بیکار مباش کچھ کیا کر

بیکار مباش کچھ کیا کر
 بیکار مباش کچھ کیا کر

  



اس وقت ہمارا وطن تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ ہم پر مسلط کی جا چکی ہے۔ توانائی کا بحران اور مشرقی سرحدوں پر بیٹھا دشمن ایسے پیچیدہ مسائل ہیں جن کا حل اتحاد سیاسی پختگی اور بصیرت مانگتا ہے۔ ملکی حالات متقاضی ہیں کہ ہمیں من حیث القوم یکجا ہو کر ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ حکومت کیا، اپوزیشن، سیاسی پارٹیاں، سول سوسائٹی،غرضیکہ پاکستان کے ہر شہری پر یہ فرض ہو چکا ہے کہ ملک کو اس سنگین صورتحال سے نکالنے کیلئے یکجہتی کا اظہار کریں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب اور تمام سیاسی پارٹیوں کی منظوری سے طے شدہ نیشنل ایکشن پلان صرف اور صرف اس وقت ہی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں جب ہم متحد ہو کر ہمہ پہلو جدوجہد کریں۔ حالیہ دنوں انڈین جاسوس کل بھوشن اور چمن سے ایک ایجنٹ کی گرفتاری اس امر کے شاہد ہیں کہ بھارت سقوط ڈھاکہ کی تاریخ کو دہرانے کی سر توڑ کاوشوں میں مصروف ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کا عمل بھی بھارتی خارجہ پالیسی میں سر فہرست ہے۔

تحریک طالبان، داعش اور دیگر دہشت گرد عناصر، گاہے بگاہے بے گناہ پاکستانیوں کو بربرہیمیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کہیں سکولوں اور یونیورسٹیوں میں معصوم طالبعلموں کو ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کہیں تفریحی مقامات پر والدین اپنے جگر گوشوں کی لاشوں پر سراپا ماتم نظر آتے ہیں۔ہمارے لاکھوں جوان دہشت گردی کی جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ یہ جنگ ہر حالت میں ہمیں جیتنی ہے۔ گو ہماری بہادر سپاہ نے کافی حد تک دشمنوں کی کمر توڑ دی ہے لیکن ابھی بھی بوکھلائے ہوئے منتشر دہشتگرد کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ بیرونی دشمن کے علاوہ بدقسمتی سے ہمارا ملک ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار بھی ہے۔ گلوبل وارمنگ کے اثرات کی بناء پر پاکستان میں آب و ہوا میں تباہ کن تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ہر سال ہمارا ملک خوفناک قدرتی آفات کا شکار ہو رہا ہے جن میں لاکھوں لوگ جانی و مالی نقصان کی بناء پر زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹ رہے ہیں۔ ماضی میں کمزور جمہوری اداروں کی ناتوانی نے ملک میں معاشی بحران پیدا کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے ملکی معیشت دگر گوں صورتحال سے دو چار تھی لیکن اب جمہوریت کے استحکام کے ثمرات کے طور پر ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ لیکن معاشی ترقی کی منزل ابھی بہت دور ہے۔ اس کیلئے جدوجہد و اتحاد ناگزیر ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے چند سیاستدان حالات کی نزاکت کا اندازہ ہی نہیں لگا سکے ہیں۔ انہیں ہر چند روز بعد تختہ اقتدار پر براجمان ہونے کی خواہش ستاتی ہے جس کی تکمیل کیلئے وہ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔پی ٹی آئی کی سیاسی نا پختگی اس کے پیشتر عوامل سے منعکس ہوتی ہے۔

