لاپتہ قیدیوں کے ٹرائل کا ریکارڈ طلب ،ایک منٹ کیلئے بھی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی : سپریم کورٹ

لاپتہ قیدیوں کے ٹرائل کا ریکارڈ طلب ،ایک منٹ کیلئے بھی آزادی سلب نہیں کی ...
لاپتہ قیدیوں کے ٹرائل کا ریکارڈ طلب ،ایک منٹ کیلئے بھی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی : سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کے بیان پر عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے 17اپریل تک لاپتہ قیدیوں کے ٹرائل سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کرلیا۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاہے کہ آئین اور قانون کے تحت کسی فرد کی آزادی ایک منٹ کے لیے بھی سلب نہیں کی جاسکتی ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اڈیالہ جیل کے لاپتہ قیدیوں کے کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت ۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ آئین اور قانون کے تحت کسی شخص کی آزادی کو سلب نہیں کیا جاسکتا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کے تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل بریگیڈئیر نو بہار نے تحریری جواب عدالت میں پیش کیا جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔عدالت نے استفسار کہ جن شواہد کی بنیاد پر ٹرائل کرنا تھا اس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ جج ایڈووکیٹ جنرل نے جواب میں کہا کہ آیندہ سماعت پر ریکارڈ پیش کر دیا جائے گا۔چیف جسٹس نے ایجنسیوں کے وکیل راجہ ارشاد ہدایت کی کہ عدالت کو وہ تمام ریکارڈ پیش کیا جائے جس کے مطابق قیدیوں کا ٹرائل کیا گیا۔ چیف جسٹس نے راجہ ارشاد سے استفسار کیا کہ حساس ادارے اس کیس کو اہمیت کیوں نہیں دے رہے؟بعدازاں عدالت نے قیدیوں کے ٹرائل سے متعلق ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزیدسماعت 17 اپریل تک ملتوی کردی۔

مزید : انسانی حقوق