چیف الیکشن کمیشنز کے دفتر میں چوری لیپ ٹاپ اہم دستاویزات غائب

چیف الیکشن کمیشنز کے دفتر میں چوری لیپ ٹاپ اہم دستاویزات غائب

                   کراچی (خصوصی رپورٹ) چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم کے کلفٹن میں واقع دفتر میں چوری کی واردات کے دوران ان کا لیپ ٹاپ اور اہم دستاویزات چوری کرلی گئیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فخرالدین جی کے لیپ ٹاپ کے چوری ہونے کی تصدیق کردی ہے جبکہ نگران وزیراعظم اور نگران وزیر داخلہ نے اس خبر کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ بتایاگیا ہے کہ چوری کی یہ واردات دوپہر 12 سے 1 بجے کے درمیان کی گئی۔ فخر الدین جی کے لیپ ٹاپ میں رقم اور حساس نوعیت کا ڈیٹا موجود تھا اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ ڈیٹا ملک دشمن عناصر کے ہاتھ لگ سکتا ہے جو ملک میں امن وامان کی صورتحال کو خراج اور انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چوری ہونے والا لیپ ٹاپ چیف الیکشن کمشنر کا نہیں تھا دوسرا جس فرم کے دفتر سے لیپ ٹاپ چوری ہوا وہ فخر الدین جی ابراہیم کے صاحبزادے کی فرم ہے۔ دوسری جانب ان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ دفتر سے اڑھائی لاکھ روپے بھی چوری ہوئے ہیں دفتر میں 17 لیپ ٹاپ موجود تھے مگر نامعلوم افراد صرف وہی لیپ ٹاپ چوری کرکے لے گئے جو فخرالدین جی ابراہیم استعمال کرتے تھے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی چیف الیکشن کمشنر فوری طور پر اپنے دفتر پہنچ گئے۔ چوری کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی الیکشن کمیشن نے لیپ ٹاپ میں کسی حساس معلومات کی موجودگی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ پولیس پوری طرح حرکت میں آچکی ہے اور واقعہ کی تفتیش کررہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیپ ٹاپ کی چوری میں فخرالدین جی کے سابق ملازم پر شک کیاجارہا ہے کہ وہ اس میں ملوث ہوسکتا ہے۔ ایس پی کلفٹن سرفراز نواز کا کہنا ہے کہ چوری ہونے والے لیپ ٹاپ کا الیکشن کمیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے واقعہ کی ابتدائی رپورٹ آئی جی سندھ کو بھجوادی ہے جس میں مو¿قف اختیار کیاگیا ہے کہ دفتر کے پیچھے ایک کھڑکی تھی جس سے نامعلوم ملزم اندر داخل ہوا اور اس نے لیپ ٹاپ قیمتی قلم اور اڑھائی لاکھ روپے چوری کرلئے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم کے لیپ ٹاپ کی چوری پر الطاف حسین نے تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن عناصر ان حساس دستاویزات اور ڈیٹا کی مدد سے سازشی مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے فخروالدین جی ابراہیم کے لیپ ٹاپ کو جلد بازیاب کرانے کامطالبہ کیا۔ کلفٹن میں واقع بوٹ بیسن پولیس سٹیشن میں لیپ ٹاپ چوری کی ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور اس کی کاپی وزیر داخلہ کو بھجوادی گئی ہے۔ مبصرین کاکہنا ہے کہ ایسے میں جبکہ الیکشن کے انعقاد میں ایک ماہ سے کم عرصہ رہ گیا ہے اس قسم کا واقعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ کراچی اور سوات میں امیدواروں کا قتل بھی اس کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔

لیپ ٹاپ چوری

مزید : صفحہ اول