انتخابی عمل روایتی آب وتاب سے محروم (ن)لیگ کی پوزیشن مضبوط

انتخابی عمل روایتی آب وتاب سے محروم (ن)لیگ کی پوزیشن مضبوط
انتخابی عمل روایتی آب وتاب سے محروم (ن)لیگ کی پوزیشن مضبوط

  

شیخوپورہ کا حلقہ این اے 131دیگر حلقوں کی نسبت انتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے خاصا مختلف دکھائی دے رہا ہے اور حلقہ کی سیاست ہمیشہ کی طرح ایک طرف سابق ارکان اسمبلی کے کردار واعتماد کے گرد گھوم رہی ہے تو دوسری وفاداریاں تبدیل کرنے والے نئی صف بندی کے درپے ہیں تاہم یہ صف آرائی تو کسی حد تک ممکن دکھائی نہیں دے رہی تاہم انتخابی عمل ضرور اپنی روایتی آب و تاب سے محروم ہے جبکہ اس تمام صورتحال کا اصل محرک قائدین تحریک انصاف کی طرف سے حلقہ سے پارٹی امیدوار کی نامزدگی کا عنصر ہے جس نے نہ صرف پارٹی کے اندر گومگو کی سی صورتحال پیدا کررکھی ہے بلکہ حلقہ سے پارٹی پذیرائی کا بھی جنازہ نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جبکہ مسلم لیگ ( ن ) کی طرف سے نامزدہ امیدوار کے سیاسی تجربہ، عوامی پذیرائی اور گزشتہ ادوار میں پیش کردہ خدمات کے باعث انکا پلڑہ بھاری قرار دیا جارہا ہے تاہم مسلم لیگ (ق) کے اور پیپلز پارٹی نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت اپنے مشترکہ وحتمی امیدوار کا اعلان کردیا ہے حالانکہ یہ اعلان اگر کچھ روز قبل سامنے آتا تو نامزد کردہ امیدوار کیلئے یقینا انتخابی مہم زیادہ آسان ہوتی اب چونکہ زیادہ تر دھڑے اپنی وابستگیاں ظاہر کر چکے ہیں اور دیگر کی مشاورت کا عمل جاری ہے تو ایسے میں کولیشن امیدوار کو انتخابی مہم کے دوران اب دوہرا چیلنج درپیش رہے گا، دریں حالات کسی نتیجہ پر پہنچنے کیلئے حلقہ این اے 131کا سیاسی پس منظر بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے، 2002ءکے انتخابات پر بریگیڈیئر ریٹائرڈ ذوالفقار ڈھلوں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر مسلم لیگ کے مرکزی رہنما رانا تنویر حسین کے مقابلہ میں نہایت کم مارجن سے فتح یاب ہوئے البتہ ان انتخابات کا ایک قابل ذکر پہلو آمریتی چھتری تلے منعقد ہونااور اس وقت کے آمر صد ر پرویز مشرف کا قائدین ( ن ) لیگ کےساتھ روا رکھا گیا رویہ تھااور دوران انتخاب ( ن ) لیگ حکومتی مشینری کی طرف سے خاصے دباﺅ میں رہی مگر 2008ءکے انتخابات میں حلقہ کی سیاست کا چہرہ کھل کر سامنے آیا اوررانا تنویرحسین نے اپنی اس شکست کا بدلہ بیک وقت دوحلقوں این اے 131میں اپنے روائتی حریف بریگیڈیئر ریٹائرڈ ذوالفقار ڈھلوں اور این اے 132 میں پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنما مخدوم غیور بخاری کو شکست دیکر چکایاتاہم اسمبلی فلور پر انہوں نے حلقہ این اے 132کو اپنی حتمی نشست قرار دیا اور این اے 131 کی نشست سے دستبردار ہونے کے باعث ضمنی انتخابات میں اپنے بھائی رانا محمد افضال کو بطور ( ن ) لیگی امیدوارانتخاب لڑوایا جنہیں حاصل ہونےوالی عوامی پذیرائی تاریخ ساز ٹھہری اور وہ ریکارڈ مینڈیٹ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ گزشتہ پانچ سالہ دور اقتدار حلقہ این اے 131 اور حلقہ این اے 132کے باسیوں کیلئے نہایت خوش آئند رہا ہے اور منتخب ممبران اسمبلی کی طرف سے علاقائی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سود