مرکز اور صوبوں کی نگران حکومتیں گیر جان بداری سے کام کریں گی تو الیکشن سفاف ہوں گے

مرکز اور صوبوں کی نگران حکومتیں گیر جان بداری سے کام کریں گی تو الیکشن سفاف ...

                    لاہور(رانا جاوید/ الیکشن سیل) نگران حکومت کی غیر جانبداری کے حوالے سے شہریوں نے ملے جلے ردعمل کااظہار کیا ہے بعض کا کہنا ہے کہ نگران حکومت کی غیرجانبداری سے الیکشن شفاف ہوں گے جبکہ بعض کا خیال ہے کہ نگران حکومت سیاسی جماعتوں کی طرف داری کررہی ہے روزنامہ پاکستان کی طرف سے کئے گئے سروے میں اچھرہ کے رہائشی محمد منیر نے کہا کہ نگران حکومتیں فی الحال تو غیرجانبدار نظرآرہی ہیں ۔ مزنگ کے رہائشی محمد افضل نے کہا نگران وزیر داخلہ نے نوازشریف کے حق میں جو بیان دیا ہے اس سے لگتا ہے کہ نگران حکومت کے وزیر غیر جانبدار نہیں بلکہ وہ سیاسی جماعتوں کے زیر اثر ہیں ایسے نگران وزیر داخلہ کو فوری طور پر تبدیل کرنا چاہیے تاکہ آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات غیرجانبدار ہوں سکیں وحدت روڈ کے رہائشی ناصر بٹ نے کہا کہ نگران حکومتیں غیر جانبدار نہیں ہیں کیونکہ وزیروں اور وزرائع اعلیٰ کی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی نگران حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون کے مطابق جتنی سیکیورٹی ان لوگوں چاہیے اتنی ہی دے نوازشریف اور شہباز شریف سے زائد سیکیورٹی واپس لینی چاہیے وارث روڈ کے رہائشی اصغر کان نے کہا کہ نگران حکومت غیر جانبدار ہی نظرآرہی ہے مرکز اور صوبوں کی نگران حکومتیں اپنا کام غیرجانبداری سے کریں گی تو الیکشن شفاف ہونگے اگر نگران حکومتیں غیر جانبدار نہ رہیں تو آئند الیکشن مشکوک ہوسکتے ہیں شاہ جمال کالونی کے رہائشی نصیر احمد نے کہا کہ نگران حکومتیں غیر جانبداری اور غیر سیاسی ہیں اسی لئے وہ اپنا کام غیر جانبداری سے کررہی ہیں اور لگتا یہی ہے کہ آئندہ الیکشن شفاف ہوں گے شاہدرہ کے رہائشی سرفراز وٹو نے کہا کہ نگران حکومتیں اپنا کام غیر جانبداری سے کررہی ہیں اور ملک میں پہلی مرتبہ حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے وجود میں آئی ہیں اس لئے ان پر انگلی اٹھانا ٹھیک نہیں ہے شالیمار ٹاﺅن کے رہائشی فواد حسین نے کہا کہ نگران حکومت مشاورت سے عمل میں آءہے اس لئے نگران حکومتوں میں اہم سیاسی جماعتوں کے حمایت یافتہ وزراءہیں نگران حکومتیں زیادہ تر بڑی سیاسی جماعتوں کے مفادات کا تحفظ کررہی ہیں وہ غیرجانبدار نہیں رہ سکتیں انارکلی کے رہائشی راشد نے کہاکہ نگران حکومتیں غیر جانبدار ہیں ان کی کارکردگی سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اپنا کام غیر جانبداری سے کریں گے پنجاب میں پوری انتظامیہ تبدیل کردی گئی ہے تھانوں کے ایس ایچ او اور محرر تک تبدیل کردیئے گئے ہیں لاہور میں دی سی او DPO اور تمام انتظامی افسران کو تبدیل کردیاگیا ہے کہ ان تمام اقدامات سے لگتا ہے کہ نگران حکومتیں غیرجانبدار اور غیرسیاسی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر