حقوقِ نسواں اورخواتین اراکین اسمبلی!

حقوقِ نسواں اورخواتین اراکین اسمبلی!
حقوقِ نسواں اورخواتین اراکین اسمبلی!
کیپشن: hakeem tehseen ahmad

  

8مارچ جیسے تیسے گزر گیا اور ہم نے من حیث القوم یہ نعرہ دھرایا کہ خواتین ہماری مملکت کا وہ ستون ہے جس کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے۔ ملک کی51فیصد آبادی رکھنے والی یہ حوا کی بیٹیاں کس حال میں ہیں یہ ہر کوئی جانتا ہے۔ ان کے حقوق سلب کرنے میں کون کون شامل ہیں اور ان کو حقوق دلوانے والے کتنے ہیں، کبھی تو خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی، کبھی ملازمت کے حصول میں دشواری اور کبھی اپنی عزت بچانے کی بے بسی اور بھی بہت کچھ ہے، لیکن حقوق نسواں کے علمبرداروں سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ حقوق کے لئے اجلاس ہوتے رہیں گے یا ان کے لئے قانون سازی بھی کی جائے گی۔ بھائی یہ تو ہماری خواتین ارکان اسمبلی کی مرضی ہے، وہ بحیثیت خاتون رکن قانون ساز اسمبلی کیا کرتی ہیں۔ رہی بات این جی اوز کی تو وہ فنڈ اکٹھا کرنے میں مگن ہیں اور فوٹو سیشن سے بھی فرصت نہیں ان کو۔ تاکہ ہمارا نام میڈیا پر آئے بڑی بڑی شہ سرخیاں لگیں، لیکن ہنوذ دلی دور است۔ سچی لگن کے ساتھ اگر کسی کام کا بیڑا اٹھایا جائے تو وہ کام پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے۔ ہر صبح جب اخبار پر نظر ڈالیں گے تو کیا پڑھو گے عزت لٹ گئی، جلا دیا، قتل کر دیا، جہیز نہ لائی اور پھر غیرت کا معاملہ یہ سب کیا ہے، کیا یہ ہر کام کی مجرم ہیں انہی کو کیوں الزام دیا جاتا ہے، اس لئے کہ یہ صنفِ نازک ہے۔ بول نہیں سکتی۔ خدارا یہ ماں ہے۔ بیٹی ہے۔ بہن ہے اور بیوی بھی کیا ان رشتوں سے انکار ہو سکتا ہے بھلا پھر کیوں ہے یہ بے انصافی،کیوں ہے یہ ظلم اور زیادتی۔دوسری طرف حقوق نسواں کی تنظیمیں کون سے حقوق حاصل کرنے کے لئے میدان میں آئی ہیں۔ ہمارے پاس حقوق نسواں کے لئے ایک جامع اور مکمل پروگرام موجود ہے جو نبی پاک نے کئی صدیاں پہلے بنا دیا تھا کیوں عمل نہیں کرتے۔ ان قوانین پر جو قرآن و سنت نے بنائے ہیں۔ جدید دور کے جدید تقاضے لے کر بیٹھ جائیں، لیکن عمل نہ کریں تو کیسے ملیں گے حقوق۔ سب کچھ ملے گا، لیکن قرآن و سنت کے مطابق ہی ملے گا۔ اب اس کے لئے ارباب اختیار کیا کرتے ہیں یہ ان سے پوچھا جائے۔ ان کی رائے کیا ہے، ارباب اختیار ایک بڑے اجتماع میں اعلان فرما دیتے ہیں۔ حکومتی اربابِ اختیار نے بے شمار اعلانات کئے، لیکن عمل کون کرائے گا یا یہاں بھی کوئی طبقہ ہے جو ارباب اختیار کے اعلان کردہ بات سے صرفِ نظر کر سکتا ہے۔واہ جی واہ کمال ہی ہو گیا ڈالر100روپے سے بھی نیچے آ گیا، کتنی خوشی کی بات ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یہ ڈالر بڑھا کیسے ہماری غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے یا افراط زر کی وجہ سے ہم جو دن رات نوٹ چھاپ رہے ہیں اربوں کے حساب سے اور قرضے لے رہے ہیںدھڑا دھڑ،یہی ہے ہماری معاشی پالیسی۔ قوم کو نجات دلانے کے وعدے ہو رہے تھے۔ الیکشن کے دوران کیا یہ بھی سیاسی بیان بازی کا حصہ تھا۔ اگر ہاں تو پھرکیوں دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ اس پسی ہوئی قوم کو جو پہلے ہی سے پستی چلی آ رہی تھی اچھا ریلیف دیا ہے ارباب اقتدار نے۔پتہ چلا کہ ڈالر واقعی98روپے سے بھی کم کا ہو گیا۔ سبحان اللہ کچھ کوشش کر کے مزید نیچے لائیں تو کیا ہی بات ہے، موسم گرما کی آمد آمد ہے بہار اپنا رنگ د کھا ہی ہے، گھروں کے لان ہوں یا پارک ہوں، سڑک کی گرین بیلٹ سبھی پر رنگِ بہار جلوہ افروز ہے۔ نگاہیں جدھر بھی پڑتی ہیں سحر میں کھو جاتی ہیں، سب سے لطف اندوز ہوں لیکن دامن احتیاط مضبوطی سے پکڑے رہئے کیونکہ اس موسم میں دن کوگرمی صبح شام ٹھنڈ کا احساس سا ہوتا ہے،بدلتے موسم کی رُت میں لباس کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ آپ کی صحت ہے تو قوم کی صحت ہے۔مکرمی! وطن عزیز جن حالات سے اس وقت گزر رہا ہے۔ وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت جس مثالی جذبہ حب الوطنی اور قومی اتحاد کی جو مثال قائم کی گئی تھی ، اس کو دہرانے کی ضرورت ہے۔اس وقت ملک و قوم کو درپیش دو بڑے مسائل جن میں امن و امان کی خراب صورت حال اور معیشت کی بحالی ہیں۔حکومتِ وقت ان دونوں مسائل کو حل کرنے کے لئے نیک نیتی سے کوششیں کررہی ہے۔قومی اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے معیشت میں بہتری کے اشارے مل رہے ہیں، جن میں روپے کی قدر میں استحکام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد شامل ہیں۔امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے حکومت کی درست سمت کوششیں جاری ہیں۔موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن سمیت تمام سٹیک ہولڈرز ملک کے حالات بہتر بنانے میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں، تاکہ دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی، فلاحی مملکت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔)محمد ضیاءآفتاب، گارڈن ٹاﺅن، لاہور(

مزید :

کالم -