2014ء میں ڈی چوک پر بلا جواز پورے ملک کو مفلوج کر دیا جس کا منظقی انجام کھودا پہاڑ نکلا چوہا سے مترادف تھا۔ عمران خان کو موجودہ پاکستان نہ جانے کیوں نہیں بھاتا اسی لیے وہ ہر ایک دو سال بعد نیا پاکستان بنانے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ شاید وہ اس نئے پاکستان کے خواہاں ہیں جہاں پر صرف عمران خان ہر حال میں منصب اقتدار پرجلوہ نما رہیں۔ باقی جو کچھ مرضی ہوتا رہے۔۔۔یعنی مرزا یار کو گلی میں آنے کیلئے ہر جائز و ناجائز عمل کیا جائے۔ جناب عمران صاحب یہ سیاست کا میدان ہے۔ مرزا صاحباں کی داستان نہیں جہاں صرف خواہش کرنے سے خواب تعبیر نہیں پاتے۔ یہ دارالعمل ہے جہاں الفاظ کی نسبت اعمال کی باز گشت زیادہ ہوتی ہے۔ کیا خیبر پختونخواہ میں آفت زدہ لوگوں کی داد رسی کا کام مکمل ہوگیا ہے۔ کیا آئی ڈی پیز کی دوبارہ بحالی کا کام بخوبی مکمل ہو چکا ہے جو پی آئی چلی ہے جو پورا ملک سنبھالنے۔ کے پی کے کی حکومت ملناپی ٹی آئی کے لیے ٹیسٹ کیس تھا۔ جہاں اس پارٹی کی کارکردگی ایک لٹمس ٹیسٹ ہے۔ ایک صوبے کی گورننس تو کجا پی ٹی آئی تو اپنے جلسوں کی موثر تنظیم میں ناکام رہتی ہے ۔ اکثر وہاں کوئی نہ کوئی گڑ بڑ ہو جاتی ہے کہ اس پارٹی کی تنظیم کی اہلیت کا ثبوت ہے۔ پی ٹی آئی ابھی تک انٹرا پارٹی الیکشن کرانے میں ناکام رہی ہے۔اس کی ڈکٹیٹر شپ پالیسی کی بناء پر پی ٹی آئی الیکشن کمشنر ہی مستعفی ہو جاتے ہیں۔

عمران صاحب اپنی پارٹی جو کہ بیس برس گزر جانے کے باوجود ابھی تک تحریک ہی ہے، کو تنظیم بنانے کی سعی کریں پھر وزیراعظم بننے کے خواب دیکھیئے گا۔ پانامہ لیکس کے معاملے کو لے کر ایک بار پھر پی ٹی آئی دھرنوں اور رائیونڈ کے گھیراؤ کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ خبروں میں اِن رہنے کا یہ اوچھا ہتھکنڈا ہے۔ پانامہ لیکس نے تمام دنیا کے سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچائی ہے۔ اس میں 200 سے زائدپاکستانیوں کے نام شامل ہیں لیکن نواز شریف اور شہباز کا نام نہیں آیا ہے۔ نواز شریف کے بچوں کا ذکر ان میں ہے جن کے تعلق سے آف شور کمپنیوں کے قیام کا تذکرہ کیا گیا ہے جو کہ قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر یہ معاملہ غیر قانونی ہے تو وزیراعظم نے اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کر دیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز بھی دے دی ہے۔ "میں نہ مانوں"تو پی ٹی آئی "کا منشور لگتا ہے۔اب جوڈیشل کمیشن کے سربراہ پر جھگڑا شروع کیا ہوا ہے۔پہلے شعیب سڈل پھر حاضر سروس چیف جسٹس کی فرمائش۔ 2014میں بھی جوڈیشل کمیشن کی سربراہی کے لیے جب حاضر سروس چیف جسٹس کا نام دیا گیا تھا تو پی ٹی آئی نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی۔ پانامہ لیکس ایک قانونی مسئلہ ہے جس کا حل بھی قانونی ہی ہے۔ اس مسئلے کو میڈیا ٹرائل کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ خدارا ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیں اور اس کی رپورٹ کا انتظار کریں جس کے مطابق ردِ عمل ظاہر کیا جائے۔

رہی بات رائیونڈ کے گھیراؤ کی تو عمران خان شاید یہ بھول گئے ہیں کہ یہ 2016کا پاکستان ہے نہ کہ 1792کے کوئی بادشاہوں کا فرانس۔ یہ رائیونڈ ہے، پیرس نہیں اور وہاں پر کسی مطلق العنان فرمانروا کے محلات نہیں بلکہ پاکستان کے تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کا گھر ہے جو کہ جمہوری طور پر عوامی مینڈیٹ لے کر وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے ہیں۔ انہیں کروڑوں لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ جس طرح ماضی میں ڈی چوک دھرنا منتخب حکومت کا کچھ بگاڑ نہیں سکا۔ اس بار پھر یہ گیدڑ بھبکیاں بھی عوامی طور پر منتخب سربراہ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتیں جس کی کاوشوں کا اعتراف CPECمنصوبے میں بھاری بیرون ملک سرمایہ کاری ہے۔ بڑھتے ہوئے زر مبادلہ کے ذخائر ہیں اور کامیابی سے جاری دہشت گردوں کے خلاف جنگ ہے۔ عمران خان کو کرنے کو جب کوئی کام نہیں ملتا تو شاید وہ اس ضرب المثل پر عمل کرنے لگ پڑتے ہیں:

بیکار مباش! کچھ کیا کر

مزید : کالم


loading...