پانامہ آفٹر شاکس

پانامہ آفٹر شاکس
 پانامہ آفٹر شاکس

  



اپریل 2016 کا مہینہ شروع ہوا تو پانامہ لیکس نامی بھونچال آیا جس کے آنے والے جھٹکوں نے دنیا کے کئی ممالک کو ایک عجیب ہیجان میں مبتلا رکھا۔ اس بھونچال کو آئے تقریباً ڈیڑھ دو ہفتے گذر چکے ہیں، بڑے شاکس گذر چکے ہیں لیکن آفٹر شاکس کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ ان بہت سے ممالک میں جہاں اس بھونچال کے جھٹکے شدت سے محسوس کئے گئے ان میں پاکستان بھی شامل ہے اور یہاں بھی کئی دن تک ہیجانی ماحول رہا لیکن جوں جوں دن گذر رہے ہیں ، شاکس کی شدت میں کمی آرہی ہے۔یہ پانامہ ہے کیا؟ سب ہی جانتے ہیں کہ پانامہ، لاطینی امریکہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کا رقبہ صرف 75 ہزار کلومیٹر اور آبادی تقریباً 40 لاکھ ہے لیکن یہ اپنی اس 77 کلومیٹر لمبی نہر کی وجہ سے مشہور ہے جو دنیا کے دو سب سے بڑے سمندروں بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کو آپس میں ملاتی ہے۔یہ نہر 1914 میں مکمل ہوئی ، آج کل اربوں ڈالر کی لاگت سے اس کی توسیع کی جا رہی ہے جو اگلے دو تین برسوں میں مکمل ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ پانامہ کو اس وقت بھی عالمی شہرت ملی جب امریکی افواج نے 1989 میں پانامہ پر حملہ کردیا اور وہاں کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل نوریگا کو پکڑ کر امریکہ لے گئے کیونکہ اس نے امریکی صدر جارج بش کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا اور پانامہ نہر کو قومی تحویل میں لے لیا تھا جس پر اس سے پہلے امریکہ کا کنٹرول تھا۔امریکہ نے پانامہ کو زیر کرنے کے بعد وہاں کی سوشلسٹ حکومت کو ختم کر دیا جس کے بعد وہاں آف شور کمپنیاں بننی شروع ہو گئیں اور آہستہ آہستہ پانامہ میں لاکھوں آف شور کمپنیوں نے کام شروع کر دیا اورلاطینی امریکہ کے کچھ اور ممالک کی طرح پانامہ بھی ٹیکس بچانے کی جنت بن گیا جہاں دنیا بھر کے بزنس مینوں، حکمرانوں اور اشرافیہ نے وہ رقم لے جانی شروع کر دی جس پر وہ اپنے اپنے ملک کے قوانین کے مطابق ٹیکس اد ا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ اچانک 3 اپریل کو پانامہ لیکس کا بھونچال آ گیا جس کے جھٹکے دنیا کے بہت سے ممالک تک پہنچے۔پاکستان میں پانامہ لیکس کے موقع پر جس کسی کو بھی موقع ملا اس نے اپنی سیاست خوب چمکانے کی کوشش کی جبکہ حکومت اس تمام عرصہ کے دوران شدید دباؤ میں رہی۔ چونکہ بڑے شاکس گذر چکے ہیں اور اب محض آفٹر شاکس ہی محسوس کئے جا رہے ہیں اس لئے میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ اس سارے قضیہ کا باریک بینی سے لیکن غیر متعصبانہ اور انتہائی مختصر جائزہ لیا جائے۔

پانامہ لیکس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ اس کی پہلی قسط ہے جس میں 15 کروڑ سے زائد دستاویزات لیک ہوئی ہیں اور اس طرح کی بہت سی اقساط اب آتی رہیں گی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر ان سب کو یکجا کر لیا جائے تو کروڑہا صفحات کی کتاب مرتب کی جا سکے گی اور اس میں دنیا کا شائد ہی کوئی ملک ایسا ہو جو بچ پائے۔ پاکستان میں پانامہ لیکس کی اس قسط میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خاندان کے ان رہائشی فلیٹس کا ذکر ہے جو لندن کے مہنگے ترین علاقوں مے فئیر، پارک لین اور ہائیڈ پارک وغیرہ میں ہیں۔ جیسے ہی پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آیا ، سب سے پہلے تحریک انصاف نے اس پر احتجاج شروع کردیا اور اس کے چئیرمین عمران خان نے اپنے گھر سے ایک تقریر کی جسے ’’قوم سے خطاب‘‘ کا نام دیا گیا۔ پہلے انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر یہ خطاب کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن مطالبہ مانے نہ جانے کے بعد یہ اپنے گھر سے کر لیا جس میں انہوں نے رائے ونڈ میں واقع شریف فیملی کے گھروں کا گھیراؤ کرنے کی دھمکی بھی دی۔ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ وہ واقعی اپنی دھمکی پر عمل کرنے کے لئے رائے ونڈ کی طرف مارچ شروع کر دیں گے کیونکہ یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے کہ بندے اکٹھے کرکے کسی کے گھر کا گھیراؤ کر لیا جائے۔اس مجوزہ مارچ، دھرنے اور گھیراؤ کے لئے عمران خان نے دوسری اپوزیشن پارٹیوں کو بھی دعوت دی تھی لیکن ابھی تک انہیں کہیں سے مثبت جواب نہیں ملا ، پیپلز پارٹی نے دھرنے کے پروگرام میں عمران خان کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے جبکہ کسی اور پارٹی نے بھی ان کے ساتھ رائے ونڈ چلنے میں آمادگی ظاہر نہیں کی ہے، گویا دھرنا سیاست کا نیا راؤنڈ شروع کرنا انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔

