حقیقی بیٹی کو دھندے پر بٹھانے کیلئے بیوی پر تشدد ،زیادتی کی بھی کوشش

حقیقی بیٹی کو دھندے پر بٹھانے کیلئے بیوی پر تشدد ،زیادتی کی بھی کوشش
حقیقی بیٹی کو دھندے پر بٹھانے کیلئے بیوی پر تشدد ،زیادتی کی بھی کوشش

  



فیصل آباد (ویب ڈیسک) ملت ٹاﺅن کے علاقہ میں خاوند کا بیوی پر تشدداور اپنی حقیقی بیٹی سے زیادتی کی کوشش مگر زمین پھٹی نہ آسمان گراجبکہ شوہر کے ظلم و ستم اور اس کی بری حرکات سے تنگ آکر بیوی نے اپنے خاوند سے طلاق حاصل کر لی ہے ۔ جس پر متعلقہ خاتون کے شوہر نے اپنی سابقہ بیوی اور بچوں کے اوپر جینے کیلئے زمین تنگ کر دی ۔ مختلف تھانوں کی پولیس کی ملی بھگت سے درخواستیں دیکر اپنی سابقہ اور بیٹیوں کے خلاف جھوٹے بے بنیادمقدمات درج کروانے لگا ہے۔ پولیس کے ہمراہ گھر میں زبردستی داخل ہو کر بیوی بچوں کو ہراساں و پریشان کرتا ہے متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ میرے سابق شوہر نے میری اور میرے بچوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور مجھے اور میری جوان ’بیٹی ‘ کو دھندے پر لگانا چاہتا تھا انکار پر مار پیٹ کر تا ہے جس پر میں نے اپنے بچوں کے ہمراہ خاوند سے طلاق لیکر علیحدگی اختیار کر لی ہے میرا شوہر نشئی بدکردار فحاشہ عورتوں و شراب کارسیا اور عورتوں کا سپلائر تھا یہ بات 80 مربع چک نمبر 203 ر۔ب مانانوالہ فیصل آباد کی رہائشی پروین کوثر نے بتائی ۔ اس نے بتایا کہ میر اشوہر امتیاز عرف بلاشرابیار رکشہ چلاتا ہے مجھے اور میری جواں سال بیٹی کو بدکاری پر مجبور کرتا رہا۔ ہمارے انکار کرنے پر تشدد کا نشانہ بناتا تھا مگر گھر بچانے کی خاطر میں شوہرکے ظلم وستم کو برداشت کرتی رہی مگر ظلم کی آخیر ہونے پر آٹھ ماہ قبل میں نے عدالت سے رجوع کر کے طلاق حاصل کر لی ہے ۔ اسی رنجش پر میرا خاو ند میرا اور میرے بچوں کا دشمن بن گیا ہے مختلف تھانوں کی پولیس سے سازباز ہو کر ہمارے خلاف بلاوجہ درخواستیں دیکر جھوٹے مقدمات درج کروارہا ہے۔ میرے بیٹوں تصدق حسین اور عاصم عمران کے خلاف تھانہ منصور آباد میں جھوٹا مقدمہ درج کروادیا جو کہ اعلیٰ پولیس آفیسر نے خارج کر دیا ہے جس کے بعد میرے خاوند نے تھانہ ملت ٹاﺅن میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ جس میں پھر میرے بیٹے کو نامزد کر دیا۔ اس بارے میں سی پی او فیصل آباد کو درخواست دی اور انکوائری میں یہ مقدمہ بھی جھوٹا ثابت ہونے پر سرکل ڈی ایس پی نے خارج کر دیا مگر اس کے باوجود میرے سابق خاوند اور چوکی منیانوالہ کے اے ایس آئی اللہ و سایانے ہمیں تنگ و پریشان اور ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ گھر کے دروازے کو ٹھڈے مار کر توڑنے اور گھر میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میری جواں سال بیٹی معظمہ کو اغواءکرکے لیجانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ میرے سابق شوہراور پولیس نے ہمارا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ظلم و ستم کا شکار خاتون نے بتایا کہ میں اس بارے میں سی پی او فیصل آباد کو ایک درخواست دے چکی ہوں اور اب میں نے آرپی او فیصل آباد کے نام دوسری درخواست دیدی ہے۔ اس امری پر اپنے سابق خاوند کے ظلم وتشدد اور پولیس کی ناانصافیوں کا شکارہے آسرا خاتون پر وین کوثر نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب ، ارپی او او ر سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس لیکر میرے سابقہ بدکردار شوہر اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کر کے انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے۔

مزید : فیصل آباد