جسم فروشی بہت پھیل چکی ، گوا میں پلے بوائے کلب کی تجویز مسترد

جسم فروشی بہت پھیل چکی ، گوا میں پلے بوائے کلب کی تجویز مسترد
جسم فروشی بہت پھیل چکی ، گوا میں پلے بوائے کلب کی تجویز مسترد

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) ہندوستانی ریاست گوا نے ساحل پر ’ پلے بوائےکلب بنانے کی تجویز مسترد کردی ہے ۔ گوا کا خیال ہے کہ اس کلب سے فحاشی کو فروغ حاصل ہو گا جبکہ ایک قانون ساز نے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ نائٹ کلب کھولا گیا تو وہ بھوک ہڑتال کریں گے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر دیا گیا ہے۔ گوا کے وزیر اعلیٰ منوہر پاریکر نے ریاستی اسمبلی کو بتایا کہ پلے بوائے کی درخواست مطلوبہ شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کردی گئی ہے۔ ریاستی پالیسی کے تحت ساحل پر کوئی مقامی فرد صرف اپنے نام پر ہی کسی قسم کی تعمیر کی درخواست دینے کا اہل ہے۔ ‘ہم کسی بھی غیر ملکی برانڈ کو کلب بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ پلے بوائے کی ہندوستان میں شاخ پی بی لائف سٹائل نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے دس سالوں میں 120 کلب ، ہوٹل فیشن کیفے اور دکانیں کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گوا کے وزیر سیاحت دلیپ پارولیکر کا کہنا ہے کہ گوا میں اس منصوبے کو لے کر کافی بحث جاری ہے کہ اس کلب کے ذریعے فحاشی کو فروغ ملنے کے حوالے سے کافی تشویش پائی جاتی ہے۔‘ہمیں معلوم ہے کہ ریاست کی ساحلی پٹی میں جسم فروشی کتنی زیادہ پھیل چکی ہے۔پی بی لائف اسٹائل سے، جس کا اصرار رہا ہے کہ اس کلب میں کوئی عریانیت نہیں ہو گی، درخواست مسترد ہونے کے بعد تبصرے کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا۔ پلے بوائے نے ملک کی قدامت پسند روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے دسمبر میں اپنےآو¿ٹ لیٹس پر خواتین میزبانوں ‘بن گرلز’ کے لیے ساڑھی کی طرز پر نئے لباس متعارف کرائے تھے۔ ہندوستان میں قوانین کے تحت فحش مواد پر مبنی غیر ملکی پبلیکیشنز بالخصوص پلے بوائے میگزین پر پابندی ہے۔

مزید : بین الاقوامی