کیسے بدلے گا پاکستان (2)

کیسے بدلے گا پاکستان (2)

سیاست پاکستان میں انہی طبقات کا کھیل ہے لیکن اس کے باوجود پیپلزپارٹی کا ماضی میں یہ دعویٰ رہا ہے کہ اس نے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس سلسلے میں حنیف رامے اور ڈاکٹر مبشر حسن کی مثالیں تواتر کے ساتھ دی جاتی ہیں لیکن موجودہ پیپلزپارٹی مکمل طور پر جاگیردار جماعت کا روپ دھار چکی ہے۔ اگرچہ 1970ءکے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر نچلے متوسط اور متوسط طبقات کے کچھ افراد پارلیمنٹ کے ممبر ضرور بنے لیکن بعد میں یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ سندھ پیپلزپارٹی کے لئے ہوم گراﺅنڈ کی حیثیت رکھتا ہے اور وہاں جاگیرداروں کی اجارہ داری قائم ہے۔ اندرون سندھ کی موجودہ سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہاں کے فیوڈل لارڈز اس وقت پیپلزپارٹی کے علاوہ مسلم لیگ(ق)، مسلم لیگ (فنکشنل) اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بھی وابستہ ہیں جبکہ چند جاگیردار گھرانے قوم پرست جماعتوں کا بھی حصہ ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات (اندرون سندھ کے) کو دیکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ سندھ کی سیاست کی باگ دوڑ جاگیردار اشرافیہ سے متوسط طبقے کو منتقل ہوتی ہوئی فی الحال تو دکھائی نہیں دیتی۔ ملک میں تبدیلی کا سونامی لانے کی دعویدار اور خود کو سٹیٹس کو کی سب سے بڑی مخالف گردانے والی پاکستان تحریک انصاف اس پوزیشن میں نہیں کہ سندھ میں روایتی جاگیردار خانوادوں کے مقابلے میں نچلے متوسط اور متوسط طبقات کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کھڑا کر سکے۔

دوسری جانب ملک کی اس وقت سب سے مقبول سیاسی جماعت (سروے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے) مسلم لیگ(ن) بھی کم از کم ان انتخابات میں تو متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پارلیمنٹ کی زینت بنانے کا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی۔ مسلم لیگ(ن) بھی ملک کے طول و عرض سے بیشتر حلقوں میں اپنے آزمودہ اور پرانے امیدواروں کو میدان میں اُتارنے کا اراد رکھتی ہے۔ اکتوبر1999ءسے نومبر 2007ءکا درمیانی عرصہ مسلم لیگ (ن) کے کا رکنوں کے لئے نہایت ابتلاءکا دور رہا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں محمد نوازشریف کے لئے90ءکی دہائی میں ایک نعرہ ایجاد ہوا جو آج بھی مقبول ہے اور وہ نعرہ تھا قدم بڑھاﺅ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ نواز شریف نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں ایک بار کہا کہ جب مَیں نے قدم بڑھائے اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو ابتلاءکے اس دور میں میں کوئی نظر نہ آیا لیکن ان حالات میں بھی پارٹی کے بہت سے کارکن وفاداری نبھاتے ہوئے پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے لیکن وہ کارکن اور رہنما آج مسلم لیگ (ن) میں بھی بیک بنچوں پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں جبکہ مشرف کا دستر خوانی قبیلہ یہاں بھی ٹکٹوں اور مراعات سے مستفیذ ہو رہا ہے۔ ساہیوال سے تعلق رکھنے و الے جواں سال مسلم لیگی رہنما وسیم گجر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ 1996ءمیں مسلم لیگ(ن) ضلع ساہیوال (اُس وقت ضلع ساہیوال) کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے اور تب سے اب تک پارٹی کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے پرویز مشرف کے 9سالہ دور اقتدار میں اس وقت پارٹی کی خدمت کی، جب ابن الوقت آشیانہ تبدیل کر چکے تھے لیکن ان کے مقابلے میں ٹکٹ کے لئے ایسے شخص کو فوقیت دی جا رہی ہے جو ابھی پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوا ہے۔ وسیم گجر پر ہی کیا موقوف سندھ اور بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کے ایسے سینکڑوں کارکن ہیں جنہوں نے دور آمریت میں اس وقت پارٹی کا علم بلند کیا ہے جب ان صوبوں میں مسلم لیگ(ن) کا نام لیوا کوئی نہ تھا۔ مسلم لیگ(ن) ضلع شکارپور کے سابق سینئر نائب صدر (مرحوم) صوفی انور آرائیں کسمپرسی کی حالت میں زندگی سے مُنہ موڑ گئے، لیکن پارٹی قیادت نے اُن کی خبر گیری نہ کی۔ مسلم لیگ (ن) بلوچستان کی کا رکن سکینہ مینگل نے حالیہ دنوں میں خود سوزی کی کوشش کی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے حوالے سے بات طویل اس لئے ہو گئی کیونکہ اس کا انتخابی منشور ہے ”بدلہ ہے پنجاب بدلیںگے پاکستان “۔ مسلم لیگ (ن) اگر پاکستان کو تبدیل کرنے کی خواہش مند ہے تو اسے کم از کم10ٹکٹیں پرانے کارکنوں اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کو دینی چاہئیں۔

