نگران وزیراعلیٰ کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر ....

نگران وزیراعلیٰ کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر ....
نگران وزیراعلیٰ کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر ....

  

    یہ توایوان وزیراعلیٰ میں کھانے کی دعوت تھی، سیکرٹری انفارمیشن امجد بھٹی کا کہنا تھا کہ مختلف امور پر نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی کالم نگاروں کے ساتھ غیر رسمی گپ شپ کرنا چاہتے ہیں مگر 8 کلب روڈ پر لگنے والی ”گپوں “ کی بھی اپنی ہی اہمیت ہے لہذا وہاں نہ صرف جانے کا وعدہ کیا بلکہ میں نے اپنے ایک اچھے دوست اور معروف کالم نگار سے پوچھا کہ آپ سے آج شام ایوان وزیراعلیٰ میں ملاقات ہو رہی ہے تو ان کا جواب تھا کہ انہوں نے نگرانوںکے خلاف بہت لکھا ہے لہذا یہ مناسب نہیں لگتا کہ ان کی اتنی برائیاں کرنے کے بعد ہم وہاں کھانے اور گپیں لگانے پہنچ جائیں۔ میں نے عرض کیا کہ ہم اختلاف رائے کر سکتے ہیں مگر دشمنی نہیں، پروفیشنل صحافیوں کواپنے نظریات کے جزیروں کے قیدی بن کر نہیں رہنا چاہئے، ہمیں کم از کم دوسروں کی دلیلیں اور جواز تو سننے چاہئیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ویسے بھی اپنی رائے ضمیر کی روشنی میں دینے کا قائل ہوں، کھانے کی روشنی میں نہیں،مجھے کچھ عرصہ قبل ایک مقبول ترین پارٹی ہونے کے دعوے داروں کی طرف سے جم خانہ میں لنچ کی دعوت موصول ہوئی، وہاں ان کے درجنوںلیڈر موجود تھے، میں نے اپنے کچھ تحفظات بیان کئے تو ایک رہنما بولے، آپ یہاں ہمارے کھانے پر آئے ہیں اور ہماری خامیاں ہمارے ہی منہ پر بیان کر رہے ہیں ۔ میں نے ان کا فقرہ سن کے سوال کیا کہ انہوں نے دوستوں اور صحافیوں کو کھانے پر مدعو کیا ہے یا میراثیوں کو، جو ” اللہ بھاگ لگے رہن“ کی آوازیں لگاتے ہوئے کھانے پر ٹوٹ پڑیں۔

    ملاقات ،گپ شپ سے شروع ہوئی اور گپ شپ میں ہی اس امید پر ختم ہو گئی کہ اب سجاد میر اور عطاءالرحمان صاحب ہتھ ہولا رکھیں گے، نگران وزیراعلیٰ نے ان سے منسوب آئی ایس آئی ایشو کی تردید کر دی، منیب فاروق کی غیر حاضری نوٹس کی گئی تو علم ہوا کہ کچھ دوستوں نے ایسی خبریں شائع کی ہیں کہ پنجاب بھر میں ٹرانسفر ، پوسٹنگ کا کام منیب ہی کر رہا ہے لہذا اس نے ایوان وزیراعلیٰ آنے کی بجائے احتیاط روا رکھنا ہی بہتر سمجھا مگرمجھے ایک سینئر ترین صحافی کے شائع ہونے والی خبروں بارے تاثرات دیکھ کر بہت مزا آیا، میں نے ان سے پوچھا کہ وہ میڈیا سے باہر بیٹھ کے میڈیا بارے کیا سوچ رہے ہیں اور یہ کہ آج وہ کیا محسوس کرتے ہیں کہ ایک سیاستدان زیادہ مظلوم ہوتا ہے یا صحافی، انہوں نے ہنستے ہوئے میرے ان سوالوںکو” گگلی“ قرار دے کر ان پر کھیلنے سے انکار کر دیا، کہنے لگے ان کی میڈیا بارے رائے آج بھی وہی ہے جو حکومت میں آنے سے پہلے بھی تھی۔ بات الیکشن کمیشن کی طرف سے شریف برادران کی سیکورٹی واپس لینے بارے بھی ہوئی تو علم ہوا کہ اس وقت تک پنجاب حکومت کو کوئی باقاعدہ تحریری حکم موصول ہی نہیں ہوا تھا اور شریف برادران کی پچیس فیصد سیکورٹی میں کمی میڈیا رپورٹس پر ہی کر دی گئی۔ وہ درست کہہ رہے تھے کہ پنجاب حکومت کی سب سے پہلی ذمہ داری انتخابات کا پرامن انعقاد ہے اور سیکورٹی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق شریف برادران کی سیکورٹی سب سے زیادہ رسک پر ہے،مختلف ادارے بھی سیکورٹی بارے مبہم رپورٹس بھجوا کے اپنی ذمہ داری پوری کر دیتے ہیں ،ایسے میں بڑے سیاستدانوں کی سیکورٹی کم کر دی جائے اور کوئی حادثہ رونما ہوجائے تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔ سیکورٹی بارے کئی باتیں آف دی ریکارڈ تھیں جنہیں بیان کرنا واقعی قومی مفاد میں نہیں۔

    مجھے تو یہی لگا کہ نگران وزیراعلیٰ چار ہفتوں میں کچھ نیا، کچھ بہتر کرنا چاہتے ہیں مگر ان کے اختیارات بہت محدود ہیں ، مثا ل کے طور پر انہوں نے بڑے بڑے محلات پر ٹیکس لگا کے غریبوں کی امداد کا کوئی نظام بنانے کی ہدایت کی تو بیوروکریسی بہت اچھا پلان بنا کے لے آئی مگر ابھی وہ اس پلان کو پڑھ کے خوش ہی ہو رہے تھے تو علم ہوا کہ جہاں ٹیکسیشن کا معاملہ آجائے وہاں قانون سازی اور اسمبلی کی منظوری بہت ضروری ہے۔ وہیں پر علم ہوا کہ ہم اطلاعات تک رسائی کے جس قانون کے منظور ہونے پر خوشیاں منا رہے تھے وہ صرف کابینہ سے منظور ہوا تھا، ایوان تک پہنچا ہی نہیں مگر اب ایک صحافی وزیراعلیٰ کا خیال ہے کہ اسے آر ڈی ننس کی صورت میں نافذ کر دیا جائے اور جب اس کی مدت پوری ہوجائے اور صحافتی برادری خود ہی دباو¿ ڈلوا کے مستقبل کے مستقل حکمرانوں سے اس پر قانون بنوا لے۔ نجم سیٹھی ایک ایسی ویب سائیٹ بھی بنوا رہے ہیں جس پر تمام سیکرٹری صاحبان اور دیگر حکومتی ذمہ داران سے رابطے کی سہولت ہو، اسی طرح سیلز ٹیکس کے پورے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے ،یہ بھی علم ہوا کہ زرعی انکم ٹیکس سمیت سب معاملات پر ہوم ورک پورا ہے مگر مسئلہ عمل درآمد کا ہے جو باقاعدہ منتخب حکمران ہی کروا سکتے ہیں ۔ انہوں نے ٹرانسفر ، پوسٹنگ کی ذمہ داری لینے سے بھی انکار کر دیا اورکہا کہ یہ کام وہ نہیں بلکہ چیف سیکرٹری، آئی جی اور ہوم سیکرٹری کر رہے ہیں ۔ میں اس دوران سوچتا رہا کہ پھر نگران وزیراعلیٰ سارا دن کرتے کیا رہتے ہیں ، بتایا گیا کہ ہسپتالوں میں خراب مشینیں درست کرنے کے لئے سیکرٹری ہیلتھ کو دی ہوئی مہلت آج ختم ہو رہی ہے جس کے بعد وزیراعلیٰ ہسپتالوں پر چھاپے مار سکیں گے،ا سی طرح آئی جی پنجاب نے تبادلے مکمل ہونے کے بعد سٹریٹ کرائم کم ہونے کا یقین دلا یا تھا اور تبادلے بھی مکمل ہو گئے، شائد اس کے بعد وزیراعلیٰ کچھ مصروف ہوجائیں۔ نگران وزیراعلیٰ تجاویز مانگ رہے تھے اورہماری کئی تجاویز ایسی تھیں جن کے لئے نگران حکومت کم از کم سال ، چھ مہینے قائم رہنا تو ضروری تھامگر نجم سیٹھی نے کہا کہ انہیں بالکل ایسا نہیں لگ رہا کہ الیکشن آگے جائیں گے۔