بلوچستان: بارُ ود کے ڈھیر پر سیاست!

بلوچستان: بارُ ود کے ڈھیر پر سیاست!

بلوچستان میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں اور سردار اختر مینگل کی واپسی نے قوم پرست پارٹیوں کو بھی سیاست میں متحرک کردیا ہے۔اس بات کا خدشہ موجود تھا کہ اختر مینگل کی پارٹی بی این پی الیکشن میں حصہ لے گی یا نہیں۔ یہ ابہام خود اختر مینگل نے پیدا کیا تھا۔دبئی سے ان کے جس قسم کے بیانات آتے تھے، ان میں بی ایل اے اور ان کے موقف میں یکسانیت نظر آتی تھی۔4سال تک ان کے بیانات میں تضاد اور ابہام موجود تھا،لیکن سردار عطاءاللہ مینگل اس قسم کے بیانات سے شائد متفق نہیں تھے۔وہ انتخابات میں حصہ لینے کے حامی تھے، انہیں اس کا احساس تھا کہ بی این پی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو جو سیاسی نقشہ بلوچستان کا بنے گا، اس سے نواب خیر بخش خان مری کی سیاست کو تقویت حاصل ہوجائے گی۔نواب خیر بخش مری اب پارلیمانی سیاست کے مخالف ہیں، لیکن سردار عطاءاللہ مینگل کو امید ہے کہ پارلیمانی سیاست سے بہت کچھ حاصل کیاجا سکتا ہے، وہ اگر پارلیمنٹ میں نہ پہنچے تو ایجنسیوں کے لوگ اپنے لوگوں کو پارلیمنٹ میں پہنچا دیں گے اور حقیقی آواز مفقود ہو جائے گی، اس کا تجربہ خود سردار مینگل کو ہوچکا ہے۔

بی این پی کو جس طرح تقسیم کیا گیا ہے، وہ اس کے شاہد ہیں، ان کی ایک تقریرنے یہ کام کر دکھایا تھا اور بادشاہ گروں نے بی این پی عوامی بنادی تھی۔انتخابات میں بائیکاٹ کے بعد بی این پی عوامی جگہ لے چکی تھی، اس لئے سردار مینگل کو اس تجربہ نے بتا دیا کہ پارلیمانی سیاست سے دور رہنا خطرناک ہو سکتا ہے، اسی لئے وہ انتخابات کے حق میں تھے۔ اس بات کے حوالے سے سب سے مشکل صورت حال بلوچ علاقوں میں ہے۔ اس وجہ سے صورت حال مشکل اور پیچیدہ بن گئی ہے۔جتنے بھی مسلح مزاحمتی گروپ موجود ہیں، ان کی پوری کوشش ہے کہ بلوچ حصوں میں عوام انتخابات سے دور رہیں، اس کے لئے انہوں نے منظم انداز میں کام شروع کردیا ہے۔ پمفلٹ تقسیم ہورہے ہیں کہ انتخابات کے دوران اگر کسی کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار لوگ خود ہوں گے، اسی لئے بہتر یہی ہے کہ انتخابات سے دور رہا جائے۔ بعض حصوں میں مسلح گروہ کے کارکن براہ راست ان سے مل کر پیغام دے رہے ہیں۔

قارئین محترم! اختر مینگل جس بلوچستان میں لوٹے ہیں، وہ بارود کا ڈھیر بنا ہوا ہے اور خطرات سرپر منڈلا رہے ہیں، انہیں اس کا احساس ہے، خود ان کا بھائی جاوید مینگل ایک مسلح گروپ کا سربراہ ہے۔خطرہ گھر کے اندر سے بھی ہے۔اختر مینگل خدشات اور خطرات قبول کرتے ہوئے لوٹے ہیں اور اس واپسی کو گورنر بلوچستان نے خوش آمدید کہا ہے ۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے سردار اختر کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، انہیں بلوچستان لوٹنے پر خوش آمدید کیا۔اختر مینگل نے ان سے اپنے خدشات کا اظہار کیا تو امیرجماعت نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ سیاسی پارٹیوں کی اے پی سی بلائیں اور صورت حال کو ان کے سامنے رکھیں۔ جماعت اس میں شریک ہوگی اور پورا تعاون کرے گی۔مینگل نے کہا کہ الیکشن کے لئے پُرامن ماحول اور لاپتہ افراد کی بازیابی ضروری ہے۔نواب مگسی نے اختر مینگل کے بلوچستان لوٹنے اور انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے کہا کہ قوم پرست جماعتوں کا انتخابات میں حصہ لینا خوش آئند بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا۔ بلوچستان پیکیج صحیح سمت میں درست اقدام تھا، مگر اس پر عملدرآمد صحیح نہیں ہوا، اس لئے نتائج بھی برآمد نہیں ہو سکے۔اب جو کچھ ہونا ہے، وہ مستقبل کی حکومت کرے گی۔

سردار اختر مینگل کوئٹہ لوٹے توزرغون روڈ پر واقع گراﺅنڈ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا اور کہا کہ بلوچستان کو قبرستان بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔انتخابات سے پہلے سرکار ہمارے تحفظات دور کرے اور ہمیں گارنٹی دے کہ ووٹ ڈالنے والا نوجوان بحفاظت گھر لوٹ سکے گا ، بلوچوں کے بزرگ رہنما نادان دوستوں کو سمجھائیں کہ وہ بندوق سے بلوچستان آزاد نہیں کرا سکتے۔وقت بتائے گا کہ وفادار کون تھا اور کون غدار، کس نے زمین سے وفاداری نبھائی۔ بندوق سے نظریات تبدیل نہیں کئے جا سکتے۔ بلوچستان کے ہر حصے میں نوجوان بلوچوں کی لاشیں پھینکی گئی ہیں۔ ہمارے جمہوری عمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم پُرامن بلوچستان چاہتے ہیں اور بلوچستان کو قبرستان میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔بلوچ قوم کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ آئین،قانون میں برابر کے حصہ دار ہیں، تبھی لوگ قانون کا احترام کریں گے۔ پہلے ریاستی فرشتے ڈبوں میں ووٹ ڈالتے تھے، اب لاشیں ڈال رہے ہیں۔ ہم ایسا بلوچستان چاہتے ہیں، جہاں بلوچوں، پشتونوں اور ہزارہ برادری کو تحفظ حاصل ہو۔ ہماری پارٹی پر کسی بے گناہ بلوچ کے خون کا دھبہ نہیں ہے۔پُرامن اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے حقوق حاصل کرلیں گے۔ہم نے سیاست ہمیشہ عوام کے بل بوتے پر کی ہے۔ میرا ضمیر مطمئن ہے کہ جو کرنے جارہا ہوں، وہ بلوچ سرزمین کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

 جلسے کے بعد دوسرے روز اختر مینگل نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ حالات بہتر نہ ہوئے تو بائیکاٹ سمیت تمام آپشنز موجود ہیں، ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں، ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے ہراساں کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، مگر اس طرح ہمیں اپنے راستے سے ہٹایا نہیںجا سکتا۔ گزشتہ دس سال سے آگ لگی ہوئی ہے۔بے شمار لوگ اس کی نذر ہوچکے ہیں۔ہم انتخابات کے ذریعے اس آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں،مگر جو لوگ بلوچستان کے حالات کے ذمہ دار ہیں، وہ اس آگ کو بجھانا اور بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتے۔مجھے بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ہم نے خط لکھ کر الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا ہے کہ شفاف انتخابات کا انعقاد اس ماحول میں کیسے ممکن ہے، جبکہ امیدوار انتخابی مہم کے لئے جلسہ نہ کر سکے اور کارکن گھر سے نہ نکل سکے۔ دوسری طرف سرکار کے حمایت یافتہ بغیر لائسنس کے اسلحہ کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔کالے شیشوں والی گاڑیوں پر پابندی ہے، مگر یہ لوگ گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آنے پر شادیانے بجانے والوں کے رویوں پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ہم نے جیتی ہوئی سیٹوں سے استعفے دے دیئے ہیں۔ہم بلوچستان اور بلوچ قوم کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں“۔

ان خیالات پر غور کریں تو یہ بات بالکل کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اختر مینگل کے سامنے بہت زیادہ مشکلات ہیں ، وہ 4سال تک عوام سے دور رہے ہیں اور انتخابات کا بائیکاٹ بھی کیا تھا، اس لئے دوسری قوتوں نے ان کی غیر حاصری میں اپنی جگہ بنا لی ہے، اس وقت بلوچستان کی سیاست میں بلوچ اور پشتون قوم پرست پارٹیاں حصہ لے رہی ہیں اور آپس میں تقسیم بھی ہیں اور مقدم بھی ہیں۔ اسی حوالے سے تجزیے ہورہے ہیں کہ اگر بلوچ علاقوں میں بی این پی مینگل اور نیشنل پارٹی نے اتحاد نہ کیا تو ان کے حق میں نقصان دہ ہوگا۔اب 65ءکے ایوان میں بلوچ قوم پرستوں کو اکثریت حاصل نہیں ہو سکتی، اب سیاسی نقشہ 1970ءکے بعد سے بہت بدل گیا ہے۔ اب بلوچ علاقوں میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، بی این پی (عوامی)، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) موجود ہےں۔اب جمعیت نظریاتی بھی آگے بڑھ رہی ہے۔یہ تمام پارٹیاں بلوچ مسئلے پر بول رہی ہیں۔جماعت اسلامی نے بھی اپنی جگہ بنا لی ہے، اسے آگے جانے کے لئے کچھ وقت درکار ہوگا۔آج کا بلوچستان صرف قوم پرستوں کا نہیں رہا، اب اس کے اور دعویدار بھی موجود ہیں۔ نیشنل پارٹی اور بی این پی (مینگل) نے اتحاد نہ کیا تو انتخاب کے نتائج ان کے لئے حیران کن اور پریشانی کا سبب بن جائیں گے۔مسلم لیگ(ن) کے قائد نوازشریف کی پالیسی ہے کہ بلوچ قوم پرستوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ انتخابی نتائج کے بعد مسلم لیگ(ن) اور بی این پی مشترکہ لائحہ عمل پر نیا نقشہ ترتیب دیں گی۔    ٭

مزید : کالم