ابھی پانامہ لیکس کے جھٹکے چل ہی رہے تھے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ وہ پہلے سے ہی دل کے مریض ہیں اور چھ سال قبل ان کی لندن میں انجیو پلاسٹی بھی ہو چکی ہے جس میں اتفاق سے آپریشن کے دوران کچھ پیچیدگیاں بھی ہو گئی تھیں لیکن ڈاکٹروں نے اس وقت ان پر قابو پا لیا تھا لیکن بہر حال میاں نواز شریف کو باقاعدگی سے اپنا طبی معائنہ کرانا ہوتا ہے تاکہ وہ پیچیدگیاں دوبارہ نہ سر اٹھا لیں۔ یہ ایک خالص طبی معاملہ ہے جو چھ سال سے دنیا کے سامنے ہے اور کسی قسم کی سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس طبی معائنہ کے لئے وزیر اعظم نواز شریف ایک بار پھر لندن پہنچ چکے ہیں، ان کی واپسی کب ہو گی، یہ سوال قبل از وقت ہے کیونکہ اس کا جواب تو ان کے معالج ہی دے سکتے ہیں جو طبی معائنہ کی روشنی میں بتائیں گے کہ میاں صاحب کب واپس آ کر اپنے معمولات دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف لندن جاتے ہوئے روسی دارالحکومت ماسکو میں آٹھ گھنٹے رکے۔ محض اتفاق نہیں تھا کہ وزیر اعظم نے ماسکو میں یہ قیام کیا۔ پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد کریملن نے سرکاری طور پر اس کی مذمت کی تھی اور اسے روسی صدر پیوٹن کے خلاف امریکی سازش قرار دیا تھا۔ روسی حکومت اور روسی صدر پیوٹن پانامہ لیکس کو امریکہ کی طرف سے روس پر ایک وار کہتے ہیں۔ دو دن بعد چینی حکومت نے بھی پانامہ لیکس کو مسترد کردیا، گویا پانامہ لیکس کے معاملہ میں عالمی طاقتیں دو گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہیں۔ ایک امریکہ اور مغربی حکومتوں کا گروپ ہے جس نے ان انکشافات کو لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دوسرا روسی اور چینی گروپ ہے جو اسے امریکی سازش کہہ کر مسترد کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو اب تک سامنے آنے والے پانامہ لیکس کی سب سے بڑی کمزوری بھی یہی ہے کہ اس میں امریکی سیاست دانوں یا بزنس مینوں کا ذکر نہیں ہے جبکہ پانامہ میں قائم آف شور کمپنیوں میں ایک بھاری تعداد امریکیوں کی ہے لیکن دانستہ طور پر ان کے ذکر سے فی الحال گریز کیا گیا ہے۔ بہر حال ایک نئی عالمی صف بندی ابھر کر سامنے آ رہی ہے اور اس تناظر میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کا لندن جانے سے پہلے ماسکو میں رکنا معنی خیز ہے۔ آسان ترین الفاظ میں اسے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اپنے اس ایک عمل سے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے امریکہ کو پیغام دے دیا ہے کہ انہیں خوامخواہ کسی مسئلہ میں نہ الجھایا جائے ورنہ ان کے پاس دیگر آپشن بھی موجود ہیں۔ لندن پہنچنے کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ یہاں اپنے علاج کے سلسلہ میں آئے ہیں ، اگر لندن یاترا کا تعلق پانامہ لیکس سے ہوتا تو وہ لندن کی بجائے پانامہ جاتے۔ میرے خیال میں پاکستان میں سازشی تھیوریاں گھڑنے والے اب تیزی سے ایکسپوز ہو رہے ہیں اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کے علاج کے معاملہ میں جن صاحبان نے سازشی تھیوریاں گھڑیں، لوگ ان پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ کچھ دنوں بعد جب وزیر اعظم وطن واپس آئیں گے تو یہ لوگ مزید ایکسپوز ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے عمران خان کے رویہ کے بارے میں بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ وہ بچگانہ سیاست سے گریز کریں تو اس میں ملک اور ان کی اپنی بہتری ہے۔ پانامہ لیکس کے موقع پر بھی عمران خان نے’’قوم سے خطاب‘‘ کے نام پر اپنی جگ ہنسائی کا سامان کیا ۔ انہیں رائے ونڈ محاصرہ پر اصرار بھی چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ سیاسی طور پر وہ تنہا ہیں اور کوئی قابل ذکر پارٹی ان کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف میں اندرونی شگاف بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کیا تحریک انصاف میں عمران خان کو کوئی یہ بات سمجھانے والا نہیں ہے کہ حضورِ والا ، اپنی پارٹی کو سنبھالئے اور اگلے الیکشن کے لئے اسے منظم کیجئے۔ پانامہ بھونچال کا بڑا شاک گزر چکا ہے، آفٹر شاک تو بہر حال کچھ عرصہ چلتے ہی ہیں۔ سرِ دست بات بس اتنی سی ہے کہ کم از کم پاکستان میں ان کے اثرات اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ کسی کو کوئی بڑا نقصان پہنچا سکیں۔

مزید : کالم


loading...