نقشِ پا کچھ رفتگاں کے ۔۔۔!

نقشِ پا کچھ رفتگاں کے ۔۔۔!
 نقشِ پا کچھ رفتگاں کے ۔۔۔!

  



سال نو یعنی یکم جنوری 2016ء سے ماہ رواں اپریل تک تقریباً سو دن کے اندر اندر اس جہان فانی سے عالم جاودانی کی طرف رخت سفر باندھنے والے اہل قلم کی تعداد لگ بھگ پچیس ہے، گویا ہر چوتھے دن ایک نابغۂ روزگار شخصیت نے ملک عدم کی راہ لی۔ یہ شاعر ادیب، دانشور قلمکار اپنی اپنی جگہ سرزمین ادب میں بھاری پتھر تھے۔ اس قدر جلد ’’تو چل میں آیا‘‘ کی مثال رخصت ہوئے کہ ایک ایک کا صحیح طرح پرسہ بھی نہ دیا جاسکا۔ ان سب کا متبادل اب کبھی چشم فلک، زمین ہنر پر نہ دیکھ سکے گی۔ گویا بقول رضی اختر شوق:

نقش پا کچھ رفتگاں کے خاک پر محفوظ ہیں

یہ نشانی دیکھ سکتے ہیں اٹھاسکتے نہیں

جناب انتظار حسین، جمیل الدین عالی، ڈاکٹر انورسدید ، ڈاکٹر ممتاز احمد، محترمہ فاطمہ ثریا بجیا ، نیساں اکبر آبادی، عارف منصور، حسین شاہد، محترمہ نسرین انجم بھٹی، ڈاکٹر احسن اختر ناز، سید فضل حسین شاہ، محمدعظیم، گلزار صابری، سعید سلیمی، غلام مصطفیٰ بسمل، محی الدین نواب، مختار جاوید، محمدخان فانی، قمر صحرائی، مسعود بھسین، صحافی پرویز حمید، اطہرعارف ، زاہد علی خان (پاکستان)اورممتاز براڈ کاسٹر پروڈیوسر ممتاز میلسی ۔

ان میں سے کئی ایسے تھے جن سے میرا تعلق خاطر برسوں پر محیط تھا۔ کچھ ایسے تھے جن سے محض شناسائی اور آشنائی تھی۔ کچھ ایسے بھی تھے جن سے ’’باتیں ملاقاتیں‘‘ براہ راست نہ رہیں تاہم ان کے نام اور کام سے آگاہی رہی۔ غرض ان سب پر ضبط قریشی سہارنپوری کا یہ شعر بخوبی منطبق ہوتا ہے :

کچھ ایسے بھی اٹھ جائیں گے اس بزم سے جن کو

تم ڈھونڈنے نکلو گے، مگر پانہ سکو گے

متذکرہ پچیس شخصیات پر اتنے ہی کالموں کی ضرورت تھی مگر میں دو چار پر ہی کھل کے لکھ سکا ان سے قطع نظر آج تذکرہ ان کا مقصود ہے جن پر کچھ بھی نہ لکھا جاسکا یا محض نام گنوانے پر اکتفا کیا۔

8فروری 2016ء کو محی الدین نواب وفات پا گئے ، ڈائجسٹوں کے ہردل عزیز اور مقبول کہانی کار ناول نویس محی الدین نواب بغیر تہلکہ مچائے رخصت ہوگئے حالانکہ ان کی تحریر یں تہلکہ مچائے رکھتی تھیں انہوں نے ایک مدت تک ’’سسپنس ڈائجسٹ‘‘ میں ’’دیوتا‘‘ نامی قسط وار ناول فرہاد علی تیمور کے فرضی نام سے رقم کیا اور لاکھوں میں اعزازیہ وصول کیا۔

بدھ 10فروری 2016ء کو ممتاز رائٹر ڈراما نگار فاطمہ ثریا بجیا بھی چل بسیں، وہ یکم ستمبر 1930ء میں دکن میں پیدا ہوئیں۔ کراچی میں تمام عمر گزاری۔ انور مقصود ان کے نامور بھائی ہیں۔ وہ چھیاسویں برس میں تھیں کہ چل بسیں۔ بے شمار ٹی وی ڈرامے یادگار ہیں جن میں ’’شمع ‘‘ لاجواب تھا۔

عارف منصور (سابق منصور ملتانی)کے دوشعر:

تھی گھر میں اور دشت میں اتنی مماثلت

ہرگام پر شعور نے دھوکا دیا مجھے

منھہ زور آندھیوں میں جلاتا ہے جو دیئے

وہ شخص ہرلحاظ سے اچھا لگا مجھے

سابق بیوروکریٹ ادیب، افسانہ نگارسید فضل حسین شاہ، سوموار 21مارچ 2016ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔

حسین شاہد 7اپریل 2016ء کو لاہور میں انتقال کر گئے ۔ ’’الحمرا‘‘ میں باقاعدگی سے متنازعہ مضامین لکھ رہے تھے۔ ملک سے باہر مدتوں رہے۔

ممتاز براڈکاسٹر، پروڈیوسر ریڈیو پاکستان ہفتہ 8جنوری 2016ء کو چل بسے۔ وہ بڑے اچھے لب و لہجے کے، سرائیکی زبان کی شیرینی لئے مقبول براڈ کاسٹر تھے۔ رات 11بجے سے بارہ بجے تک اسلام آباد ریڈیو سے جب وہ Liveپروگرام نشر کرتے تو سننے والے انہیں مبہوت ہوکر سنتے۔ میرے بھتیجے سلمان زیدی نے مجھ سے پوچھا ممتاز میلسی وہی تھے جو بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرتے تھے۔ مجھ سے بڑا اُنسیت کا رشتہ تھا جب تک میں اسلام آباد میں مقیم رہا تو عتیق اللہ شیخ، اور ممتاز میلسی کے ساتھ ہماری نگڈم کے چرچے رہے ہم تقریباً روزانہ میلوڈی میں کڑاھی گوشت کے ساتھی ہوتے، ’’پاکستان‘‘ اخبار کا دفتر بھی وہیں تھااور میں اس میں اپنا کالم ’’بادشمال‘‘ تقریباً روزانہ بلکہ مہینے کے 30دنوں میں 31کالم لکھتا تھا۔ ہماری تگڈم میں اکثر ہمارے ایڈیٹر قدرت اللہ چودھری بھی شریک ہوتے۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر احسن اختر نازسابق ڈین جرنلزم ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی جمعرات 10فروری 2016ء کو راہی ملک عدم ہوئے ۔وہ طویل عرصے سے شوگر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ ان کے والد گرامی مجذوب چشتی ایک خوشگو شاعر تھے ۔ ڈاکٹر احسن اختر ناز ہمارے ’’پاکستان ‘‘ اخبار میں کالم بھی کبھی کبھار لکھتے رہے، شعر ہمیشہ غلط سلط استعمال کرتے یا حامد کی پگڑی محمودکے سرباندھ دیتے تھے اور اکثر ہماری پکڑ میں آکر بے مزہ نہ ہوتے۔ حق مغفرت کرے ، عجب آزاد مرد تھے۔ میراایک قطعہ ملاحظہ ہو :

احسن اختر ناز رخصت ہو گئے

قوم کے دمساز رخصت ہوگئے

فخرتھے مجذوب چشتی کے لئے

اُن کے وہ ہمراز، رخصت ہو گئے

مختار جاوید جہلم کے شاعر تھے بنیادی طورپر تجارت پیشہ ۔۔۔ان سے پہلا تفصیلی تعارف اس وقت ہوا جب 1985ء میں وہ شام بہار، مشاعرے میں شرکت کے لئے انبالے جارہے تھے اور تھوک کے حساب سے دس پندرہ شعراء کے پاسپورٹ بغیر ویزا لگائے انڈین ایمبیسی اسلام آباد سے واپس کردیئے گئے تھے۔ صرف میرا ویزہ لگ سکا جس پر محروم رہ جانے والوں نے مجھے رشک و حسد سے دیکھا ان میں مختار جاوید بھی تھے۔ اس کے بعد ان سے جہلم اور گجرات کے ایک دو مشاعروں میں بھی ملاقات رہی۔ ان کا ایک شعر ان کی دکانداری کے پیشے کا غماز ہے :

اک طرف جرم سمجھتا ہوں ذخیرہ کرنا

اک طرف باسمتی، سال پرانے مانگوں

8فروری 2016ء جمعرات کی صبح سیالکوٹ کے شاعر گلزار صابری لگ بھگ 80برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ گلزار صابری کبھی نیوی میں تھے 1965ء میں جنگ لڑی۔ ’’انا البحر‘‘ وکھری ٹائپ کی کتاب ہے جس کا اشفاق احمد نے دیباچہ لکھا۔ اشفاق احمد صاحب نے ان کی بیعت بھی کی تھی۔ اشفاق احمد کے ڈرامے ’’من چلے کا سودا‘‘ میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ ایوب خان کے خلاف نظم لکھی تھی جس پر کورٹ مارشل ہو گیا تھا جیل میں کسی درویش سے ملاقات کے بعد تصوف کی طرف آئے۔

مزید : کالم


loading...