کشمیر میں الگ ہندو کالونیوں کا مودی منصوبہ

کشمیر میں الگ ہندو کالونیوں کا مودی منصوبہ
کشمیر میں الگ ہندو کالونیوں کا مودی منصوبہ

  

ایک خبر کے مطابق وادئ کشمیر خصوصاً سری نگر کے اندر اور آس پاس الگ تھگ ہندو کالونیاں بسانے کا منصوبہ سامنے آیا ہے، بظاہر یہ کالونیاں ان ہندو پنڈتوں کے لئے بنائی جا رہی ہیں ،جو آزادی پسند کشمیریوں کے ڈر سے گھر بار چھوڑ کر جموں کے ہندو اکثریت والے علاقوں میں یا بھارت چلے گئے تھے، لیکن حقیقت میں ان ہندو کالونیوں کا مقصد وادئ کشمیر کے مسلم اکثریت والے علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے، کشمیر کے مسلمان لیڈروں نے بجا طور پر اس پر احتجاج کیا ہے اور اسے اسرائیل کے یہودی حکمرانوں کی ظالمانہ روش کی نقل اور پیروی قرار دیا ہے، جو فلسطین کے مسلمانوں سے زمینیں چھین کر نئے یہودی آباد کاروں کے لئے کالونیاں بساتے آ رہے ہیں، اب گویا کشمیری مسلمانوں سے بھی بی جے پی کی مودی حکومت یہی سلوک کرنے جا رہی ہے!

مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے تجویز کیا ہے کہ خوف کے مارے بھاگ جانے والے ہندو دوبارہ اپنے سابقہ گھروں میں آ جائیں یا اپنے ہم وطنوں کے درمیان آباد ہو جائیں، مگر مودی مہاراج اس پر بہت سیخ پا ہوئے اور اپنے منصوبہ پر اصرار کیا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ نے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کو نئی دہلی سے طلب کر کے جھاڑ پلائی ہے اور کشمیریوں سے زمین چھین کر یہ ہندو کالونیاں ہر قیمت پر آباد کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے بی جے پی کی پالیسی قرار دیتے ہوئے اسے مرکزی حکومت کی نافرمانی اور قومی پالیسی کی توہین قرار دیا ہے۔

مودی سرکار کا یہ منصوبہ در اصل ہندو مہا سبھا جن سنگھ اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کا عملی نفاذ ہے، جس کے مطابق کوئی غیر ہندو خصوصاً مسلمان یا عیسائی اپنے عقیدہ اور ثقافت پر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ ان سب کو ہندو مت کے دائرے میں آنا ہوگا، اکھنڈ بھارت اور رام راج کا یہی تقاضا ہے، مودی کے برسر اقتدار آتے ہی ایسی خبریں مسلسل آ رہی ہیں کہ بی جے پی کے جنونی غنڈے مسلمانوں اور عیسائیوں کو زبردستی اپنا مذہب چھوڑ کر ہندو مت قبول کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ کشمیر میں مذکورہ ہندو کالونیوں کا مقصد بھی یہی ہے! عجیب تر بات یہ ہے کہ لوگوں کو زبردستی ہندو بنانے والے یہی لوگ اپنے مُلک کو سیکولر اور جمہوری کہتے ہوئے شرماتے بھی نہیں اور ہندو بھارت کو دُنیا کی سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت کہتے ہوئے تھکتے بھی نہیں! ہمارے نالائق سفارت کار اور ملکی دولت لوٹنے میں مست سیاست دان دُنیا کو بھارت کا یہ چہرہ دکھانے سے بھی عاجز ہیں! اگر ان میں کچھ جان ہوتی تو مذہبی جنونی اور تنگ نظر ہندو دُنیا میں ہر فورم پر مُنہ چھپاتے پھرتے!

