انتخابی سرگرمیاں تیز مسلم لیگ (ن)سب سے آگئے ،تینوں بڑی پارٹیوں کے امید وار جٹ برادری سے ہیں

انتخابی سرگرمیاں تیز مسلم لیگ (ن)سب سے آگئے ،تینوں بڑی پارٹیوں کے امید وار جٹ ...

ہمارے یہاں سیاسی جماعتوں میں نظریاتی کارکن موجود ہیں مگر نظریاتی لیڈروں کا بہت فقدان ہے ۔برسر اقتدار سیاسی جماعت کے پاس ایک سے بڑھ ایک ”وفادار“لیڈر ہوتا ہے ۔ان کی” وفاداری“اقتدار کی آخری سانس تک قائم رہتی ہیں اورجب نئے الیکشن سرپر آجائیں تو وہی وفاداریاں پر ٹکٹوں سے مشروط ہوجاتی ہیں کچھ عرصہ پہلے تو وفاداریاں تبدیل کرتے وقت ان میں کچھ جھجک اور شرمندگی محسوس کی جاتی تھی مگر بدلتے ہوئے زمانے میں جس طرح اب رشوت‘کرپشن پر شرمندگی کم ہی محسوس کی جاتی ہے اسی طرح وفاداریاں تبدیل کرنےو الے بھی اب کافی ”بولڈ“ہوچکے ہیں کسی ایک سیاسی جماعت کے انتہائی وفادار خیال کئے جانےوالے لیڈر کو اس کی پارٹی اگر الیکشن میں ٹکٹ نہیںدیتی یا ملنے کا امکان کم ہوجاتا ہے تو وہ اپنی تمام وفائیں‘دعوے‘وعدے بھو ل کرکسی بھی ایسی دوسری جماعت کی جانب چھلانگ لگانے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتا جس کے اقتدار میں آنے کے کچھ آثار دکھائی دے رہے ہوں اورپھر وہی لیڈر اسی جماعت میں کیڑے نکالنا شروع کردیتا ہے اورنئی جماعت میں شمولیت اختیار کرلیتا ہے اس سے تو یہی نتیجہ اخذ کیاجاسکتا ہے کہ جولیڈر اپنی پارٹی سے وفا نہیں کرسکتا وہ اپنے اس ووٹر سے کتنا مخلص ہوسکتا ہے جس ووٹر کی اسے پانچ سال بعد ہی دوبارہ ضرورت پڑتی ہے ہمارے سامنے اس وقت انتخابی حلقہ جات کی ترتیب کے لحاظ سے حلقہ این اے 75فیصل آباد کا پہلا حلقہ ہے اس حلقہ میں ق لیگ کے دو نمایاں لیڈر سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری محمد افضل ساہی اورچوہدری زاہد نذیر الیکشن سے کچھ دیر قبل ن لیگ سے ٹکٹ ملنے کے لالچ میں اپنی جماعت کو خیر باد کہہ گئے ‘چوہدری محمد افضل ساہی اپنے لئے صوبائی سیٹ اوراپنے بھائی کرنل (ر)چوہدری غلام رسول ساہی کے لئے قومی اسمبلی کی سیٹ چاہتے تھے ‘غالباً انہوں نے ق لیگ کے حالات ذرا”پتلے“محسوس کرکے ن لیگ سے حلقہ این اے 75اورپی پی 52کے لئے ”دوستی کرلی“ابھی فریقین میں سجھوتے کے لئے خفیہ شرائط کا تبادلہ کیاہی جارہاتھا کہ ان کے پرانے حریف فیصل آبادکے بااثر چوہدری نذیر مرحوم خاندان کے دونمائندے چوہدری زاہد نذیر اورچوہدری عاصم نذیرنے بھی ق لیگ کے مستقبل کو مشکوک خیال کرتے ہوئے ن لیگ کی قیادت کی جانب رخ کرلیا یا ن لیگ کے کھلاڑیوں نے انہیں اپنے حق میں قائل کرلیا بہرحال کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں جونتائج سامنے آئے ان کے مطابق این اے 75کے لئے چوہدری زاہد نذیر اوراین اے 76کے لئے ان کے چھوٹے بھائی چوہدری عاصم نذیر کو ٹکٹ دیئے جانے تھے ۔