لوڈشےڈنگ نے معےشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کےا ہے، افتخار اے ملک

لوڈشےڈنگ نے معےشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کےا ہے، افتخار اے ملک

لاہور ( اسد اقبال )سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر افتخاراے ملک نے ملک میں جاری بد تر ین لو ڈشیڈنگ پر تشو یش کا اظہار جبکہ اسٹیٹ بنک کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں مارک اپ کی شرح 9.5فیصد پربرقرار رکھنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتی شعبے کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مارک اپ کی شرح کم از کم آٹھ فیصد تک لائی جائے تاکہ نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو، کاروباری شعبے میں استحکام آئے اورتجارتی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔گزشتہ روزپاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے افتخار ملک نے کہا کہ غیر اعلانیہ طو یل لو ڈشیڈنگ نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ ہزاروں کارخانے توانائی بحران کے باعث بند ہو چکے ہیں جس سے بے روزگاری کا سیلاب امڈآیا ہے اور صنعتکا روں میں تشو یش کی لہر دوڑ چکی ہے ۔انھو ں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے انڈسٹر ی کو ریلیف دینا پڑتا ہے جبکہ صنعت سازی کا عمل تیز اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتی شعبے کو سستے قرضوں کی فراہمی بہت ضروری ہے لیکن سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی میں مارک اپ کی شرح برقرار رکھ کر مایوس کیا ہے حالانکہ کاروباری برادری امید کررہی تھی کہ مارک اپ کی شرح میں کمی کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بحرانوں کی وجہ سے صنعتیں بندش یا پھر دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑے ہیں لہذا سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ مارک اپ کی شرح خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پہلے ہی بہت زیادہ ہے جس سے صنعتی شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ مارک اپ کی زیادہ شرح کی وجہ سے معیشت کو نقصان ہوا ہے اور اگر زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو نہ صرف صنعت اور معیشت کے مسائل مزید بڑھیں گے بلکہ مالی خسارہ بھی بڑھے گا انھو ں نے نگران وفا قی حکو مت سے اپیل کی ہے کہ تو انائی بحران پر قابو پانے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

مزید : صفحہ آخر