 اب بات ہو جائے پاکستان تحریک انصاف کی جس کا دعویٰ ہے کہ وہ نوجوانوں کی مقبول ترین جماعت ہے۔ تحریک انصاف نے انتخابات سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ وہ کم از کم25فیصد ٹکٹ پارٹی کارکنوں اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی نذر کرے گی، لیکن عملی طور پر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اکتوبر 2011ءکے بعد تحریک انصاف بلندیوں کی نئی منزل کی جانب گامزن دکھائی دی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بقول پارٹی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب صرف دس افراد پارٹی میں رہ گئے۔1996ءسے (جب تحریک انصاف کا جنم ہوا) 2011ءکے دوران پارٹی کا حصہ رہنے والے کارکن تحریک انصاف میں مایوسی کا شکار دکھائی دے رہے ہیں اور اکتوبر2011ءکے بعد پارٹی کا حصہ بننے والے جاگیردار سرمایہ دار سیاسی جماعتوں کی طرح یہاں بھی ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل پر حاوی دکھائی دے رہے ہیں۔ میانوالی سے (جو عمران خان کا آبائی حلقہ ہے) مرحوم شیر افگن نیازی کے بیٹے کو ٹکٹ دیئے جانے کی اطلاعات نے تحریک انصاف کے نوجوانوں کو نہ صرف مایوسی کا شکار کر دیا بلکہ عمران خان کے قریبی عزیز بھی ان سے نالاں دکھائی دے رہے ہیں جو عمران خان کے لئے کسی صورت بھی نیک شگون نہیں۔ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف دونوں جماعتوں کی توجہ کا مرکز اس وقت پنجاب ہے کیونکہ اصل معرکہ یہیں ہو گا ۔ پنجاب سے قومی اسمبلی کی 148 نشستوں کا براہ راست انتخاب ہونا ہے جو سیاسی جماعت پنجاب سے 80نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی وہ مرکز میں حکومت بنانے کے قابل ہو سکتی ہے۔ اپنی پانچ سالہ ناقص ترین کارکردگی کے بعد پیپلزپارٹی میں اتنا دم خم دکھائی نہیں دے رہا کہ وہ ووٹروں کو متاثر کر سکے ، اس لئے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہی اصل معرکہ آرائی ہو گی۔ تحریک انصاف کو اپنی مقبولیت قائم رکھنے کے لئے25 فیصد سیٹیں متوسط طبقے کے نوجوانوں کو دینے کا وعدہ پورا کرنا ہو گا وگرنہ پھر زور آزمائی پیسے اور جنون کی بجائے پیسے اور پیسے کے درمیان ہی ہو گی۔ سٹیٹس کو کی مخالف دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف اگر واقعی پاکستان کو بدلنے کی خواہش مند ہیں تو ماضی کے مقابلے میںاِس بار اُنہیں کچھ تو نیا کرنا ہی ہو گا ۔   ٭

مزید : کالم