پاناما لیکس کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی ،جسٹس (ر)سرمدجلال عثمانی نے مشروط آمادگی کا اظہار کر دیا

پاناما لیکس کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی ،جسٹس (ر)سرمدجلال عثمانی نے مشروط ...
پاناما لیکس کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی ،جسٹس (ر)سرمدجلال عثمانی نے مشروط آمادگی کا اظہار کر دیا

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے بالآخر حکومت کو کامیابی مل گئی ،سابق جسٹس (ر)سرمدجلال عثمانی نے کمیشن کی سربراہی کے لئے مشروط آمادگی کا اظہار کر دیا ۔

نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس (ر)سرمدجلال عثمانی سے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے قائم کئے جانے والے کمیشن کی سربراہی کے لئے رابطہ کیا تو جسٹس (ر)سرمدجلال عثمانی کاحکومتی نمائندے سے کہنا تھا کہ میری 2شرائط مان لی جائیں توکمیشن کاسربراہ بننے کوتیارہوں ، پہلی شرط یہ ہے کہ کمیشن کے قیام کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کااتفاق رائے ہواوردوسری شرط یہ  کہ انہیں حکومتی مداخلت کے بغیرآزادانہ کام کرنے کاحق دیاجائے ۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہنا تھا کہ جسٹس (ر)سرمدجلال عثمانی کی شرائط پر اتفاق رائے قائم کرنے کے بعد ان سے باقاعدہ درخواست کی جائے گی ۔یاد رہے کہ گذشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے تھے کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے کمیشن کی سربراہی کوئی سابق چیف جسٹس کرے، حکومت نے سپریم کورٹ کے پانچ ججوں جسٹس ناصرالملک ، جسٹس تصدق حسین جیلانی ، جسٹس امیر الملک مینگل ، جسٹس سائر علی اور جسٹس تنویر خان سے رابطہ کیا تھا لیکن انہوں نے کمیشن کی سربراہی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا ،ان ججوں میں سے کسی نے دو دن ،کسی نے چند گھنٹوں کا وقت مانگا اور پھر بغیر وجہ بتائے معذرت کر لی، چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت مزید ججوں سے بھی رابطے میں ہیں ، جنہوں نے وقت مانگا ہوا ہے،تاہم وہ ابھی ان کے نام نہیں بتا سکتے۔لیکن اب پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے کمیشن کی سربراہی کے لئے جسٹس (ر)سرمدجلال عثمانی کا نام سامنے آ گیا ہے جنہوں نے سربراہی کے لئے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...