ایس ایس پی سے انسپکٹر بننے والے عمر ورک کا کچھ نہ بگڑا

ایس ایس پی سے انسپکٹر بننے والے عمر ورک کا کچھ نہ بگڑا
ایس ایس پی سے انسپکٹر بننے والے عمر ورک کا کچھ نہ بگڑا

  



لاہور(ویب ڈیسک) جنرل روزنامچے پر لکھے جانے کے بعد سابق ایس ایس پی سی اے اور موجودہ انسپکٹر عمرورک سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل نہ کرتے ہوئے دفتر کی بجائے اپنے گھر بیٹھ کر نہ صرف ایس ایس پی سی آئی اے کی ڈاک رہے ہیں بلکہ انسپکٹر ہوتے ہوئے بھی پوری سی آئی اے کو چلتے پھرتے کنٹرول کرنے میں مصروف ہیں جبکہ آئی جی پنجاب کی طرف سے سپریم کورٹ میں بھی جواب داخل کرایا گیا ہے کہ عمر ورک انسپکٹر کے عہدے پر کام کررہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر جہاں دیگر پولیس اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے ہٹاکر اصل عہدوں پر کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں پولیس کے جنرل روزنامچے میں سابق ایس ایس پی سی آئی اے عمر ورک کے بارے میں بھی ریٹ لکھی گئی ہے کہ انہیں انعامی ترقیاتی ختم کر کے انسپکٹر بنا دیا گیا ہے۔ اب وہ بطور انسپکٹر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ یہی رپورٹ سپریم کورٹ میں بھی پیش کی گئی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک انسپکٹر ایس ایس پی کی ساری ڈاک گھر منگواکر سائن کر رہا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انسپکٹر ہونے کے باوجود محکمہ کی طرف سے تمام مراعات ، سرکاری گاڑی، گن مین ، سرکاری گھر وغیرہ ایس ایس پی کے عہدے کے حساب کر رہا ہے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ سپریم کورٹ میں انسپکٹر کی سلپ جمع کروا کر انسپکٹر عمر ورک پولیس کے روایتی نظام کے تحت ہی اپنا کام چلا رہا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس افسران کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کی جارہی ہے اور تقریبا پنجاب پولیس کے 3700 پولس افسران کی نفری کو انکے اصل عہدوں پر کام کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے عمر ورک دفتر نہیں جارہے ہیں اس کیس کا سپریم کورٹ کی آئندہ تاریخ پر فیصلہ ہو گا۔

مزید : لاہور


loading...