عوام ووٹ ڈالنے کے لئے بے تاب ہیں

عوام ووٹ ڈالنے کے لئے بے تاب ہیں

میرا حسن ظن یہ ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود اس بار انتخابات ماضی کے برعکس شفاف اور منصفانہ ہوں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سکروٹنی کے مرحلے میں قوم کو مایوسی ہوئی ہے اور وہ تمام لوگ جو کسی نہ کسی حوالے سے آئین کی شقوں 63۔62 کی زد میں آتے تھے، انتخابات میں حصہ لینے کے اہل قرار پائے ہیں ، تاہم یہ امکان موجود نہیں کہ ان لوگوں کی کوئی چال یا خفیہ ہاتھوں کا کوئی کمال انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکے۔ انتخابات میں سب سے زیادہ جس بات کو خطرے کی گھنٹی سمجھا جاتا رہا ہے، وہ اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ ہاتھوں کا کردار ہے.... مگر اس بار مسلح افواج کی قیادت کے تیور بہت بدلے نظر آتے ہیں اور کوئی ایسا شائبہ موجود نہیں کہ وہ کسی مخصوص جماعت کے حق یا اپنی پسند کے انتخابی نتائج حاصل کرنا چاہتی ہو۔ آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی موجودگی میں انتخابی عمل کو ہائی جیک کرنا اب ناممکن نظر آتا ہے۔ خود الیکشن کمیشن کا کردار اور انتخابی مراحل میں فول پروف انتظامات کی موجودگی اس امکان کو بڑھاتی ہے کہ اب انتخابات کے نتائج وہی نکلیں گے، جو حقیقی اورعوام کی منشاءکے مطابق ہوں گے۔

 مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ انتخابات کے التوا کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ایسی باتیں آخر کی ہی کیوں جاتی ہیں ؟ ایسے کون سے حالات ہیں ، جنہیں پیش نظر رکھ کر انتخابات کے بروقت نہ ہونے کی بات کی جائے۔ایک خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ رونما ہوا تو انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں .... اول تو دعا کرنی چاہئے کہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہو، بالفرض خاکم بد ہن ایسا ہو بھی جاتا ہے تو پھر بھی انتخابات بروقت ہونے چاہئیں۔ انتخابات درحقیقت پاکستانی قوم کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ پاکستانی عوام نے پچھلے پانچ سال ایک بری حکومت کو اسی لئے برداشت کیا کہ وہ جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے۔اب عوام کسی صورت میں یہ نہیں چاہتے کہ کوئی خفیہ ہاتھ اس جمہوری سفر کو روک دے۔ وہ ہر قیمت پر انتخابات چاہتے ہیں تاکہ بالآخر یہ ثابت ہو سکے کہ پاکستان بدل گیا ہے اور ہر جمہوریت کے بعد آمریت کا آنا اب قصہ¿ پارینہ بن چکا ہے۔

 پاکستان میں انتخابات چار بڑی قوتوں کا امتحان ہوتاہے....الیکشن کمیشن ،نگران حکومتیں، عدلیہ اور فوج.... اس وقت کا ظاہری منظر اس حوالے سے بہت حوصلہ افزا ہے کہ یہ چاروں قوتیں ملک میں بروقت منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لئے متحد ہیں ۔ عدلیہ کی طرف سے بار بار یہ پیغام آ رہا ہے کہ انتخابات کا ایک دن التوا بھی نہیں ہونا چاہئے۔ دوسری طرف چیف آف آرمی سٹاف ایک سے زائد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ فوج پُرامن اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن کی پشت پر کھڑی ہے۔الیکشن کمیشن کے اقدامات ماضی کے مقابلے میں بہت جرا¿ت مندانہ ہیں اور ان کی وجہ سے بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ جہاں تک نگران حکومتوں کا تعلق ہے تو سرکاری مشینری کی مکمل اوورہالنگ کے بعد یہ امید ہو چکی ہے کہ اس بار انتخابات میں کوئی جھرلو چلے گا اور نہ ہی راتوں رات نتائج تبدیل ہو سکیں گے۔