ہندوستان ایک ہزار سال سے زائد عرصہ تک ’’ہندوستان‘‘ رہا اور یہاں کے رہنے والے مسلم او رغیر مسلم سب ’’ہندوستانی‘‘ کہلاتے تھے، اس پر کسی کو اعتراض نہ تھا، بلکہ سب لوگ اس پر فخر کرتے تھے، مگر ہندوستان پر صلیبی انگریز کے منحوس قدم پڑتے ہی یکسر فضا بدل گئی۔ رنگ بدل گئے اور ہندو برہمن کا رویہ بدل گیا، ہندو نے اپنے پرانے آقا سے غداری اور نئے آقا سے وفاداری کو اپنا کھلا اور خفیہ رویہ بنا لیا! انگریز نے برہمن کے کان میں ’’اکثریت کی حکمرانی ‘‘کی لوری سنائی تو ہندو برہمن جھوم اُٹھا اور آج تک اسی نشے میں مست جھوم رہا ہے! چونکہ ہندو اکثریت میں ہیں اس لئے گویا جمہوری تقاضا ہے کہ یہاں ہندو ہی حکومت کرے، حالانکہ جمہوریت میں مذہبی اکثریت کے بجائے جمہور عوام کے ووٹ سے حاصل ہونے والی اکثریت مراد ہے، اس لئے جمہوریت کا بنیادی تقاضا سیکولرزم ہے، جس کے اصل معنی مذہبی معاملات میں غیر جانب دار ہونا ہے، قرآن کی رو سے، میثاق مدینہ کی رو سے اور قائداعظمؒ کے ارشاد کی رو سے سیکولرازم کے معنی مفہوم اور مقصود یہی غیر جانبداری ہے، مگر بر ہمن مہاراج کی جمہوریت میں مذہبی اکثریت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ الیکشن میں حصہ لینا صرف ہندو اکثریت کا حق ہے غیر ہندو کا نہ ووٹ ہے، نہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے اور نہ اسے حکومت کا حق ہے، یہ انوکھی جمہوریت اور اکثریت کا انوکھا تصور صرف برہمن مہاراج کا ہے، وہ اسی غلط قصور میں پاگل ہو چکا ہے اور انگریز کی منحوس لوری سے آج تک جھوم رہا ہے، اس لئے برہمن نے ہندوستان کے تصور کو مسترد کر کے بھارت، بلکہ اکھنڈ بھارت اور رام راج کو ہی جمہوریت تصور کیا ہوا ہے، اس لئے وہ کسی غیر ہندو کو برداشت کرنے کے بجائے اسے زبردستی ہندو بنانے پر کمر بستہ ہے اور اس لئے وہ برصغیر میں پاکستان، آزاد کشمیر یا آزاد بنگلہ دیش برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، اسی لئے مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں وغیرہ کو زبردستی ہندو بنانے، ہندو مت کے دائرے میں لانے اور ’’ہندو توا‘‘ کو منوانے پر تلا ہوا ہے اور کشمیر میں حالات بدلنے کے لئے کالونیوں کا یہ منصوبہ ایک ابتدا ہے! آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

بہادر کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی کو دیکھ کر مجھے خیال آتا ہے کہ مکار برہمن کشمیر کو بھی فلسطین اور کشمیریوں کو بھی فلسطینی بنا دے گا! وہ تو ہو گیا! اب مجھے یہ ڈر ہے کہ آنے والے وقت میں ہندو پاکستان کو بھی عرب ملک اور پاکستانی لیڈروں کو بھی عرب لیڈروں کی سطح پر لے آئے گا! یعنی کوئی پاکستانی لیڈر کشمیریوں کی مدد کرنا تو دور کی بات ہے کسی بھی بین الاقوامی سطح پر کشمیر اور آزادئ کشمیر کی بات کرنا بھی جرم قرار پا جائے گا، جس کے آثار اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں، آج پاکستانی ہائی کمشنر کا حریت کے لیڈروں سے ملنا جرم ہے اور اگر پاکستان کا وزیراعظم اقوام متحدہ کی سطح پر کشمیریوں کے حق آزادی کا نام بھی لے تو مودی مہاراج لرز جاتے ہیں اور اپنے ’’بے تکلف دوست‘‘ اوباما سے بھی اس کی شکایت کرتے ہیں! ہمارے نالائق سفارت کاروں اور بزدل سیاست دانوں کی خاموشی، خوف اور شرمانے کا انجام تو یہی ہو گا! حالانکہ کشمیر تو اقوام متحدہ اور تمام دُنیا کے حق پرست آزادی پسندوں کے نزدیک آزاد ہونے کا حق رکھتا ہے!

مزید :

کالم -