میں نے کہا کہ آپ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کو پیش کردہ کارکن صحافیوں کو لیپ ٹاپ دینے کی تجویز پر ہی عمل کر دیں، نگران وزیراعلیٰ نے پوچھا کہ کن صحافیوں کو دیں، میرا جواب تھا پریس کلب کے ارکان کو، انہوں نے مزید پوچھا کہ پورے پنجاب میں دیں، میں نے کہا کہ لاہور سے شروع کریں اور ملتان اور راولپنڈی پریس کلبوں کو بھی دے دیں مگر انہوں نے کہا کہ اگر دئیے جائیںتو سب کو دئیے جانے چاہئیں، میرے ایک بہت ہی سینئیر صحافی کی طرف سے مخالفت کے بعد مجھے ایسے لگا کہ یہ تجویزایک مرتبہ پھر دفن ہوگئی، صحافی کالونیوں کی بھی بات ہوئی تو علم ہوا کہ راولپنڈی اور لاہور میںصحافی کالونیوںکے مسائل حل کرنے کے لئے دونوں جگہوں پر پندرہ ، پندرہ کروڑ روپے درکار ہیں ۔ صحافیوں سے ہٹ کے اس وقت عوام کا سب سے بڑا مسئلہ لوڈ شیڈنگ کا ہے، خوش امیدی تو یہی ہے کہ اگلے دو ،چار دنوں میں صورتحال بہتر ہوجائے گی مگرمیں وہاں باتیں سنتے ہوئے سوچتا رہا کہ کاش ہم کراچی کے رہنے والے ہی ہوتے جہاں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ نہیں، نجانے ہم لاہورئیے اپنے ہی ملک میں شودر کب تک رہیں گے۔ کیا عجب تماشا ہے کہ صوبائی حکومت کو لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا علم ہونا تو بہت دور کی بات، یہ تک نہیں بتایاجاتاکہ لوڈشیڈنگ کا شیڈول کیا ہو گا۔

    وزیراعلیٰ نے بار بار کہا کہ وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں تومیں نے تجویز دینے کی کوشش کی کہ بے روزگاروں کے لئے آسان قرضوں کی کوئی سکیم دے دیں مگر نجانے وہ بھی نگرانوں پر عائد مالیاتی پابندیوں کی وجہ سے دے پاتے ہیں یا نہیں۔میں نے کہا کہ وہ صدقہ جاریہ کرنا چاہتے ہیں تو لاہور میں جنرل ہسپتال میں نیوروسرجری کے انسٹی ٹیوٹ، چلڈرن ہسپتال میں ان ڈور، جناح ہسپتال میں برن یونٹ، میو ہسپتال کے سرجیکل یونٹ اورجوبلی ٹاو¿ن میں دانتوں کے ہسپتال کی عمارتیں کئی برسوں سے مکمل ہیں اور شائد شہباز صاحب نے اس لئے ان کو آپریشنل نہیں کیا کہ کریڈٹ پرویز الٰہی کو نہ چلاجائے، میں نے درخواست کی کہ اگر ان کو آپریشنل کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کروا دیں تو آپ کا بہت بڑا کارنامہ ہو گا ، مجھے اس وقت بہت خوشی