عرب ملک میں پولیس کا چھاپہ، جسم فروشی پر مجبور کی جانے والی درجنوں لڑکیاں بازیاب، تعلق کس ملک سے تھا اور انہیں کیا کہہ کر لایا گیا؟ جان کر آپ کے غصے کی بھی انتہا نہ رہے گی

عرب ملک میں پولیس کا چھاپہ، جسم فروشی پر مجبور کی جانے والی درجنوں لڑکیاں ...
عرب ملک میں پولیس کا چھاپہ، جسم فروشی پر مجبور کی جانے والی درجنوں لڑکیاں بازیاب، تعلق کس ملک سے تھا اور انہیں کیا کہہ کر لایا گیا؟ جان کر آپ کے غصے کی بھی انتہا نہ رہے گی

  



بیروت (نیوز ڈیسک) ملک شام کو دہشت گردوں نے برباد کردیا، حکومت اور معیشت خانہ جنگی کی نظر ہوگئی، اور اس قوم کی نوعمر بچیوں کو ہوس پرستوں نے اپنی تفریح طبع کا سامان بنالیا۔ اس بدقسمت سرزمین کے رہنے والوں کی ابتلا ءمحض ان کے گھروں اور کاروبار کی بربادی پر ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ ان کی بیٹیاں غیر ممالک میں لیجاکر جسم فروشی کے اڈوں کی زینت بنائی جارہی ہیں۔ لبنان میں بھی ایک ایسا ہی اندوہناک انکشاف منظر عام پر آیا ہے، جہاں ملازمت کاجھانسہ دے کر لائی گئی درجنوں شامی لڑکیوں کو لبنان کے ہوٹلوں میں جسم فروشی پر مجبور کیا جارہا تھا۔

سعودی لڑکیوں کو موبائل کی اصلاح و مرمت کا ہنر سکھایا جائے گا

سعودی گزٹ کے مطابق اس گھناﺅنے کاروبار کو لبنان کی تاریخ کا سب سے بڑا جسم فروشی کا سکینڈل قرار دیا جارہا ہے۔ بھیانک صورتحال کا انکشاف اس وقت ہوا جب دارالحکومت بیروت کے شمال میں واقعہ ایک ہوٹل سے فرار ہونے والی چار لڑکیوں کی ابتر صورتحال دیکھ کر ایک بس ڈرائیور نے پولیس کو فون کیا۔

خواتین سے ملنے والی معلومات کے مطابق پولیس نے ماملتین کے علاقے میں واقعہ شیز مارس اور سلور ہوٹل پر چھاپے مارے تو صورتحال دیکھ کر ہر کوئی گھبرا گیا۔ یہ ہوٹل قحبہ خانوں میں بدل چکے تھے اور ان کی ہر منزل پر نوعمر شامی لڑکیوں کو کمروں میں قید رکھا گیا تھا۔ بازیاب کرائی گئی لڑکیوں نے بتایا کہ ان میں سے ہر ایک کو دن میں 20 گاہکوں کے حوالے کیا جاتا تھا۔ جو لڑکیاں جسم فروشی سے انکار کرتی تھیں انہیں بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا اور ان پر بے رحمی سے تشدد کیا جاتا تھا۔ پولیس کو ایک گارڈ کی میز پر پڑا ہوا کوڑا بھی ملا، جس کے بارے میں لڑکیوںنے بتایا کہ اسے ان پر تشدد کے لئے اکثر استعمال کیا جاتا تھا۔ پولیس نے دو ہوٹلوں سے 75 شامی لڑکیوں کوبازیاب کراوایا، جبکہ شرمناک دھندے میں ملوث لوگوں کی تلاش اور گرفتاری کا عمل جاری ہے۔

شہر میں واقع ایک کلینک کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ کلینک ڈاکٹر ریاض العالم کی ملکیت ہے اور اطلاعات ہیں کہ حاملہ ہونے والی لڑکیوں کے اسقاط حمل کے آپریشن اس کلینک میں کئے جاتے تھے۔ انسانی حقوق کی کارکن مایا العمار کا کہنا تھا کہ اس کلینک میں 200 لڑکیوں کے غیر قانونی آپریشن کئے گئے۔

شرمناک تفصیلات سامنے آنے کے بعد لبنانی میڈیا میں اب یہ سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر انسانی سمگلنگ اور جسم فروشی کا کاروبار حکام کی نظروں سے کیسے پوشیدہ تھا، اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس جرم میں ملوث کارندوں کے علاوہ ان کی پشت پناہی کرنے والے طاقتورلوگوں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے۔

مزید : عرب دنیا


loading...