بعض شخصیات کی سیکیورٹی میں الیکشن کمیشن کی مداخلت ،داخلہ حکام اور خفیہ ادارے پریشان

بعض شخصیات کی سیکیورٹی میں الیکشن کمیشن کی مداخلت ،داخلہ حکام اور خفیہ ادارے ...

 اسلام آباد ( آئی این پی) الیکشن کمیشن کی طرف سے ملک کے اہم سیاسی رہنماﺅں اور پارٹی سربراہان کی سیکیورٹی کے معاملات میں مداخلت اور سیکیورٹی کو کم کرنے کے احکامات پر وزارت داخلہ اور انٹیلی جنس ادارے سرجوڑ کر بیٹھ گئے اور اس بات پر غور کررہے ہیں کہ تمام قومی رہنماﺅں کو شدید سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں ، الیکشن کمیشن کے احکامات پرعمل کیا جائے تو شرپسند عناصر کے مذموم عزائم کی تکمیل ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کو سیکیورٹی کم کرنے کی ہدایت کی ہے اور وزارت داخلہ صوبائی حکومتوں سے اضافی سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی وضاحت طلب کی تھی جس پر وفاقی وزارت داخلہ اورصوبائی محکمہ داخلہ کے اعلیٰ حکام نے باہمی رابطے کرکے الیکشن کمیشن کی ہدایات پر بات چیت کی جبکہ انٹیلی جنس اداروں سے بھی ان ہدایات پر رائے طلب کی گئی ہے ، ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے وزارت داخلہ کو تحریری طور پر بتایا ہے کہ اس وقت ملک کی تمام اہم شخصیات اور سیاسی قیادت دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہے اورموقع ملتے ہی وہ ان پر حملہ کرسکتے ہیں لہٰذا سیکیورٹی پر کسی قسم کا کمپرومائز نہ کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ ملک حبیب خان نے وزارت داخلہ میں ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں تمام اہم سیاسی رہنماﺅں کی سیکیورٹی اور الیکشن مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کی سیکیورٹی پر مشاورت کی جائے گی ، اجلاس میں خفیہ اداروں کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے ، ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ سیکیورٹی امور میں مداخلت نہ کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر درخواست ارسال کرے گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقع سے بچا جاسکے۔

پریشان

مزید : صفحہ آخر