پُرامن انتخابات کی راہ میں جو سب سے بڑا خطرہ حائل ہے، وہ کسی ممکنہ دہشت گردی کا ہے۔ اِکا دُکا واقعات رونما بھی ہو چکے ہیں ، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ انتخابات مخالف قوتیں جہاں موقع ملتا ہے، اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ، تاہم یہ ایسا چیلنج ہے ، جس سے ہم سب نے متحد ہو کر نمٹنا ہے۔ جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے چاہئیں، وہیں عوام کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے حالات پر نظر رکھیں تاکہ شرپسندوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔ یہ بڑی حوصلہ افزا بات ہے کہ اس بار سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کے لئے اپنے اپنے پروگرام ترتیب دیئے ہیں ۔ خاص طور پر قائدین کے جلسوں کا باقاعدہ ایک شیڈول وضع کیا گیا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ مختلف شہروں کی انتظامیہ کو سیکیورٹی پلان بنانے میں سہولت رہے گی اور قائدین بھی سیکیورٹی کے حصار میں رہیں گے۔ سیاسی جماعتیں پرنٹ اور ا لیکٹرانک میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں ،جس کی وجہ سے انتخابی مہم سڑکوں پر بڑی بڑی ریلیوں اور جلسوں سے محفوظ ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال بھی بھر پور طریقے سے کیا جارہا ہے، جس سے عوام تک سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں کا پیغام بھی پہنچ رہا ہے اور دہشت گردی کے خطرات میں بھی کمی آ رہی ہے۔

دیکھا جائے تو اب ہم ستر کی اس دہائی کے اثرات سے نکل آئے ہیں ، جب سڑکوں پر کئی کئی میل لمبی انتخابی ریلیاں نکالی جاتی تھیں اور جلسے سڑکوں اور محلوں میں منعقد ہوتے تھے، جن میں ہزاروں افراد شرکت کرتے تھے۔ اب جہاں دہشت گردی کے خطرات نے سب کو چوکنا کر رکھا ہے،وہاں ابلاغ کے نئے ذرائع انتخابی مہم کے لئے استعمال کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، جس نے خطرات کو کم کردیا ہے....ایک اور اہم بات جو بڑے واضح طور پر نوٹ کی جارہی ہے ، اس کا تعلق عوام میں پیدا ہونے والے اس شعور سے ہے کہ انہیں اپنا ووٹ کاسٹ کرنا چاہئے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں جمہوریت نے اگرچہ عوام کو کچھ نہیں دیا، تاہم اس کا مثبت اثر یہ ہوا ہے کہ عوام یہ سوچنے لگے ہیں کہ اگر وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے اچھے رہنما منتخب نہیں کریں گے تو بُرے لوگ ان پر مسلط ہو جائیں گے۔ ایک اور بات جس نے عوام کو ووٹ دینے کی طرف راغب کیا ہے، وہ پاکستانی سیاست میں نئی سیاسی قوتوں کی آمد ہے، جن میں پاکستان تحریک انصاف سرفہرست ہے۔

 وہ لوگ جو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو کر ووٹ دینے کے لئے گھر سے نہیں نکلتے تھے، اب ان کے پاس تھرڈ آپشن موجود ہے،جو انہیں پُرامید رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان میں طویل عرصے کے بعد یہ فضا بنی ہے کہ عوام کو ووٹ کی طاقت سے اپنی تقدیر بدلنے اور قیادت منتخب کرنے پر یقین آ چلا ہے۔ یہ بہت اہم پیش رفت ہے، جس کے ملک میں جمہوریت اور جمہوری روایات پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ عوام کا موڈ بتا رہا ہے کہ اب وہ خود بھی دھاندلی کے خلاف مزاحمت کریں گے۔پولنگ سٹیشنوں کے اندر اب پُراسراریت کے پردے موجود نہیں ہوں گے، تصویر والی کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں اور کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈوں کی وجہ سے بہت سے امکانات ویسے ہی ختم ہو گئے ہیں ، پھر انتخابی مقابلوں کی فضا بھی ایسی بن رہی ہے کہ یک طرفہ مقابلے کی صورت کہیں بھی موجود نہیں۔ جہاں سخت اور قریبی مقابلہ ہوتا ہے، وہاں دھاندلی کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں ،کیونکہ امیدواروں کے نمائندوں کی ایک ایک ووٹ پر نظر ہوتی ہے۔

بلا شبہ الیکشن کمیشن سکروٹنی کے اعلیٰ معیار کو برقرار نہیں رکھ سکا اور نہ ہی وہ ماضی کے لٹیرے ،نادہندہ اور ٹیکس چور افراد کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک سکا ہے، تاہم عوام کا شعور اس بار مکھی پر مکھی مارنے کا روا دار نظر نہیں آتا۔ ہر ایسے نمائندے کو بڑے کڑے عوامی احتساب سے گزرنا پڑے گا ،جس کے بعد وہ شاید ہی اسمبلی کا منہ دیکھ سکے.... ان حالات میں انتخابات کے بارے میں شکوک و شبہات کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، سب تیاریاں مکمل ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عوام ان کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں ۔ 1970ءکے بعد پہلی مرتبہ عوام کے اندر انتخابی عمل کے نتیجے میں تبدیلی کی امید نظر آ رہی ہے۔ جمہوریت اور ووٹ کی طاقت پر عوام کا یہ بھر پور اعتماد اس بات کا مظہر ہے کہ ہم صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ، ہم ایک ایسی قوم بننے جا رہے ہیں ، جو جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔     ٭

مزید : کالم