ہوئی جب خوبصورت شخصیت اور خیالات کے مالک جناب واصف ناگی نے میری اس ایشو کا بھرپور ساتھ دیا ، شاعر ، ادیب اور صاحب طرز کالم نگار جناب عطاءالحق قاسمی کی طرف سے میری تجاویز کو ملاقات کے آخر میں سراہنا بھی ان کی ذرہ نوازی ہی تھی ، ملاقات میں بار بار احساس ہوتا رہا کہ نگرانوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، میںوہاں سے رخصت ہوتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اوپر بیان کردہ عوامی مفاد کے یہ کام ہونے کی ایک کارکن صحافی نجم ولی خان خواہش کر سکتا ہے مگر کرنے کا حکم نہیں دے سکتا لیکن اگر یہ وزیراعلیٰ نجم سیٹھی کے حکم پر بھی نہ ہوں تو میں کیا سمجھوں کہ ہم دونوں میں اختیارات کا کوئی فرق نہیں ہے؟

 Ž  ¢¤Ž˜ž¤½ œˆ§ œŽ  ˆ¦„¥ ¦¤¡ ŸŽ à

    ¤¦ „¢¤¢  ¢¤Ž˜ž¤½ Ÿ¤¡ œ§ ¥ œ¤ ‹˜¢„ „§¤í ’¤œŽ…Ž¤  šŽŸ¤“  Ÿ‡‹ ‚§…¤ œ œ¦  „§ œ¦ ŸŠ„žš Ÿ¢Ž ƒŽ  Ž  ¢¤Ž˜ž¤½  ‡Ÿ ’¤…§¤ œžŸ  Ž¢¡ œ¥ ’„§ ™¤Ž Ž’Ÿ¤ ƒ “ƒ œŽ  ˆ¦„¥ ¦¤¡ ŸŽ 8 œž‚ Ž¢Œ ƒŽ ž ¥ ¢ž¤ þþƒ¢¡ ýý œ¤ ‚§¤ ƒ ¤ ¦¤ ¦Ÿ¤„ ¦¥ ž¦ ¢¦¡  ¦ ”Žš ‡ ¥ œ ¢˜‹¦ œ¤ ‚žœ¦ Ÿ¤¡  ¥ ƒ ¥ ¤œ ˆ§¥ ‹¢’„ ¢Ž Ÿ˜Ž¢š œžŸ  Ž ’¥ ƒ¢ˆ§ œ¦ ³ƒ ’¥ ³‡ “Ÿ ¤¢  ¢¤Ž˜ž¤½ Ÿ¤¡ Ÿž›„ ¦¢ Ž¦¤ ¦¥ „¢   œ ‡¢‚ „§ œ¦  ¦¢¡  ¥  Ž ¢¡œ¥ Šžš ‚¦„ žœ§ ¦¥ ž¦ ¤¦ Ÿ ’‚  ¦¤¡ ž„ œ¦   œ¤ „ ¤ ‚Ž£¤¡ œŽ ¥ œ¥ ‚˜‹ ¦Ÿ ¢¦¡ œ§ ¥ ¢Ž ƒ¤¡ ž ¥ ƒ¦ ˆ ‡£¤¡ó Ÿ¤¡  ¥ ˜Ž• œ¤ œ¦ ¦Ÿ Š„žš Ž£¥ œŽ ’œ„¥ ¦¤¡ ŸŽ ‹“Ÿ ¤  ¦¤¡í ƒŽ¢š¤“ ž ”‰š¤¢¡ œ¢ƒ ¥  —Ž¤„ œ¥ ‡¤Ž¢¡ œ¥ ›¤‹¤ ‚  œŽ  ¦¤¡ Ž¦  ˆ¦£¥í ¦Ÿ¤¡ œŸ  œŸ ‹¢’Ž¢¡ œ¤ ‹ž¤ž¤¡ ¢Ž ‡¢ „¢ ’  ¥ ˆ¦£¤¡ó Ÿ¤¡  ¥   ’¥ œ¦ œ¦ Ÿ¤¡ ¢¤’¥ ‚§¤ ƒ ¤ Ž£¥ •Ÿ¤Ž œ¤ Ž¢“ ¤ Ÿ¤¡ ‹¤ ¥ œ ›£ž ¦¢¡í œ§ ¥ œ¤ Ž¢“ ¤ Ÿ¤¡  ¦¤¡íŸ‡§¥ œˆ§ ˜Ž”¦ ›‚ž ¤œ Ÿ›‚¢ž „Ž¤  ƒŽ…¤ ¦¢ ¥ œ¥ ‹˜¢¥ ‹Ž¢¡ œ¤ –Žš ’¥ ‡Ÿ Š ¦ Ÿ¤¡ ž ˆ œ¤ ‹˜¢„ Ÿ¢”¢ž ¦¢£¤í ¢¦¡   œ¥ ‹Ž‡ ¢¡ž¤ŒŽ Ÿ¢‡¢‹ „§¥í Ÿ¤¡  ¥ ƒ ¥ œˆ§ „‰š—„ ‚¤  œ£¥ „¢ ¤œ Ž¦ Ÿ ‚¢ž¥í ³ƒ ¤¦¡ ¦ŸŽ¥ œ§ ¥ ƒŽ ³£¥ ¦¤¡ ¢Ž ¦ŸŽ¤ ŠŸ¤¡ ¦ŸŽ¥ ¦¤ Ÿ ¦ ƒŽ ‚¤  œŽ Ž¦¥ ¦¤¡ó Ÿ¤¡  ¥   œ š›Ž¦ ’  œ¥ ’¢ž œ¤ œ¦  ¦¢¡  ¥ ‹¢’„¢¡ ¢Ž ”‰š¤¢¡ œ¢ œ§ ¥ ƒŽ Ÿ‹˜¢ œ¤ ¦¥ ¤ Ÿ¤Ž†¤¢¡ œ¢í ‡¢ þþ žž¦ ‚§ ž¥ Ž¦ ýý œ¤ ³¢¤¡ ž„¥ ¦¢£¥ œ§ ¥ ƒŽ …¢… ƒ¤¡ó