چوہدری نذیر احمد مرحوم فیملی کبھی فیصل آباد کے انتخابی حلقوں میں ٹکٹوں کی تقسیم یانامزدگیوں میں بنیادی کردار اداکیاکرتی تھی مگر چوہدری نذیرا حمد کی وفات کے بعد ان دونوں بھائیوں کی سیاسی قلابازیوں اورفیصلوں میں عدم استقامت نے اس خاندان کو روبہ زوال کردیا۔جوخاندان کبھی کامیابی کی سوفیصد ضمانت سمجھا جاتا تھا اس خاندان کے ایک پرانے کاروباری حریف فاروق احمدخان (آف پیپسی کولا)نے میاں برادران کے ساتھ اپنے ذاتی مراسم کے حوالے سے ن لیگ کے اندر این اے 76میں چوہدری عاصم نذیر کے مقابلے میں طلال چوہدری کی حمایت کردی‘کبھی طلال چوہدری آگے اورکبھی چوہدری عاصم نذیر آگے کئی مہینوں تک یہ کھچڑی پکتی رہی‘اسے چوہدری نذیر احمد مرحوم فیملی کی سیاسی مجبوری یا مفاہمت پالیسی کہہ لیں یا فاروق احمدخان کی اناکی تسکین کہ ن لیگ کی قیادت چوہدری نذیر فیملی کواین اے 76کے ٹکٹ کے لئے فاروق احمد خان کے گھر تک بھی لے گئی‘بظاہر برف پگھلتی بھی نظر آئی اورایک دوسرے کو تسلیاں بھی دی گئیں مگر جب ٹکٹوں کی تقسیم کا آخری مرحلہ سامنے آیا توفاروق احمد خان اورچوہدری افضل ساہی اپنے اپنے پلان کے مطابق جیت چکے تھے اورچوہدری عاصم نذیر کو این اے 76کے بجائے این اے 77کا ٹکٹ دے دیاگیا اورچوہدری زاہد نذیر کو ایک صوبائی حلقہ بظاہر نا قابل قبول آفر کرکے ن لیگ نے اپنے آپ کو سرخرو رکھنے کی کوشش کی ۔کیا یہ ن لیگ کے کسی ایک خاص حلقہ کی طرف سے چوہدری نذیر مرحوم فیملی کی سیاست کوختم کرنے کی کوئی پلاننگ تھی یا وقت کے ساتھ ساتھ ن لیگ کو ان دونوں بھائیوں سے بہتر امیدوار ملنے کا یقین ہوگیاتھا یا پھران دونوں بھائیوں کو ق لیگ کے ٹکٹ پر کامیابی کا یقین نہیں رہاتھا اورانہوں نے ن لیگ سے سیاسی سمجھوتہ کو بہتر خیال کرکے ق لیگ کو چھوڑدیایہ تو خداہی بہتر جانتا ہے یاوہ بہتر جانتے ہیں جواپنی اپنی مچان پر بیٹھ کر شکار کھیل رہے تھے مگر یہ سب کچھ اس وقت ہواجب ان دونوں بھائیوں پر آگے پیچھے کے تما م سیاسی دروازے بند ہوچکے تھے ۔بروقت اوربہتر فیصلوں کا فقدان بالٓاخر چوہدری زاہد نذیر کو آزاد حیثیت سے این اے 75میں اورچوہدری عاصم نذیر کو این اے 77پرہی اکتفا کرنے پر لے آیا۔ایک وقت تھا کہ چوہدری نذیر مرحوم فیملی کا نمائندہ آزاد ہویا ٹکٹ ہولڈر کامیابی کی ضمانت سمجھاجاتا تھا مگر اب ان میں خود اعتمادی کا فقدان نظر آتا ہے اوروہ بظاہر حوصلہ ہارے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اگر چوہدری زاہد نذیر ماضی میں کی ہوئی اپنی سیاسی غلطیوں کی اصلاح کرکے ووٹرز کو اپنی ”وفاﺅں“ کا یقین دلانے میں کامیاب ہوجائیں اوراپنے پرائے کی شناخت کرنے کے اہل ہوجائیں تو آزاد حیثیت میں بھی وہ اس حلقہ کی سیاسی الٹ پلٹ کرسکتے ہیں اس حلقہ میں اب ن لیگ کے امیدوار کرنل(ر)غلام رسول ساہی‘تحریک انصاف کے امیدوار فواد احمد چیمہ اورپیپلز پارٹی کے امیدوار طارق محمود باجوہ تینوںکا تعلق جٹ برادری سے ہے یہ حلقہ بھی زیادہ تر دیہی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں ذات برادری کی بنیاد پر یا دیہی گروپوں کی بنیاد پر الیکشن ہوتے ہیں تاہم پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ کے نظریاتی ووٹوں کو بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا ہے ۔