی ذی شعور اس حقےقت سے انکار نہےں کر سکتا کہ اگر ” برگد “ کا درخت ” گملے “ مےں لگا دےا جائے تو آخر کا اسے ” گملے “ سے نکال کر دھرتی ماں کی چھاتی مےں لگانا پڑتا ہے اور جب اسے دھرتی ماں کے سپرد کر دےا جائے تو پھر وہ کسی کا محتاج نہےں رہتا ۔ اس کی جڑےں دھرتی ماں کے سےنے مےں دور تک پھےلتی چلی جاتی ہےں ۔ جےسے جےسے اس کی جڑےں دھرتی ماں کی تہہ مےں مضبوط ہوتی جاتی ہےں ، اسی قدر اس کا ساےہ گہرا اور پُر سکون ہوتا جاتا ہے، جو دھوپ کے جلے ، موسم کی بے رحمی کے ستائے لوگوں کو اپنے سائے مےں سکون فراہم کرتا ہے ۔ ےہی نہےں ،بلکہ موسم کے ستائے پرند چرند بھی اس کی شاخوں پر پناہ لےتے ہےں ۔ ذوالفقار علی بھٹو بلاشبہ پاکستان کی بنجر سےاسی سر زمےن پر ” برگد “ کا اےک اےسا درخت تھا ،جو اےک آمر کے ” گملے “ مےں پھوٹا ضرور ،لےکن جب اس بنجر سےاسی سر زمےن پر اس ” برگد “ کو جگہ ملی تو پھر جو کچھ اس ملک کی سےاست کو ملا اور جس طرح ہر گدھا گاڑی والے ، کوچوان ، مزدور ، ہاری ،کسان ، طالب علم ، فےکٹری مزدور اور خواتےن کو سےاسی زبان ملی ، وہ بھی اےک الگ موضوع ہے ۔

اس سےاسی ” برگد “ کے سائے مےں بہت سے لوگوں نے پناہ لی ۔ جن لوگوں کو اےک مخصوص حلقے سے باہر کوئی جاننے والا بھی نہےں تھا، انہوںنے بھی اس ” برگد “ کے سہارے آسمان کی بلندےوں کو چھونے کی کوشش کی ۔ ان مےں غلام مصطفے کھر ، افتخار تاری ، ممتاز کاہلوں ، مختار رانا ، راﺅ خورشےد علی خان ، معراج محمد خان اور احمد رضا قصوری سر فہرست ہےں ۔ آج مےرا موضوع احمد رضا قصوری ہےں ۔ جو کسی مارشل لاءکی پنےری نہےں تھے بلکہ انھوں نے اےک سےاسی ” برگد “ کے سائے مےں اپنی سےاسی زندگی کا آغاز کےا ۔ اس سےاسی زندگی مےں اپنے قد کو بڑھانے کے لئے11 نومبر1974 ءکو وزےر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر ےہ الزام عائد کےا کہ وزےر اعظم کے حکم پر اےف اےس اےف کے اہلکاروں نے ان پر قاتلانہ حملہ کےا ،جس کے نتےجے مےں ان کے والد نواب محمد احمد خان ہلاک ہو گئے ۔ جب وہ ےہ الزام عائد کر رہے تھے، اس وقت پنجاب مےں پاکستان پےپلز پارٹی کی حکومت تھی ۔ وہ چاہتی تو ےہ الزام اخبارات کی چند روزہ سرخی بننے کے بعد ختم ہو جاتا ،لےکن پاکستان پےپلز پارٹی کی مرکزی ےا صوبائی حکومت نے اس مسئلے پر کسی قسم کی کوئی مداخلت نہ کی ۔ مقدمہ کی اےف آئی آر درج ہوئی ۔ تفتےش مےں احمد رضا قصوری اپنا لزام ثابت نہ کر سکے اور اےک بار پھر سر نیہوڑائے پاکستان پےپلز پارٹی مےں واپس آ گئے ۔ ےہ ذوالفقار علی بھٹو کی سےاسی حکمت تھی کہ انہوںنے اپنی پارٹی کے دروازے احمد رضا قصوری پر بند کرنے کی بجائے کھلے رکھے ۔ احمد رضا قصوری کی پاکستان پےپلز پارٹی مےں واپسی ہی ان کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی تھی اور ےہی ذوالفقار علی بھٹو عوام پر ثابت کرنا چاہتے تھے ۔

 ےہ ” ٹارزن “ کی واپسی نہےں تھی ۔ اس واپسی مےں خلوص کا رنگ بھرنے کے لئے ےکم جنوری 1977 ءکو قومی اسمبلی مےں جو تقرےر کی وہ خاصی اہمےت اور ان کی نےچر سمجھنے کے لئے کافی اہم ہے ، اس کا حوالہ دےنے سے پہلے ےہ جان لےں کہ جب کوئی تعرےف کی بھوکی خاتون کسی ملنے والے کے گھر جاتی ہے تو پہلی بات ےہ کرتی ہے.... ” اف ، اللہ راستے مےں آوارہ لڑکے کھڑے ہوئے تھے ۔ انہوں نے مےرے بارے مےں اتنے فضول فقرے کسے کہ مَیں غصے سے بھڑکتی آپ کے گھر تک پہنچی ہوں۔ “ مقصد صرف اپنے کردار کی تعرےف کروانا ہوتا ہے ۔ اب کون دےکھے گاکہ اس کے من مےںکےا ہے ےا جا کر ان فقرے کسنے والے لڑکوں کوکون تلاش کرے گا ۔ اسی طرح ااحمد رضا قصوری نے ذوالفقار علی بھٹو کی زرعی اصلاحات پر ےکم جنوری 1977 کو تقرےر کی ابتدا ان الفاظ سے کی: ” مَےں چاپلوس ےا خوشامدی نہےں ہوں “....اپنی خوشامد پسند نےچر پر چاپلوسی کی تہہ جماتے ہوئے موصوف نے کہا ” مجھے آج کہنا پڑے گا کہ مسٹر بھٹو کا نام تارےخ مےں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا، کےونکہ انہوںنے پاکستان کو مضبوط اور مستحکم کر دےا ہے “۔زرعی اصلاحات کے موقع پر اس چاپلوسی اور خوشامد کا مقصد آنے والے انتخابات مےں پارٹی ٹکٹ کا حصول تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو اےک سےاسی رہنما ہی نہےں، سےاسی دانشور بھی تھے ۔ وہ احمد رضا قصوری کی واپسی سے جو مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ حاصل ہو چکا تھا، اس لئے انھوں نے اےک سوراخ سے دوسری بار ڈسے جانے سے بہتر جانا کہ اسے پارٹی ٹکٹ نہ دےا جائے۔

 پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر احمد رضا قصوری زخمی ناگ کی طرح انتقام کی آگ مےں جھلس رہا تھا ۔ اےسے مےں انتخابات کے بعد جمہوری حکومت کے خلاف اےک عوامی تحرےک اور اس تحرےک کے نتےجے مےں ہونے والے مذاکرات کامےابی کی سرحد پر پہنچے تو چےف آف آرمی سٹاف کا شب خون اور پھر بوٹوں کی دھمک نے انتقام کی آگ مےں جلنے والے احمد رضا قصوری کو اےک راستہ دکھاےا۔ جمہورےت کے سائے مےں سےاسی آنکھ کھولنے والا پکے پھل کی طرح آمر کی گود مےں جا گرا ۔ احمد رضا قصور ی نے اپنی ےکم جنوری 1977 ءکی تقرےر کو پس پشت ڈالتے ہوئے اےک آمر کے ہاتھ مضبوط کرنے اور اےک جمہوری وزےر اعظم کو انتخابات مےں پارٹی ٹکٹ نہ دےنے پر جمہورےت کے پودے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے پنے والد کے قتل کی فائل دوبارہ کھلوائی ۔ قتل کا ےہ مقدمہ براہ راست ہائی کورٹ میں پہنچا تو ہائی کورٹ نے موت کی سزا سنائی، جسے سپریم کورٹ نے بحال رکھا۔

پھرجب اےک دوسرے آمر پروےز مشرف نے اکبر بگٹی اور بے نظےر بھٹو کے قتل کو فراموش کر کے ،لال مسجد کی حفاظ بےٹےوں اور بےٹوں کی شہادت کو نظر انداز کر کے ، اعلیٰ عدلےہ کے ججوں کی گرفتاری کو بھول کر ، کراچی مےں کئے گئے طاقت کے مظاہرے اور آئےن کودو بار تماشا بنانے کے باوجود پاکستان واپس آنے کا فےصلہ کےا ، صرف فےصلہ ہی نہےں کےا واپس آبھی گےا تو احمد رضا قصوری اےک بار پھر بغل مےں فائل دبائے اس آمر کی وکالت کے لئے اعلیٰ عدالتوں کی راہ دارےوں مےں نظر آنے لگے ۔ پاکستان سپرےم کورٹ کو پنڈورا بکس سے ڈرانے کی کوشش کرنے لگے ۔ وہ آج بھی ہائی کورٹ اور سپرےم کورٹ کو 1979 ءکے دور کی عدلےہ سمجھ رہے ہےں ۔وہ اس کےس کو کس حد تک الجھانے مےں کامےاب ہوتے ہےں ، اس کا فےصلہ وقت کرے گا ،لےکن اےک بات ثابت ہوچکی ہے۔ ” ضروری نہےں آمرےت کے گملے مےں لگنے والا برگد جمہورےت کی چھاﺅں نہ دے اور ےہ بھی ضروری نہےں کہ اس برگد کے سائے مےں کھلنے والا پودا آمرےت کے باغےچے مےں نہ چلا جائے ۔ ہر چےز اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے ۔    ٭

مزید : کالم