مند رہے اور نافذ کردہ اصلاحات کے باعث حلقوں کا حلیہ ہی تبدیل ہو کر رہ گیا جبکہ بنیادی سہولیات کی باہم فراہمی یقینی بنائے جانے کے باعث دونوں حلقوں کے عوام کا معیار زندگی بلند ہوا جبکہ میگا پراجیکٹس کی تکمیل ، شاہراہوں کی تعمیر و مرمت، شہری و دیہی علاقوں میں نئی و کشادہ سڑکوں کا جال بچھانے کیساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب، سیوریج کا موثر نظام اور تعلیم و صحت اور زراعت کی انقلابی اصلاحات کے نفاذ سمیت دیگران گنت اقدامات ان دونوں منتخب ارکان اسمبلی کا خاصا ہیں جنہیں حلقوں کے عوام قطعی نظر انداز نہیں کریں گے اور اب جبکہ انتخابات 2013ءکا دور دورہ ہے تو ایسے میں یقینا سبھی جماعتوں کے امیدوار پر عزم ہو کر میدان میں اترے ہیں تاہم انتخابی عمل تاحال پوری طرح سرگرم نہیں ہوپایا ہے جس کی سامنے آنیوالی بنیادی وجہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے امیدواروں کی نامزدگیوں کا عنصر ہے ، پاکستان مسلم لیگ (ق) حلقہ این اے 131سے سابق رکن قومی اسمبلی بریگیڈیئر (ر) ذوالفقار ڈھلوں کے انتقال کرجانے کے باعث انکی صاحبزادی آمنہ ڈھلوں کو امیدوار نامزد کیا گیااور یہ نامزدگی فقط (ق) لیگ ہی کی طرف سے نہیں بلکہ بطور کولیشن امیدوار پی پی پی بھی انکے حق میں اپنا امیدوار دستبردار کرچکی ہے اس اعتبار سے پی پی پی اور (ق) لیگ کو اس نامزدگی میں تاخیر کا عنصر خاصا مہنگا پڑے گا کیونکہ ایک طرف وہ خود میدان سیاست سے نابلد ہیں اور دوسری انکا مقابلہ ایسے منجھے ہوئے سیاستدان ہے کہ جس نے ضمنی انتخابات میں انکے والد بریگیڈیئر (ر) ذوالفقار ڈھلو ں کو تاریخ ساز شکست سے دوچار کیا تھالہذا اس اعتبار انہیں انتخابی تیاری کیلئے زیادہ سے زیادہ وقت درکار تھا اب اگر آمنہ ذوالفقار ڈھلوں کی شکست ہوتی ہے تو اسکی اصل ذمہ داری (ق) لیگ اور پی پی پی کی قیادت پر عائد ہو گی کیونکہ وہ مفاہمتی پالیسی کا حصہ ہونے کے ناطے گزشتہ دوسال سے اس امر کا برملا اعلان کرتے آئے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں وہ کولیشن کے تحت حصہ لیا جائیگامگر حلقہ این اے 131میں امیدوار کی نامزدگی کا فیصلہ غیر معمولی تاخیر کا حامل رہا اورلگ یوں رہا ہے کہ یہ کولیشن مشترکہ امیدوار آمنہ ڈھلوں کی فتح کیلئے نہیں بلکہ مسلم لیگ ( ن ) کے امیدوار رانا افضال حسین کی آسان جیت کیلئے پروان چڑھائی گئی ہے کیونکہ حلقہ سے انتخابی عمل کا حصہ بننے والی چوتھی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف ہے جس کی اس حلقہ میں انتخابی حالت نہایت مضحکہ خیز ہیںایک طرف اس جماعت کے امیدواران ٹکٹ نہ ملنے پر قیادت سے نالاں اور بغاوت پروان چڑھاتے دیکھائی دے رہے ہیں تو دوسری طرف کارکنان کی وابستگیاں بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں ، ایک جائزہ کے مطابق بریگیڈیئر (ر) راحت امان اللہ اور عمر آفتاب ڈھلوں پارٹی ٹکٹ کے خواہشمند تھے اور پارٹی نے بریگیڈیئر (ر) راحت امان اللہ کو امیدوار نامزد کیا تو عمرآفتاب ڈھلوں اس پارٹی فیصلہ پر خاموشی دھارے رہے مگر ان کے حامیوں نے انہیں نامزد نہ کئے جانے کو اپنی خفت سے تعبیر کیا اور ساتھیوں کے پر زور اصرار پر عمر آفتاب ڈھلوں کو آذاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کا اعلان کرنا پڑاہے تاہم انکی جیت ایک طرف مگر انکی اپنے حامیوں کے ہمراہ پارٹی سے دستبرداری تحریک انصاف کے انتخابی عمل کو زبوں حال کرنے کا موجب ثابت ہوتی دیکھائی دے رہی ہے اور شنید ہے کہ بریگیڈیئر (ر) راحت امان اللہ خاں عمر آفتاب ڈھلوں کو پارٹی سے شمولیت ترک نہ کرنے پر آمادگی کیلئے پس پردہ جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمر آفتاب ڈھلوں بطور آزاد امیدوار انتخاب لڑنے کا ارادہ ترک کرتے بھی ہیں تو وہ بریگیڈیئر (ر) راحت امان اللہ کی بجائے کولیشن امیدوار آمنہ ذوالفقار ڈھلوں کو سپوٹ کریں گے کیونکہ وہ انکی قریبی عزیز ہیں تاہم اس وابستگی کے باوجود آمنہ ذوالفقار ڈھلوں انتخابی کامیابی کی کیفیت میں بیان نہیں کی جارہیں، اب رہی بات بریگیڈیئر (ر) راحت امان اللہ اور رانا محمد افضال حسین کے مابین انتخابی مقابلہ کی تو زمینی حقائق یہ ہیں کہ رانا افضال حسین کو نہ صرف پارٹی وابستگی کے ووٹ کماحقہ حاصل آئیں گے بلکہ تحریک انصاف، (ق) لیگ اور پی پی پی سے ناراض حلقوں کا جھکاﺅ بھی انہیں کی طرف ہوتا دیکھائی دے رہا ہے جبکہ برادری کے اندر قبل ازیں اس امر پر خاصے بحث و مباحثہ کے بعد یہ بات طے شدہ و تسلیم کی حامل تھی کہ اگر بریگیڈیئر (ر) راحت امان اللہ این اے 131سے رانا افضال حسین کے مقابلہ کی بجائے خود کو پی پی 162سے بطور امیدوار سامنے لاتے تو برادری انہیں ضرور سپوٹ کرتی ایسے میں بریگیڈیئر (ر) راحت امان اللہ کو اب برادری کی طرف سے بھی پذیرائی کا حامل قرار نہیں دیا جاسکتا ،قارئین! حلقہ این اے 131کی مذکورہ صورت حال کا مفصل جائزہ لینے کے بعد اس حلقہ سے منسلک صوبائی حلقوں پی پی 162اور پی پی 163کا مختصر جائزہ بھی ناگزیر ہے جسکا انتخابی عمل پر اثر انداز ہونا ناگزیر خیال کیا جارہا ہے ، جس کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی و(ق) لیگ نے بطور کولیشن امیدوار چوہدری عثمان نثار پنوں ،تحریک انصاف نے دوست محمد ڈھلوںاور ( ن ) لیگ نے سابق ایم پی اے خرم گلفام اشرف کو نامزد کیا ہے جبکہ سابق ایم پی اے اعجاز سیہول آزاد حیثیت سے انتخاب لڑیں گے، دریں حالات عثمان نثارپنوں کی ابتک کی انتخابی صورتحال قدرے بہتر ہے اور این اے 131کی طرح پی پی 162میں بھی تحریک انصاف کے امیدوار کو خاصی مخالفت کا سامنا ہے جس کی وجہ اعجاز سیہول کا پی ٹی آئی کی ٹکٹ سے محرومی کے بعد آزاد انتخاب لڑنے کا اعلان ہے تاہم حتمی فتح کا قرعہ خرم گلفام اشرف کے سر دیکھائی دے رہا ہے ، اسی طرح حلقہ پی پی 163میں (ق) لیگ کے رانا محمد اعجازاورپی پی پی کے چوہدری مشتاق گجر امیدوار ہیں اور شنید ہے کہ اس حلقہ سے بھی کولیشن متوقع ہے اور دونوں میں سے کوئی ایک امیدوار نامزد ہوگا جس کے باعث دونوں امیدوار عوامی رابطہ مہم پر کم اور حصول ٹکٹ کیلئے زیادہ جستجو کررہے ہیں اور پی ٹی آئی کی طرف سے عامر احمد گجر کو نامزد کیا گیا ہے مگر انہیں صدر تحریک انصاف مریدکے میاں عبدالرﺅف کی طرف سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کے اعلان نے خاصی دشواریاں لاحق کررکھی ہیں اور ہر گزرتے دن کےساتھ انکی جیت دور سے دور تر ہوتی دیکھائی دے رہی ہے اور غالب گمان ہے کہ اس حلقہ سے کامیابی( ن ) لیگی امیدوار چوہدری خرم اعجاز چٹھہ کے قدم چومے گی۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