پُرامن کراچی کے لئے مربوط کوششیں

پُرامن کراچی کے لئے مربوط کوششیں

  



چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پُرامن کراچی کے لئے تمام کوششوں کو مربوط کرنا ضروری ہے۔ کراچی میں امن کا اقتصادی سرگرمیوں سے براہ راست تعلق ہے، آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے ماحول بنانے میں مدد دیں گے، ہماری جنگ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے، کور ہیڈ کوارٹر میں سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے سیکیورٹی فورسز کے لئے غیر متزلزل حمایت پر کراچی کے عوام کی تعریف کی اور آپریشن کی کامیابی اور رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا پُرسکون اورپُرامن ماحول کے ذریعے ملکی تعمیر و ترقی میں مدد کر رہے ہیں۔ کراچی آپریشن کا بنیادی مقصد شہر میں امن و امان کا مکمل قیام ہے۔ شہر میں قیامِ امن پر بھرپور توجہ سے کوششیں کرنا ہوں گی۔

بدامنی کے ایک طویل دور کے بعد جس میں انسانی خون پانی کی طرح بہایا گیا اور انسانوں کو ہلاک کرنے کے ایسے ایسے واقعات ہوئے جن کا تصور کرکے آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن جب سے کراچی کا آپریشن شروع ہوا ہے، شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔اگرچہ بعض مفاد پرست حلقوں کی جانب سے اس آپریشن کے خلاف اِکا دُکا آوازیں بھی اٹھتی رہتی ہیں لیکن یہ وہ حلقے ہیں جن کا ’’روزگار‘‘ اس آپریشن کی وجہ سے ختم ہو کر رہ گیا ہے۔جن لوگوں کا کاروبار ہی انسانی خون بہانے سے چلتا تھا وہ اگر رک جائے گا تو انہیں تکلیف تو ہوگی، اگر بھتہ خوری کے تمام راستے بند کر دیئے جائیں گے اور جو لوگ اس سے متاثر ہوتے تھے وہ اطمینان کا سانس لیں گے تو بھتہ خوروں کو تکلیف تو پہنچے گی، کراچی آپریشن جب سے شروع ہوا ہے اصلاح احوال بڑی نمایاں نظر آتی ہے تاہم اب بھی کراچی میں سٹریٹ کرائمز کی وارداتیں ہو جاتی ہیں جن میں موبائل فون چھیننے کے واقعات سب سے زیادہ ہو رہے ہیں۔ اگر ان پر قابو پا لیا جائے تو شہریوں کے درجہ اطمینان میں اضافہ ہو جائے گا۔

اب وہ وقت رفت گزشت ہو گیا جب بعض لوگ پُر اسرار انداز میں پورے شہر کو یکا یک بند کرا دیتے تھے،تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہو جاتی تھیں اور لوگ اپنے کاروبار بند کرکے جلدی جلدی گھروں کو رخصت ہو جاتے تھے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو چشم زدن میں ان کی دکانوں کو نقصان پہنچانے والے اور دھمکیاں دینے والے پہنچ جاتے تھے، خوف و دہشت کی فضا پیدا کرکے جس طرح کی ہڑتالیں کروائی جاتی تھیں اس سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی کہ شہر کے تمام لوگ ان کے ساتھ ہیں، حالانکہ خوف زدہ لوگ اگر دکانیں بند کرکے گھروں کو چلے جاتے تھے تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ کسی گروہ کے حامی بھی ہیں۔ یہ صورتِ حال ختم ہوئی ہے تو شہر پر کنٹرول رکھنے کے دعویداروں کے عزائم طشت از بام ہو گئے ہیں۔

کراچی کے بعد اگرچہ بن قاسم اور گوادر کی بندرگاہیں بھی تعمیر ہو گئی ہیں لیکن امپورٹ ایکسپورٹ کا زیادہ انحصار اب بھی کراچی کی بندرگاہ پر ہے۔سمندری راستے سے باہر جانے والا مال اور بیرون ملک سے آنے والا تجارتی سامان کراچی سے ہی گزرتا ہے اس لئے ملکی ترقی میں اس کاسموپولیٹن شہر کا کردار واضح ہے۔ کراچی پر قبضے کی کوشش کرکے اس تاثر کو پختہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایک مخصوص گروہ کی مرضی کے بغیر شہر میں کچھ نہیں ہو سکتا لیکن کراچی آپریشن کے نتیجے میں یہ تاثر بھی پوری طرح زائل ہو کر رہ گیا ہے کہ یہ شہر کسی کی مرضی سے کھلتا اور بند ہوتا ہے۔امن اور ترقی کا براہ راست جو تعلق ہے وہ محتاج بیان نہیں، جہاں امن ہوگا سرمایہ وہاں کھِنچا چلا آئے گا۔ کہتے ہیں کہ اگر ایک بھی گولی چلے تو سرمایہ پرندوں کی طرح اڑان بھرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ کراچی کی بدامنی جس نہج کو پہنچ چکی تھی اس میں سرمائے کی آمد کا تو کوئی تصور باقی نہیں رہ گیا تھا جن لوگوں نے پہلے سے شہر میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی وہ اپنے کاروبار دوسرے شہروں اور بعض صورتوں میں دوسرے ملکوں کو منتقل کرنا شروع ہو گئے تھے۔ بیرونی سرمایہ کار کراچی میں اجلاسوں کے لئے نہیں آتے تھے اور سرکاری حکام کی اہم ملاقاتیں زیادہ تر دبئی یا دوسرے ملکوں میں ہونے لگی تھیں۔ اب جبکہ کراچی کے حالات میں واضح بہتری نظر آ رہی ہے تو سرمایہ کار بلا دھڑک کراچی میں آتے ہیں اور یہاں کسی خوف و خطر کے بغیر اپنے اجلاس کرتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔

آرمی چیف نے جن کوششوں کو مربوط بنانے کی طرف توجہ دلائی ہے وہ بھی وقت کی ضرورت ہے اگر جرائم پیشہ عناصر گرفتار ہوتے ہیں تو ان کے مقدمات کی جلد از جلد تفتیش کرکے انہیں عدالتوں کے سپرد کرنا ضروری ہے تاکہ جو لوگ جرائم میں ملوث ہیں وہ اپنے کئے کی سزا پائیں۔ جب تک کراچی میں رینجرز کو تفتیش کے اختیارات نہیں ملے تھے جو اس آپریشن میں پہلی بار ملے ہیں اس وقت تک جرائم پیشہ افراد کو تفتیش کے دوران ہی چھوڑ دیا جاتا تھا، پھر ناقص تفتیش کی وجہ سے ایسے ملزموں کو بھی عدالتوں سے سزائیں نہیں ہو سکتی تھیں جن کے خلاف بظاہر پکے ثبوت موجود ہوتے تھے۔ پھریہ بھی ہوا کہ ایسے ہزاروں لوگوں کو پیرول پر رہا کر دیا گیا جنہیں عدالتوں سے طویل مراحل طے کرنے کے بعد سزائیں ہوئی تھیں، اس کا انکشاف کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں ہوا تھا، جو لوگ سزا یاب ہو گئے تھے اگر انہیں پیرول پر چھوڑ دیا جائے گا تو وہ پھر اپنا دھندا دوبارہ شروع کر دیں گے اسی وجہ سے کراچی میں بدامنی پر قابو نہیں پایا جا سکتا تھا۔ پھر کراچی پولیس کے بارے میں یہ شکایات بھی تھیں کہ اس میں بھرتیاں سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ماضی میں جب کبھی کوئی آپریشن شروع کرنے کی تیاری ہو رہی ہوتی تو جن کے خلاف آپریشن ہوتا انہیں پہلے سے خبر ہوجاتی۔ پولیس کے وہ اہل کار جنہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہوتی تھی وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں پولیس کے ڈسپلن کے تحت کام نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے سیاسی سرپرستوں کی مصلحتوں اور ان کے مفادات کا خیال رکھتے تھے۔ ان سب عوامل نے مل کر کراچی کو بدامنی کا گڑھ بنا رکھا تھا۔

مقامِ اطمینان و تشکر ہے کہ جنرل راحیل شریف کو تمام تر صورت حال کا ادراک ہے اور وہ ہر قیمت پر کراچی آپریشن جاری رکھنے کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن جلد ختم نہیں ہوگا ان کے اس اعلان سے کاروبار ی طبقے میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے جنہیں بھتہ خوری کی وجہ سے مسلسل اپنا کاروبار خطرے میں نظر آتا تھا۔ سٹریٹ کرائمز پر قابوپا کر امن و امان میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ کراچی کی کاروباری سرگرمیوں کا پورے ملک کے کاروبار پر مثبت اثر ہوتا ہے۔

مزید : اداریہ


loading...