ڈاکٹر سڑکوں پر ٹریفک جام نہ کریں

ڈاکٹر سڑکوں پر ٹریفک جام نہ کریں

  



لاہور سمیت پنجاب کے ینگ ڈاکٹروں نے ایک بار پھر ہڑتال کر دی اور ہسپتالوں کا بائیکاٹ کرکے سڑکوں پر آگئے ہیں، ڈاکٹروں نے بڑے ہسپتالوں کے سامنے سڑکیں بند کر دیں اور احتجاج کرتے رہے۔ ڈاکٹروں کے مطالبات کا تعلق محکمہ صحت سے ہے۔ اصولاً تو انہیں یہ مطالبات محکمہ صحت کے حکام کے ساتھ اٹھانے چاہئیں اور محکمے کو بھی ان کے جائز مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنا چاہئے اور جو مطالبات فوری طور پر پورے کئے جاسکتے ہیں، وہ کر دینے چاہئیں لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ بھی چپ سادھے بیٹھا رہتا ہے اور ڈاکٹر وقتاً فوقتاً ہڑتال کرکے مریضوں کے ساتھ ساتھ خلق خدا کو بھی پریشان کرتے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطالبات جتنے بھی جائز کیوں نہ ہوں، انہیں یہ حق بہرحال نہیں دیا جانا چاہئے کہ وہ ہر دوسرے چوتھے مہینے ہسپتالوں سے باہر نکل کر سڑکیں بند کر دیں اور شہریوں کی پریشانیوں کا باعث بنیں۔ بہتر یہ ہے کہ وہ اپنا احتجاج ہسپتالوں تک محدود رکھیں لیکن لگتا ہے ان کے کان میں کسی نے پھونک دیا ہے کہ جب تک وہ سڑکوں پر ٹریفک نہ روکیں گے ان کی بات نہیں سنی جائیگی۔ جبکہ بڑے شہروں کی سڑکوں پر ٹریفک پہلے ہی جام رہتی ہے اور اس میں اگر احتجاجی مظاہرے کرنے والے جان بوجھ کر ٹریفک روک دیں تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ ٹریفک جام کا کیا حال ہوگا اس لئے ڈاکٹروں کو اگر مریضوں پر رحم نہیں آتا تو وہ سڑکوں پر چلنے والوں کا تو خیال کریں جنہوں نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا اور نہ وہ ان کے مطالبات پورے کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ڈاکٹروں کو اگر ہسپتالوں سے باہر نکل کر احتجاج کرنا ہے تو بہتر ہے وہ محکمہ صحت کے دفاتر تک جائیں اور وہاں جاکر احتجاج کریں، خواہ مخواہ راہ چلنے والوں کا راستہ نہ روکیں۔

مزید : اداریہ


loading...