رشوت کرپشن اقرباءپروری نا جائز بھرتیاں کرنے کے الزام تمام سر کر دہ سیاسی رہنماﺅں ہر لگتے ہیں

رشوت کرپشن اقرباءپروری نا جائز بھرتیاں کرنے کے الزام تمام سر کر دہ سیاسی ...

                                 لاہور(شہباز اکمل جندران۔ محمد نواز سنگرا) رشوت ، کرپشن ، بدعنوانی ، اقربا پروری، ناجائز بھرتیاں اور منی لانڈرنگ و کمیشن ۔ کیچڑ کی طرح یہ وہ الزامات ہیں جو وقتا ً فوقتا ً بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف ، آصف علی زرداری ،نصرت بھٹو، راجہ پرویز اشرف ، یوسف رضا گیلانی ،مخدوم شہابدالدین ، مخدوم امین فہیم ، مخدوم جاوید ھاشمی،احمد مختار،فاروق ستار ،منظور وٹو،حامد سعید کاظمی غلام احمد بلور،کشمالہ طارق،حنیف رامے ، مہتاب احمد خان،ایوب کھوڑو، انور سیف اللہ ، اعظم ہوتی،آفتاب شیرپاﺅ ، الٰہی بخش،مصطفی کھراور عارف نکئی سمیت دیگر پاکستانی سیاستدانوں کے دامن داغدار کرتے رہے۔ ان دنوں پاکستان میں دسویں عام انتخابات کے لیے معرکہ جاری ہے۔ ملک بھر سے نئے اور پرانے و منجے ہوئے چہرے سامنے آچکے ہیں ۔ ایک طرف الیکشن کمیشن سے عوام کی توقعات بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں تو دوسری طرف ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے مخلص ، محب وطن اور بے لوث قیادت کے انتخاب کی توقع کی جارہی ہے۔ اور 65برس کے عرصے میں پاکستانی سیاست بہت سے اتار چڑھاﺅ دیکھ چکی ہے۔ سیاستدانوں کو قابو میں کرنے اور ان پر پابندیاں لگانے یا ان کی وفاداریاں حاصل کرنے کے لیے کبھی روپیہ استعمال ہواتو کبھی انتقامی قانون بنائے گئے اور بات پھر بھی نہ بنی تو انہیں سزائی بھی دی گئیں۔ یوں تو پاکستان کی تاریخ میں سینکڑوں سیاستدانوں اور قومی وصوبائی اسمبلیوں کے نمائندوں کو حکومت مخالف تقاریر کرنے ، قتل یا لڑائی جھگڑے ، کرنے ، سمگلنگ ،چوربازاری، اور اختیارات سے تجاوز کرنے جیسے مقدمات میں ملوث کیا گیا ۔ لیکن ایسے سیاستدانوں کی بھی بہت بڑی تعداد موجود ہے ۔ جن کی ذات پر کرپشن ، بدعنوانی ، اقربا پروری ، ناجائز بھرتیاں کرنے اور منی لاندرنگ جیسے الزامات لگائے گئے۔ایسے سیاستدانوں میں بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف ، آصف علی زرداری ،نصرت بھٹو، راجہ پرویز اشرف ، یوسف رضا گیلانی ،مخدوم شہابدالدین ، مخدوم امین فہیم ، مخدوم جاوید ھاشمی،احمد مختار،فاروق ستار ،منظور وٹو،حامد سعید کاظمی غلام احمد بلور،کشمالہ طارق،حنیف رامے ، ایوب کھوڑو، انور سیف اللہ ، اعظم ہوتی،آفتاب شیرپاﺅ ، الٰہی بخش،مصطفی کھراور عارف نکئی، فیصل صالح حیات ، علی موسیٰ گیلانی ، مونس الٰہی، میجر (ر) حبیب اللہ وڑائچ،سابق وزیر اعلیٰ مہتاب احمد خان، نوید قمر ، حاکم علی زردای، عابد شیر علی، میاں غلام محمد احمد مانیکااور دیگر بیسیوں سیاستدانوں کے نام شامل ہیں ۔ جو اگرچہ کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات کا شکار ہوئے ۔ اور انہیں سزائیں بھی ہوئیں۔لیکن ان میں سے زیادہ تر کی سزائیں اور ان پر لگائے جانے والے الزامات وقت کے ساتھ ختم ہوگئے۔ بے نظیر بھٹو اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں منی لانڈرنگ اور کرپشن کے مقدمات زیر التوا رہے۔میاں نواز شریف کا نام اصغر خان کیس میں لیا گیا۔ بعدازاں انہیں ہیلی کاپٹر کیس میں بھی ملوث کیا گیا۔ نصرت بھٹو اور حاکم علی زرداری کے خلاف بھی ناجائز اثاثے بنانے اور کرپشن کرنے کے الزامات رہے۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی پر کرپشن کے الزامات بھر پور انداز میں لگائے گئے۔ ایفی ڈرین کیس میں سابق وفاقی وزیر مخدوم شہابدالدین، مخدوم امین فہیم ، علی موسیٰ گیلانی اور دیگر پر کرپشن کے الزامات عائد ہوئے ، یہ مقدمہ تاحال زیر التوا ہے۔ مخدوم جاوید حاشمی کے خلاف بھی کرپشن اور اصغر خان کیس میں رشوت لینے کے الزامات سامنے آئے۔ مونس الٰہی ، میجر (ر)حبیب اللہ وڑائچ این آئی سی ایل سکینڈل ملوث پائے گئے۔احمد مختار اور فاروق ستا رکے خلاف نیب میں کرپشن کے الگ الگ مقدمات زیر التوا رہے۔ حج کرپشن سکینڈل میں سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی ملوث رہے۔ عابد شیر علی اور نوید قمر بھی کرپشن کے الزامات سے بچ نہ سکے۔ فیصل صالح حیات پر بھی کرپشن کے الزامات عائد کئے گئے۔ اسی طرح سابق وزیر اعلیٰ۔حنیف رامے، ایوب کھوڑو، الٰہی بخش سومرو ، غلام مصطفی کھر ،اورسابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عارف نکئی کے علاوہ انو ر سیف اللہ ،سابق وفاقی وزیر آفتا ب شیر پاﺅ ۔سابق وزیر میاں غلام محمد احمد مانیکاپر بھی کرپشن کے الزامات عائد کئے گئے ۔ ان میں ایوب کھوڑو، الٰہی بخش ، غلام مصطفی کھر،فاروق ستا ر ، اعظم ہوتی، حنیف رامے ،میاں منظور وٹو ، مہتاب احمد خان، یوسف رضاگیلانی ، سردار عارف نکئی ،بے نظیر بھٹو،نصرت بھٹو،نواز شریف جیسے سیاستدانوں کو مختلف عدالتوں کی طرف سے کرپشن کے الزامات کے تحت سزائیں بھی سنائی گئیں۔ لیکن اکثر کی سزائیں بعدازاں کالعدم قرار دے دی گئیں۔

مزید : صفحہ اول