غداری کیس میں حکومت کی عدم دلچسپی پر عدالت برہم ،وفاق کا تحریری موقف 17اپریل کو پیش کریں: سپریم کورٹ

غداری کیس میں حکومت کی عدم دلچسپی پر عدالت برہم ،وفاق کا تحریری موقف 17اپریل ...

پرویز مشرف نے اعتراضات دورکرکے جواب دوبارہ جمع کرادیا

غداری کیس میں حکومت کی عدم دلچسپی پر عدالت برہم ،وفاق کا تحریری موقف 17اپریل کو پیش کریں: سپریم کورٹ

  

اسلام آ باد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کیخلاف غداری کے مقدمے میں وفاق کا تحریری جواب طلب کرلیا، سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے غداری کیس میں اعتراضات دور کر کے جواب جمع کرادیا۔جسٹس خلجی عارف نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ سمجھ سے بالاتر ہے ، ایک ایسا شخص جس نے آئین توڑا اس کے خلاف وفاق نے کچھ نہیں کیا۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل دل محمد علی زئی کا کہنا تھا کہ وہ تو لاپتہ افرادکیس کی تیاری کر کے آئے ہیں اور انہیں اس کیس کے حوالے سے کچھ پتہ نہیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ سماعت پر فیڈریشن کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، دعوت نامے نہیں بھیج سکتے۔اٹارنی جنرل صاحب کہاں ہیں؟ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا یہ ایسا کیس ہے جس میں فیڈریشن کو دلچسپی لینا چاہیے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریماکس دیے کہ اس کیس میں کیا اب ہم فیڈریشن کے خلاف پارٹی بن جائیں۔ درخواست گزار اے کے ڈوگر نے کہا کہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود اگر کوئی پیش نہ ہو تو اس کے خلاف توہین عدالت بنتی ہے۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اس کیس میں وفاق کی کوئی دلچسپی نہیں نوٹس دیا گیا کسی کو دعوت نامہ نہیں بھجوا سکتے، بتایا جائے کہ 31 جولائی 2009کو چارسال گزر گئے ، اب تک اس بارے میں کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں، کیا وفاق یہ سمجھتا ہے کہ آئین مذاق ہے کہ کوئی کچھ کرے وفاق کوئی کارروائی نہیں کرے گا؟جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ وفاق کا کوئی نمائندہ نہیں، دیکھنا ہے جو شخص آئین کی خلاف ورزی کرے تو وفاق اس کے بارے میں کیا کارروائی کرتا ہے ، کیا وفاق یہ سمجھتا ہے کہ آئین مذاق ہے کہ کوئی کچھ کرے وفاق کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔سماعت کے دوران درخواست گزارکے وکیل اے کے ڈوگر نے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے، اے کے ڈوگر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے درخواست گزار کی ہدایت کے بغیر درخواست واپس لینے کی درخواست کردی۔عدالت کے استفسار پرسیکریٹری قانون نے کہا کہ یہ وزارت داخلہ کا کام ہے جس پر سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ اور وزارت قانون سے جواب طلب کرلیا۔عدالت نے سیکریٹری قانون کو طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ وفاق سے کیس کے حوالے سے جواب پوچھ کر عدالت کو بتائیں اور ساڑھے 11 بجے پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے تمام متعلقہ ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کردی۔سماعت دوبارہ شروع ہوئی توسپریم کورٹ کے حکم پر اٹارنی جنرل عرفان قادر عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ وہ وفاق کی جانب سے عدالت کو کچھ تفصیلات بتانا چاہتے ہیں جس پر عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ وہ وفاق کی جانب سے جو کچھ کہنا چاہتے ہیں ،اسے تحریری انداز میں پیش کریں،کیس کی مزید سماعت 17 اپریل کو ہوگی۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں