لولا لنگڑا نظام

لولا لنگڑا نظام
 لولا لنگڑا نظام

  



سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک بار پھر نظام حکومت پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ملک کو لولے لنگڑے نظام کی بے سا کھیو ں سے چلایا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے اور اس کے سربراہ کی تنقید کوئی معنی رکھتی ہے۔چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی مختلف اوقات میں حکومت کی توجہ نظام حکومت پر دلاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے تو مقننہ کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں اپنے پہلے خطاب کے دوران طرز حکمرانی پر تفصیلی اظہار خیال کیا تھا اس میں بھی انہوں نے اپنے تاسف کا اظہار کیا تھا۔ فوج کے کور کمانڈروں نے بھی ایک اجلا س کے بعد کم و بیش ایسے ہی الفاظ میں طرز حکمرانی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا ۔ نظام حکومت کیوں لنگڑا لولا تصور کیا جارہا ہے۔ نظام کے ناکارہ ہونے کا احساس جب چیف جسٹس کو ہے تو ان لوگوں میں تو اس کا بہت ہی زیادہ احساس ہوگا جن کی کوئی سنتا ہی نہیں ہے۔ ان کی داد فریاد موجود ہی رہتی ہے۔ تین افراد کا قصہ سناتا ہوں۔

صابو ایک غریب کسان ہے۔ اس کا تعلق ہندو برادری کے اچھوتوں میں ہے کہ وہ بھیل ہے۔ جبری مشقت سے رہائی کے بعد صابو اور اس کے بھائیوں نے پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے قائم کئے گئے کیمپ میں پناہ لی تھی۔ جس زمانے میں یہ کیمپ سرکاری زمین پر قائم کیا گیا تھا ، اس زمانے میں اس علاقے کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی۔ بے گھر کسانوں نے بستی آباد کی تو اس کی قدر بڑھ گئی۔ اب ہر شخص کی اس علاقے کی زمین پر نظر ہے۔ صابو زمین کے جس رقبے پر رہائش رکھتا ہے اس پر بعض بااثر لوگوں نے دوسروں کو قبضہ شروع کرادیا ہے جس کی وجہ سے تصادم آئے دن کا معمول بن گیا ہے۔ صابو پولیس کے چکر کھاتا رہا اور بالآخر کسی سفارش سے وہ علاقے کی پولیس چوکی پر پہنچ گیا۔ پولیس نے فریقین کو طلب کر کے ان کے درمیاں صلح کرادی۔ دوسروں سے پولیس نے کتنی رقم لی صابو لاعلم ہے، لیکن اسے ایک پولیس اہل کار کو دو ہزار روپے دینا پڑے۔ بقول پولیس اہل کار پولیس نے ان کی صلح کرادی ہے اور یہ رقم اسی لئے لی گئی ہے۔ صابو روز انہ اجرت پر کام کرتا ہے اور اس کی اجرت جب کام ملے تو چار سو روپے ہوتی ہے۔ ملک کے نظام میں ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ صابو کو دو ہزار روپے نہ دینے پڑتے اور اسے درپیش مسلہ بھی حل ہوجاتا۔

عائشہ ایک نو مسلم خاتون ہے۔ ایک پولیس اہل کار کے ساتھ نکاح کرنے سے قبل اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس پولیس اہل کار نے عائشہ کے ساتھ دوسرا نکاح کیا تھا۔ دو بچوں کے بعد پولیس اہل کار کا انتقال ہو گیا۔ عائشہ کے سسرالیوں نے اس کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ہر وقت گھر سے نکال دینے کا طعنہ اس کے لئے وبال بن گیا ہے۔ وہ کوشش کر رہی ہے کہ اس کے شوہر کی پنشن میں سے ایک حصہ اسے مل جائے تو وہ اپنے کم عمر بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کر سکے۔ عائشہ پولیس دفاتر کے چکر لگا رہی ہے، ہفتوں مہینوں میں بدل چکے ہیں، لیکن اسے ہر بار کوئی اور کاغذ لانے کا کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے۔ عائشہ کو اب تو یہ احساس بھی ہو چلا ہے کہ اس نے اپنا مذہب چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو چھوڑا جسے وہ اپنی غلطی قرار دیتی ہے۔ عائشہ کا مسلہ ذرا سی توجہ کا محتاج ہے کہ کوئی ذمہ دار افسر کسی اہل کار کو پابند کرے کہ اس کا مسلہ حل ہو جائے۔ عائشہ کا مسلہ کیوں نہیں حل ہو سکتا ۔ نظام میں کوئی ایسا طریقہ کار کیوں موجود نہیں کہ عائشہ کی بحالی کا انتظام ریاست کی ذمہ داری ہو۔

ایک معذور معمر عنایت علی شاہ حیدرآباد پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر کھلے آسمان کے نیچے بسیرا کر رہے ہیں۔ سردی کا موسم انہوں نے کھلے آسمان کے نیچے گزار دیا۔ ان کے ہمراہ دو نو عمر بچے بھی ہیں۔ دونوں تعلیم کے اتنے دلدادہ ہیں کہ کھمبے پر جلنے والے بلب کی روشنی میں پڑھتے پائے جاتے ہیں۔ ان صاحب کا مسلہ کیا ہے وہ کھل کر بیان نہیں کرتے۔ بس ایک مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت انہیں کہیں کوئی کوارٹر دے ،تاکہ وہ وہاں رہائش پذیر ہو سکیں۔ بھیک مانگ کر وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں۔ پریس کلب مصروف سڑک پر واقع ہے۔ دن رات ذمہ دار سرکاری افسران کا وہاں سے گزر ہوتا ہے ۔ کسی نے یہ زحمت نہیں کی کہ ان کی شکایت اور مطالبہ سن لیتا ۔ یہ نظام کی خرابی نہیں تو اور کیا ہے۔ نظام میں اتنی گنجائش کیوں نہیں ہے کہ کسی کی داد فریاد پر کارروائی کا آغاز ہو جائے اور ریاست کے ضرورت مند شہری کی مطلوبہ ضرورت پوری کر کے اسے سکون فراہم کیا جا سکے ۔

جب نظام کے لولے لنگڑے اور بے ساکھیوں کے سہارے چلانے کی بات کی جاتی ہے تو ریاست کو چلانے کی ذمہ دار حکومت کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ آئین پاکستان میں شہریوں کو جن بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے اور یقین دلایا گیا ہے کہ ریاست اس کی ذمہ دار ہو گی اور ریاست کی ذمہ داری نبھانے کا فرض حکومت وقت کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ریاست کے قوانین میں ہر ظلم و ستم کے خلاف کارروائی کرنے اور ہر ضرورت مند کی حاجت پوری کرنے کے اختیارات موجود ہیں، کارروائی کرنے والوں کو احساس ہی نہیں ہے کہ ان کی ذمہ داری کیا ہیں۔ حکومت اور اس کے عمال سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذ مہ داری نبھا ئیں ، لیکن کون سی حکومت ؟ دولت مندوں کی قائم کردہ حکومت، خوشامدی نو دولتیوں کی طفیلی حکومت، خود غرض بہرے، گونگے ، اندھے لوگوں کے سہارے قائم حکومت جس کا ہر کل پرزہ سفارش، رشوت ، بخشش کا محتاج بنا دیا گیا ہے ۔ ایسی حکومتیں جو دیمک زدہ نظام پر قائم ہوں ، کیوں کر قائم رہ سکتی ہیں اور کیوں کر ریاست کے شہریوں کو مطمئن کر سکتی ہیں؟

مزید : کالم