    Ÿž›„ 흃 “ƒ ’¥ “Ž¢˜ ¦¢£¤ ¢Ž ƒ “ƒ Ÿ¤¡ ¦¤ ’ Ÿ¤‹ ƒŽ Š„Ÿ ¦¢ £¤ œ¦ ‚ ’‡‹ Ÿ¤Ž ¢Ž ˜–£ žŽ‰Ÿ  ”‰‚ ¦„§ ¦¢ž Žœ§¤¡ ¥í  Ž  ¢¤Ž˜ž¤½  ¥   ’¥ Ÿ ’¢‚ ³£¤ ¤’ ³£¤ ¤“¢ œ¤ „Ž‹¤‹ œŽ ‹¤í Ÿ ¤‚ šŽ¢› œ¤ ™¤Ž ‰•Ž¤  ¢…’ œ¤ £¤ „¢ ˜žŸ ¦¢ œ¦ œˆ§ ‹¢’„¢¡  ¥ ¤’¤ Š‚Ž¤¡ “£˜ œ¤ ¦¤¡ œ¦ ƒ ‡‚ ‚§Ž Ÿ¤¡ …Ž ’šŽ í ƒ¢’…  œ œŸ Ÿ ¤‚ ¦¤ œŽ Ž¦ ¦¥ ž¦ ’  ¥ ¤¢  ¢¤Ž˜ž¤½ ³ ¥ œ¤ ‚‡£¥ ‰„¤– Ž¢ Žœ§  ¦¤ ‚¦„Ž ’Ÿ‡§ ŸŽŸ‡§¥ ¤œ ’¤ £Ž „Ž¤  ”‰š¤ œ¥ “£˜ ¦¢ ¥ ¢ž¤ Š‚Ž¢¡ ‚Ž¥ „†Ž„ ‹¤œ§ œŽ ‚¦„ Ÿ ³¤í Ÿ¤¡  ¥   ’¥ ƒ¢ˆ§ œ¦ ¢¦ Ÿ¤Œ¤ ’¥ ‚¦Ž ‚¤…§ œ¥ Ÿ¤Œ¤ ‚Ž¥ œ¤ ’¢ˆ Ž¦¥ ¦¤¡ ¢Ž ¤¦ œ¦ ³‡ ¢¦ œ¤ Ÿ‰’¢’ œŽ„¥ ¦¤¡ œ¦ ¤œ ’¤’„‹  ¤‹¦ Ÿ—ž¢Ÿ ¦¢„ ¦¥ ¤ ”‰š¤í  ¦¢¡  ¥ ¦ ’„¥ ¦¢£¥ Ÿ¤Ž¥   ’¢ž¢¡œ¢þþ ž¤ýý ›ŽŽ ‹¥ œŽ   ƒŽ œ§¤ž ¥ ’¥  œŽ œŽ ‹¤í œ¦ ¥ ž¥   œ¤ Ÿ¤Œ¤ ‚Ž¥ Ž£¥ ³‡ ‚§¤ ¢¦¤ ¦¥ ‡¢ ‰œ¢Ÿ„ Ÿ¤¡ ³ ¥ ’¥ ƒ¦ž¥ ‚§¤ „§¤ó ‚„ ž¤œ“  œŸ¤“  œ¤ –Žš ’¥ “Ž¤š ‚Ž‹Ž  œ¤ ’¤œ¢Ž…¤ ¢ƒ’ ž¤ ¥ ‚Ž¥ ‚§¤ ¦¢£¤ „¢ ˜žŸ ¦¢ œ¦ ’ ¢›„ „œ ƒ ‡‚ ‰œ¢Ÿ„ œ¢ œ¢£¤ ‚›˜‹¦ „‰Ž¤Ž¤ ‰œŸ Ÿ¢”¢ž ¦¤  ¦¤¡ ¦¢ „§ ¢Ž “Ž¤š ‚Ž‹Ž  œ¤ ƒˆ¤’ š¤”‹ ’¤œ¢Ž…¤ Ÿ¤¡ œŸ¤ Ÿ¤Œ¤ Žƒ¢Ž…’ ƒŽ ¦¤ œŽ ‹¤ £¤ó ¢¦ ‹Ž’„ œ¦¦ Ž¦¥ „§¥ œ¦ ƒ ‡‚ ‰œ¢Ÿ„ œ¤ ’‚ ’¥ ƒ¦ž¤ Ÿ¦ ‹Ž¤  „Š‚„ œ ƒŽŸ   ˜›‹ ¦¥ ¢Ž ’¤œ¢Ž…¤ ‹Ž¢¡ œ¤ Žƒ¢Ž…¢¡ œ¥ Ÿ–‚› “Ž¤š ‚Ž‹Ž  œ¤ ’¤œ¢Ž…¤ ’‚ ’¥ ¤‹¦ Ž’œ ƒŽ ¦¥íŸŠ„žš ‹Ž¥ ‚§¤ ’¤œ¢Ž…¤ ‚Ž¥ Ÿ‚¦Ÿ Žƒ¢Ž…’ ‚§‡¢ œ¥ ƒ ¤ Ÿ¦ ‹Ž¤ ƒ¢Ž¤ œŽ ‹¤„¥ ¦¤¡ 큤’¥ Ÿ¤¡ ‚¥ ’¤’„‹ ¢¡ œ¤ ’¤œ¢Ž…¤ œŸ œŽ ‹¤ ‡£¥ ¢Ž œ¢£¤ ‰‹†¦ Ž¢ Ÿ ¦¢‡£¥ „¢ ’ œ¤ Ÿ¦ ‹Ž¤ œ¢  ›‚¢ž œŽ¥ ó ’¤œ¢Ž…¤ ‚Ž¥ œ£¤ ‚„¤¡ ³š ‹¤ Ž¤œŽŒ „§¤¡ ‡ ¦¤¡ ‚¤  œŽ  ¢›˜¤ ›¢Ÿ¤ Ÿš‹ Ÿ¤¡  ¦¤¡ó

    Ÿ‡§¥ „¢ ¤¦¤ ž œ¦  Ž  ¢¤Ž˜ž¤½ ˆŽ ¦š„¢¡ Ÿ¤¡ œˆ§  ¤í œˆ§ ‚¦„Ž œŽ  ˆ¦„¥ ¦¤¡ ŸŽ   œ¥ Š„¤Ž„ ‚¦„ Ÿ‰‹¢‹ ¦¤¡í Ÿ† ž œ¥ –¢Ž ƒŽ  ¦¢¡  ¥ ‚¥ ‚¥ Ÿ‰ž„ ƒŽ …¤œ’ ž œ¥ ™Ž¤‚¢¡ œ¤ Ÿ‹‹ œ œ¢£¤  —Ÿ ‚  ¥ œ¤ ¦‹¤„ œ¤ „¢ ‚¤¢Ž¢œŽ¤’¤ ‚¦„ ˆ§ ƒž  ‚  œ¥ ž¥ ³£¤ ŸŽ ‚§¤ ¢¦ ’ ƒž  œ¢ ƒ§ œ¥ Š¢“ ¦¤ ¦¢ Ž¦¥ „§¥ „¢ ˜žŸ ¦¢ œ¦ ‡¦¡ …¤œ’¤“  œ Ÿ˜Ÿž¦ ³‡£¥ ¢¦¡ › ¢  ’¤ ¢Ž ’Ÿ‚ž¤ œ¤ Ÿ —¢Ž¤ ‚¦„ •Ž¢Ž¤ ¦¥ó ¢¦¤¡ ƒŽ ˜žŸ ¦¢ œ¦ ¦Ÿ –ž˜„ „œ Ž’£¤ œ¥ ‡’ › ¢  œ¥ Ÿ —¢Ž ¦¢ ¥ ƒŽ Š¢“¤¡ Ÿ  Ž¦¥ „§¥ ¢¦ ”Žš œ‚¤ ¦ ’¥ Ÿ —¢Ž ¦¢ „§í ¤¢  „œ ƒ¦ ˆ ¦¤  ¦¤¡ ŸŽ ‚ ¤œ ”‰š¤ ¢¤Ž˜ž¤½ œ Š¤ž ¦¥ œ¦ ’¥ ³Ž Œ¤   ’ œ¤ ”¢Ž„ Ÿ¤¡  š œŽ ‹¤ ‡£¥ ¢Ž ‡‚ ’ œ¤ Ÿ‹„ ƒ¢Ž¤ ¦¢‡£¥ ¢Ž ”‰š„¤ ‚Ž‹Ž¤ Š¢‹ ¦¤ ‹‚¢¿ Œž¢ œ¥ Ÿ’„›‚ž œ¥ Ÿ’„›ž ‰œŸŽ ¢¡ ’¥ ’ ƒŽ › ¢  ‚ ¢ ž¥ó  ‡Ÿ ’¤…§¤ ¤œ ¤’¤ ¢¤‚ ’£¤… ‚§¤ ‚ ¢ Ž¦¥ ¦¤¡ ‡’ ƒŽ „ŸŸ ’¤œŽ…Ž¤ ”‰‚  ¢Ž ‹¤Ž ‰œ¢Ÿ„¤ Ÿ¦ ‹Ž  ’¥ Ž‚–¥ œ¤ ’¦¢ž„ ¦¢í ’¤ –Ž‰ ’¤ž …¤œ’ œ¥ ƒ¢Ž¥  —Ÿ œ¢ œŸƒ¤¢…Ž£Œ œŽ ‹¤ ¤ ¦¥ í¤¦ ‚§¤ ˜žŸ ¦¢ œ¦ Ž˜¤  œŸ …¤œ’ ’Ÿ¤„ ’‚ Ÿ˜Ÿž„ ƒŽ ¦¢Ÿ ¢Žœ ƒ¢Ž ¦¥ ŸŽ Ÿ’£ž¦ ˜Ÿž ‹Ž³Ÿ‹ œ ¦¥ ‡¢ ‚›˜‹¦ Ÿ „Š‚ ‰œŸŽ  ¦¤ œŽ¢ ’œ„¥ ¦¤¡ó  ¦¢¡  ¥ …Ž ’šŽ í ƒ¢’…  œ¤ Ÿ¦ ‹Ž¤ ž¤ ¥ ’¥ ‚§¤  œŽ œŽ ‹¤ ¢Žœ¦ œ¦ ¤¦ œŸ ¢¦  ¦¤¡ ‚žœ¦ ˆ¤š ’¤œŽ…Ž¤í ³£¤ ‡¤ ¢Ž ¦¢Ÿ ’¤œŽ…Ž¤ œŽ Ž¦¥ ¦¤¡ó Ÿ¤¡ ’ ‹¢Ž  ’¢ˆ„ Ž¦ œ¦ ƒ§Ž  Ž  ¢¤Ž˜ž¤½ ’Ž ‹  œŽ„¥ œ¤ Ž¦„¥ ¦¤¡í ‚„¤ ¤ œ¦ ¦’ƒ„ž¢¡ Ÿ¤¡ ŠŽ‚ Ÿ“¤ ¤¡ ‹Ž’„ œŽ ¥ œ¥ ž£¥ ’¤œŽ…Ž¤ ¦¤ž„§ œ¢ ‹¤ ¦¢£¤ Ÿ¦ž„ ³‡ Š„Ÿ ¦¢ Ž¦¤ ¦¥ ‡’ œ¥ ‚˜‹ ¢¤Ž˜ž¤½ ¦’ƒ„ž¢¡ ƒŽ ˆ§ƒ¥ ŸŽ ’œ¤¡ ¥í ’¤ –Ž‰ ³£¤ ‡¤ ƒ ‡‚  ¥ „‚‹ž¥ ŸœŸž ¦¢ ¥ œ¥ ‚˜‹ ’…Ž¤… œŽ£Ÿ œŸ ¦¢ ¥ œ ¤›¤  ‹ž ¤ „§ ¢Ž „‚‹ž¥ ‚§¤ ŸœŸž ¦¢ £¥í “£‹ ’ œ¥ ‚˜‹ ¢¤Ž˜ž¤½ œˆ§ Ÿ”Ž¢š ¦¢‡£¤¡ó Ž  ¢¤Ž˜ž¤½ „‡¢¤ Ÿ  Ž¦¥ „§¥ ¢Ž¦ŸŽ¤ œ£¤ „‡¢¤ ¤’¤ „§¤¡ ‡  œ¥ ž£¥  Ž  ‰œ¢Ÿ„ œŸ  œŸ ’ž í ˆ§ Ÿ¦¤ ¥ ›£Ÿ Ž¦  „¢ •Ž¢Ž¤ „§ŸŽ  ‡Ÿ ’¤…§¤  ¥ œ¦ œ¦  ¦¤¡ ‚žœž ¤’  ¦¤¡ ž Ž¦ œ¦ ž¤œ“  ³¥ ‡£¤¡ ¥óŸ¤¡  ¥ œ¦ œ¦ ³ƒ ’‚› ¢¤Ž˜ž¤½ “¦‚ “Ž¤š œ¢ ƒ¤“ œŽ‹¦ œŽœ  ”‰š¤¢¡ œ¢ ž¤ƒ …ƒ ‹¤ ¥ œ¤ „‡¢¤ ƒŽ ¦¤ ˜Ÿž œŽ ‹¤¡í  Ž  ¢¤Ž˜ž¤½  ¥ ƒ¢ˆ§ œ¦ œ  ”‰š¤¢¡ œ¢ ‹¤¡í Ÿ¤Ž ‡¢‚ „§ ƒŽ¤’ œž‚ œ¥ Žœ  œ¢í  ¦¢¡  ¥ Ÿ¤‹ ƒ¢ˆ§ œ¦ ƒ¢Ž¥ ƒ ‡‚ Ÿ¤¡ ‹¤¡í Ÿ¤¡  ¥ œ¦ œ¦ ž¦¢Ž ’¥ “Ž¢˜ œŽ¤¡ ¢Ž Ÿž„  ¢Ž Ž¢žƒ Œ¤ ƒŽ¤’ œž‚¢¡ œ¢ ‚§¤ ‹¥ ‹¤¡ ŸŽ  ¦¢¡  ¥ œ¦ œ¦ Ž ‹£¤¥ ‡£¤¡„¢ ’‚ œ¢ ‹£¤¥ ‡ ¥ ˆ¦£¤¡í Ÿ¤Ž¥ ¤œ ‚¦„ ¦¤ ’¤ £¤Ž ”‰š¤ œ¤ –Žš ’¥ ŸŠžš„ œ¥ ‚˜‹ Ÿ‡§¥ ¤’¥ ž œ¦ ¤¦ „‡¢¤¤œ ŸŽ„‚¦ ƒ§Ž ‹š  ¦¢£¤í ”‰š¤ œž¢ ¤¢¡ œ¤ ‚§¤ ‚„ ¦¢£¤ „¢ ˜žŸ ¦¢ œ¦ Ž¢žƒ Œ¤ ¢Ž ž¦¢Ž Ÿ¤¡”‰š¤ œž¢ ¤¢¡œ¥ Ÿ’£ž ‰ž œŽ ¥ œ¥ ž£¥ ‹¢ ¢¡ ‡¦¢¡ ƒŽ ƒ ‹Ž¦ í ƒ ‹Ž¦ œŽ¢ Ž¢ƒ¥ ‹ŽœŽ ¦¤¡ó ”‰š¤¢¡ ’¥ ¦… œ¥ ’ ¢›„ ˜¢Ÿ œ ’‚ ’¥ ‚ Ÿ’£ž¦ ž¢Œ “¤Œ  œ ¦¥í Š¢“ Ÿ¤‹¤ „¢ ¤¦¤ ¦¥ œ¦ ž¥ ‹¢ 툁Ž ‹ ¢¡ Ÿ¤¡ ”¢Ž„‰ž ‚¦„Ž ¦¢‡£¥ ¤ ŸŽŸ¤¡ ¢¦¡ ‚„¤¡ ’ „¥ ¦¢£¥ ’¢ˆ„ Ž¦ œ¦ œ“ ¦Ÿ œŽˆ¤ œ¥ Ž¦ ¥ ¢ž¥ ¦¤ ¦¢„¥ ‡¦¡ ‚‡ž¤ ¢Ž ¤’ œ¤ ž¢Œ “¤Œ   ¦¤¡í  ‡ ¥ ¦Ÿ ž¦¢Ž£¤¥ ƒ ¥ ¦¤ Ÿžœ Ÿ¤¡ “¢‹Ž œ‚ „œ Ž¦¤¡ ¥ó œ¤ ˜‡‚ „Ÿ“ ¦¥ œ¦ ”¢‚£¤ ‰œ¢Ÿ„ œ¢ ž¢Œ “¤Œ  œ¥ Š„Ÿ¥ œ ˜žŸ ¦¢  „¢ ‚¦„ ‹¢Ž œ¤ ‚„í ¤¦ „œ  ¦¤¡ ‚„¤‡„œ¦ ž¢Œ“¤Œ  œ “¤Œ¢ž œ¤ ¦¢ ó

    ¢¤Ž˜ž¤½  ¥ ‚Ž ‚Ž œ¦ œ¦ ¢¦ œˆ§ œŽ  ˆ¦„¥ ¦¤¡ „¢Ÿ¤¡  ¥ „‡¢¤ ‹¤ ¥ œ¤ œ¢““ œ¤ œ¦ ‚¥ Ž¢Ž¢¡ œ¥ ž£¥ ³’  ›Ž•¢¡ œ¤ œ¢£¤ ’œ¤Ÿ ‹¥ ‹¤¡ ŸŽ  ‡ ¥ ¢¦ ‚§¤  Ž ¢¡ ƒŽ ˜£‹ Ÿž¤„¤ ƒ‚ ‹¤¢¡ œ¤ ¢‡¦ ’¥ ‹¥ ƒ„¥ ¦¤¡ ¤  ¦¤¡óŸ¤¡  ¥ œ¦ œ¦ ¢¦ ”‹›¦ ‡Ž¤¦ œŽ  ˆ¦„¥ ¦¤¡ „¢ ž¦¢Ž Ÿ¤¡ ‡ Žž ¦’ƒ„ž Ÿ¤¡  ¤¢Ž¢’Ž‡Ž¤ œ¥  ’…¤ …¤¢…í ˆžŒŽ  ¦’ƒ„ž Ÿ¤¡   Œ¢Ží ‡ ‰ ¦’ƒ„ž Ÿ¤¡ ‚Ž  ¤¢ …í Ÿ¤¢ ¦’ƒ„ž œ¥ ’Ž‡¤œž ¤¢ … ¢Ž‡¢‚ž¤ …¢¿  Ÿ¤¡ ‹ „¢¡ œ¥ ¦’ƒ„ž œ¤ ˜ŸŽ„¤¡ œ£¤ ‚Ž’¢¡ ’¥ ŸœŸž ¦¤¡ ¢Ž “£‹ “¦‚ ”‰‚  ¥ ’ ž£¥   œ¢ ³ƒŽ¤“ ž  ¦¤¡ œ¤ œ¦ œŽ¤Œ… ƒŽ¢¤ ž½¦¤ œ¢  ¦ ˆž‡£¥í Ÿ¤¡  ¥ ‹ŽŠ¢’„ œ¤ œ¦ Ž   œ¢ ³ƒŽ¤“ ž œŽ ¥ œ¥ ž£¥ ¦ Ÿ¤ ‚ ¤‹¢¡ ƒŽ œŸ “Ž¢˜ œŽ¢ ‹¤¡ „¢ ³ƒ œ ‚¦„ ‚ œŽ Ÿ¦ ¦¢  í Ÿ‡§¥ ’ ¢›„ ‚¦„ Š¢“¤ ¦¢£¤ ‡‚ Š¢‚”¢Ž„ “Š”¤„ ¢Ž Š¤ž„ œ¥ Ÿžœ ‡ ‚ ¢”š  ¤  ¥ Ÿ¤Ž¤ ’ ¤“¢ œ ‚§Žƒ¢Ž ’„§ ‹¤ í “˜Ž í ‹¤‚ ¢Ž ”‰‚ –Ž œžŸ  Ž ‡ ‚ ˜–£ ž‰› ›’Ÿ¤ œ¤ –Žš ’¥ Ÿ¤Ž¤ „‡¢¤ œ¢ Ÿž›„ œ¥ ³ŠŽ Ÿ¤¡ ’Ž¦  ‚§¤   œ¤ Ž¦  ¢¤ ¦¤ „§¤ í Ÿž›„ Ÿ¤¡ ‚Ž ‚Ž ‰’’ ¦¢„ Ž¦ œ¦  Ž ¢¡ œ¥ ¦„§ ‚ ‹§¥ ¦¢£¥ ¦¤¡í Ÿ¤¡¢¦¡ ’¥ ŽŠ”„ ¦¢„¥ ¦¢£¥ ’¢ˆ Ž¦ „§ œ¦ ¢ƒŽ ‚¤  œŽ‹¦ ˜¢Ÿ¤ Ÿš‹ œ¥ ¤¦ œŸ ¦¢ ¥ œ¤ ¤œ œŽœ  ”‰š¤  ‡Ÿ ¢ž¤ Š  Š¢¦“ œŽ ’œ„ ¦¥ ŸŽ œŽ ¥ œ ‰œŸ  ¦¤¡ ‹¥ ’œ„ ž¤œ  Ž ¤¦ ¢¤Ž˜ž¤½  ‡Ÿ ’¤…§¤ œ¥ ‰œŸ ƒŽ ‚§¤  ¦ ¦¢¡ „¢ Ÿ¤¡ œ¤ ’Ÿ‡§¢¡ œ¦ ¦Ÿ ‹¢ ¢¡ Ÿ¤¡ Š„¤Ž„ œ œ¢£¤ šŽ›  ¦¤¡ ¦¥î

مزید : کالم