این اے 75میں ایک سروے کے مطابق جٹ برادری 35فیصد‘آرائیں برادری20فیصد‘راجپوت برادری12فیصد رہتی ہے جبکہ باقی دیگر برادریاں آباد ہیں جب 2002ءکے الیکشن ہوئے تو کرنل (ر)غلام رسول ق لیگ کے امیدوار تھے ‘انہوں نے 132264ووٹوں میں سے 55464ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ‘ان کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے امیدوار واجد مصطفےٰ باجوہ نے 35415ووٹ اورن لیگ کے امیدوار مصباح الدین ضیغم نے 31283ووٹ حاصل کئے تھے ‘پھر2008ءکے الیکشن میں پیپلزپارٹی کے امیدوار طارق مصطفےٰ باجوہ (2002ءکے الیکشن میں امیدوار واجد مصطفےٰ باجوہ کے بھائی)نے83699ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی‘ان کے مقابلے میں کرنل (ر)غلام رسول ساہی نے ق لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے 68126ووٹ حاصل کئے اوردوسرے نمبر قرار پائے حالانکہ اگر ترقیاتی کاموں کے حوالے سے جائزہ لیاجائے تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ ہار جائیں گے ‘اس وقت ان کے بھائی چوہدری محمد افضل ساہی پنجاب اسمبلی کے سپیکر بھی تھے ‘لیکن فیصل آباد میں خوف ودہشت کی علامت سمجھے جانے والے خرم باجوہ گروپ کے ساتھ ان کے تعلق کو حلقہ کے ستائے ہوئے لوگوں نے بہتر خیال نہ کیا اوروہ ہار گئے ‘ان دنوں انتخابات میں اس حلقہ کی دوسری بڑی آرائیں برادری کا کوئی امیدوار بھی موجود نہ تھا ۔11مئی کے انتخابات میں چار نمایاں سیاسی پارٹیوں ن لیگ ‘پیپلز پارٹی اورتحریک انصاف کے تینوں امیدوار جٹ برادری سے تعلق رکھتے ہیں ‘ق لیگ تو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بناپر پیپلز پارٹی کے امیدوار طارق مصطفےٰ باجوہ کی حمایت کررہی ہے مگر دیکھاگیا ہے کہ جس طرح پیپلز پارٹی کا نظریاتی ووٹر مسلم لیگ کو ووٹ نہیں دیتا اسی طرح مسلم لیگ کا نظریاتی ووٹر بھی پیپلزپارٹی کو وٹ نہیں دیتا‘تینوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں کو برادری کے حوالے سے ووٹ تقسیم ہو کر ملیں گے ‘اس صورت میں اگر چوہدری زاہد نذیر آزاد امیدوار کی حیثیت سے اوپر تحریر شدہ شرائط کی روشنی میں کھڑے ہوجاتے ہیں توا ن کی اپنی آرائیں برادری ‘چوہدری نذیر احمد مرحوم فیملی کے حامی ووٹ ‘کچھ مسلم لیگ کے نظریاتی ووٹ‘کچھ ن لیگ اورپیپلز پارٹی سے گزشتہ پانچ سال سے ناراض ہونے والے ووٹ بھی چوہدری زاہد نذیر کومل سکتے ہیں ممکن ہے وہ ان حالات میں سیاسی فائدہ اٹھاکر کامیاب بھی ہوجائیں بہرحال اگر وہ کامیاب نہ بھی ہوں تو کم ازکم انہیں ساتھ ملاکر راستے میں ہی”تنہا چھوڑ جانے “والی ن لیگ کے امیدوار کوایک بڑا نقصان پہنچاکرن لےگ کو اپنی سےاسی اہمےت و قوت کا احساس ضرور دلا سکتے ہےں ۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