طالبان ہماری بات غور سے سنیں، قوم کے پیسے سے اپنے نوجوانوں کا الیکشن لڑیں گے:عمران خان

طالبان ہماری بات غور سے سنیں، قوم کے پیسے سے اپنے نوجوانوں کا الیکشن لڑیں ...
طالبان ہماری بات غور سے سنیں، قوم کے پیسے سے اپنے نوجوانوں کا الیکشن لڑیں گے:عمران خان

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ضلعی سطح پر منتخب عہدیداروں کی سفارشات پر 80 فیصد ٹکٹ دیے ہیں،باقی 20 فیصد امیدوار پارٹی امیج اور نوجوانوں ہیں۔ 35 فیصد سے زیادہ ٹکٹ چالیس سال سے کم عمر لوگوں کو دئیے جبکہ چو بیس فیصد 35 سال سے کم عمر امید وار لائے گئے ہیں،نو جوان امید واروں کی تعداد 250سے زیادہ ہے جن کے لیے پاکستانی عوام سے فنڈنگ کروائیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر نوجوان اپنے پیسوں سے الیکشن نہیں لڑ سکتے ،اس لیے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نوجوان امید واروں کو پیسے دیں ۔جیونیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘میں گفتگوکرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امید واروں کی مدد پارٹی کی جانب سے بھی کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی اخراجات میںکمی کر کے بہت اچھا کام کیا ہے،حکومت کا کام ہے کہ وہ انتخابات کے روز ووٹرز کو سفری سہولت مہیا کر ے۔ الیکشن میںجتنا خرچ بڑھایا جائے گا ،اتنی ہی کرپشن بڑھے گی۔جو لوگ کروڑوں روپے انتخابات میں لگائیں گے وہ کرپشن کر کے رقم دگنی بھی کریں گے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہااگر پاکستان اسلامی فلاحی ریاست نہیں بنتا تو اس کے معرض وجود میں آنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات میں مذہب سے کام نہ لینے کا اس لیے کہا ہے تاکہ فرقہ واریت اور نفرتوں کی پھیلنے سے روکا جائے ۔ عمران خان نے کہا کہ طالبان اُن جماعتوں پر حملے کر رہے ہیں جنہوں نے امریکی جنگ کی حمایت کی تھی ،پی ٹی آئی نے ہمیشہ اس کی مذمت کی ۔اگر طالبان سن رہے ہیں تو پاکستان کو موقع دیں اور ہمیں ایک نیا آزاداور خودمختار پاکستان بنانے دیں۔ الیکشن میںکسی قسم کاتشدد نہ کیا جائے تاکہ سیاسی جماعتیں مہم جوئی کرسکیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت میں آکر خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلیاں کروں گا۔ایران سے تعلقات بہتر بنائے جائیں گے ۔افغانستان میں کسی گروپ کا ساتھ نہیں دیناچاہیے،وہ ہمارے بھائی ہیں اس لیے ہمیں اُن کی مددکرنی چاہیے لیکن ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔بھارت سے تعلقات اچھے کیے جائیں گے ،کشمیریوں کے ساتھ سیاسی طور پر کھڑے ہوں گے لیکن کوئی ملٹری آپریشن نہیں کیا جائے گا۔بھارت کو یقین دلایا جائے گا کہ پاکستان سے مقبوضہ کشمیر میں کوئی مداخلت نہیں ہو گی اور مقبوضہ ریاست سے بھارتی فوج کو نکالنے پر زور دیا جائے گا۔

مزید : قومی