انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز نے شعبہ تعلیم کے سیاسی پہلوﺅں کی ہم آہنگی کے لئے مہم شروع کردی

انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز نے شعبہ تعلیم کے سیاسی پہلوﺅں کی ہم ...

اسلام آباد (پ ر) تحقیق کے قومی ادارہ ، انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسزنے ”الف ۔اعلان“ کے اشتراک سے شعبہ تعلیم میں تکنیکی اور سیاسی پہلوں کی ہم آہنگی کیلئے قومی سطح پر مہم کا آغاز کر دیا ہے جس میں آئین پاکستان کی 18ویں ترمیم میں شامل شدہ آرٹیکل 25-Aکی رو سے 5تا 16سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کے ہدف کا حصول شامل ہے ۔ انسٹیٹیوٹ نے اپنی مہم مختلف سطحوں پر شروع کی ہے جس میں سیاسی شخصیات قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواران، قومی سیاسی جماعتوں کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقاتیں کی جائیں گی اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں آل پارٹیز کانفرنسیں منعقد ہونگی ۔12دیگر اضلاع میں آل پارٹیز کانفرنسیں منعقد ہو نگی اس کے علاوہ عوام کو شعور دینے کیلئے ایس ایم ایس سروس اور منتخب اضلاع میں بینرز اور پوسٹرز آویزاں کئے جائیں گے ۔ انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان ہمایوں نے بتایا ہے کہ پاکستان کی موجودہ شرح ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے آرٹیکل 25-Aکے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے نصف صدی درکار ہے لیکن اگر سیاسی جماعتیں تعلیم کو سیاسی ترجیح بنا لیں تو پاکستان سے جہالت کے اندھیرے بہت جلد چھٹ سکتے ہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز نے اس مہم کے سلسلے میں گذشتہ سات سال سے جاری تحقیق اور اس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار ، صوبائی ، ضلعی اور حلقہ جاتی سطح پر شعبہ تعلیم کی حالت سیاسی قیادت کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، سیاسی رہنماﺅں اور عوام الناس کو بتایا جائے گا کہ صوبائی ، ضلعی اور حلقہ سطح پر خام اور خالص شرح داخلہ کتنی ہے۔ سکولوں اور اساتذہ کی تعداد ، عدم دستیاب سہولتوں کی تفصیل اور ان علاقوں میں زیر تعلیم طلباءکا انگریزی ، اردو اور ریاضی میں تعلیمی معیار کیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر