کچھ آپ ہی خیال کر لیں

کچھ آپ ہی خیال کر لیں
 کچھ آپ ہی خیال کر لیں

  



دوسری جانب سے تو زیادہ توقع نہیں ،لیکن آپ ہی کچھ خیال کر لیں، پانامہ لیکس کے بعد جاری لفظی جنگ کے دوران اخلاقیات کو پس پشت ڈالنا کسی طور مناسب نہیں۔ کشمیر کے علاقے دھیر کوٹ میں جلسے کے دوران وزیر اطلاعات پرویز رشید نے ہزاروں شرکاء کے روبرو عمران خان کووارننگ دی کہ اگر وہ وزیراعظم نواز شریف کے بچوں پر انگلیاں اٹھائیں گے تو لوگ بھی عمران خان کے دو نہیں، بلکہ تین بچوں کا سوال اٹھائیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا اشارہ واضح طور پر جمائما کی طرح ارب پتی آنجہانی سیتا وائٹ کی جواں سال صاحبزادی ٹیریان کی جانب تھا۔ یہ معاملہ ماضی میں بھی بار ہا اچھالا جاتا رہا، کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے امریکی عدالت کا ایک فیصلہ بھی موجود ہے۔ ایم کیو ایم نے بھی کئی بار اس معاملے کو عمران خان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی عدالت گیا نہ ہی کسی نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن ایسے قصے بازار سیاست میں لانا ہماری روایات کے برعکس ہے۔ مکرر گزارش ہے کہ دوسری جانب سے خیر کی توقع نہیں تو کم از کم حکومتی شخصیات ہی کچھ خیال کر لیں۔

وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس معاملے کی شفاف اور جامع تحقیقات کے لئے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے کمیشن قائم کرے۔ کیس میں حسین نواز، حسن نواز اور مریم نواز کے نام توبہر طور سامنے آرہے ہیں،دیکھنا ہو گا کہ وزیراعظم کو اس معاملے میں براہ راست کیسے ملوث سمجھا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی ایک درخواست میں سندھ ہائی کورٹ کے فاضل جج یہ ریمارکس دے چکے ہیں کہ جب لسٹ میں نواز شریف کا نام ہی شامل نہیں تو ان پر مقدمہ کیسے چلایاجا سکتا ہے۔ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ جہالت ہے یا بدنیتی کہ ان دنوں دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں ہونے والی سیاسی پیش رفت کو پانامہ لیکس سے کیوں جوڑا جارہا ہے؟پاکستانی میڈیا کے حوالے سے دونوں ہی باتیں قدرے درست دکھائی دیتی ہیں۔میڈیا میں جہلا ء کی بڑی تعداد موجود ہے تو بدنیتوں کی بھی کمی نہیں۔ کرغیزستان کے وزیراعظم کو وہاں کے صدر نے (جو اصل حکمران ہے) کرپشن کا الزام لگا کر فارغ کیا جو خالصتاً داخلی معاملہ ہے۔ اسی طرح یوکرائن کے وزیراعظم ملک میں 2 سال سے جاری سیاسی بحران کا شکار ہوئے۔ برطانیہ اور ارجنٹائن میں مظاہرے ضرور ہوئے مگر اب معاملہ ٹھنڈا پڑتا جارہا ہے۔ روس، چین اور سعودی عرب نے تو اپنے ہاں پانامہ لیکس کا ذکر کرنا بھی توہین سمجھا۔وکی لیکس اور دیگر آزاد ذرائع کے مطابق یہ تمام سکینڈل سی آئی اے اور پینٹاگون کی مشترکہ ’’پیشکش ‘‘ ہے۔پاکستان میں غیر یقینی حالات پیدا کرنے کے مقاصد ایک نہیں کئی ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری بھی ہدف ہو سکتی ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قصور واروں کو سزا نہ دی جائے۔ الزامات اور جوابی الزامات کی سیاست سے گریز کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی فریق پھر بھی باز نہ آئے تو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔

2014 ء کے مشہور زمانہ دھرنے کے دوران بعد میں بھی عمران خان اپنے مخالفین کے نام بگاڑنے کے ساتھ ساتھ ان پر سنگین الزامات لگاتے رہے۔ ان کے اسی رویہ کے باعث ایک موقع پراسٹیبلشمنٹ مخالف مگر ناپ تول کر بات کرنے والی عاصمہ جہانگیر نے انہیں ’’بونگا خان ‘‘قرار د ے دیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عمران خان نیازی ہونے کے باوجود بسا اوقات ’’بے نیازی‘‘ کی کیفیت میں ہوتے ہیں اور جو منہ میں آئے کہہ ڈالتے ہیں۔ مشورہ تو یہی ہے کہ وہ خود بھی بلند بانگ دعوؤں اور تضحیک آمیز گفتگو سے گریز کریں۔ کہیں یہ نہ ہو کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں کو پتھر مارنے کی بات واقعی سچ ثابت ہو جائے۔ شریف خاندان پر دولت کی ہوس کا الزام ہو سکتا ہے کہ کسی حد تک درست ہو ،لیکن خان صاحب کے اپنے شوق کیا ہیں، جسٹس وجیہہ الدین احمد اور حامد خان جیسے شفاف افراد سے لے کر عام کارکنوں تک سب کا ایک ہی بات پر اتفاق رائے ہے وہ یہ کہ خان صاحب کی سب سے بڑی کمزوری دولت مند افراد ہیں جہاز خواہ کسی کا بھی ہو خان صاحب سواری کے لئے ہر دم تیار رہتے ہیں۔ ان کا لائف سٹائل بھی غیر معمولی ہے۔ اشرافیہ کی ایک ایسی کلاس جس میں میاں یوسف صلاح الدین جیسی شخصیات شامل ہیں۔ خان صاحب عام لوگوں کو تو بس رعایا ہی سمجھتے ہیں۔سیاست میں کامیابیاں حاصل کرنی ہیں تو عمران خان کو اپنے طرز کلام اور انداز سیاست کا جائزہ لینا ہو گا۔ اپنے اردگرد موجود خوشامدیوں کو غور سے دیکھ لیں کہ آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ خان صاحب کے قریب رہنے والے 2 ’’عظیم‘‘ کالم نگاروں کا اپنا کردار کیا ہے۔ خود کو اسٹیبلشمنٹ کے کارندے کے طور پر متعارف کرا کے فخر محسوس کرنے والا دوسروں سے معمولی ادھار لے کر واپس نہیں کرتا۔ بدقسمت ایسا کہ جتنی چاہے تسبیح پھیرے یا نمازیں ادا کرے ملک بھر میں اس کے جاننے والوں میں سے شاید ہی کوئی ہو جو اسے ’’شریف آدمی‘‘ قرار دینے کی ہمت کر سکے۔ دوسرا کالم نگار وہ بڑبولا ہے کہ جس کی جہالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔اس پر بات کرنا بھی وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ مشاغل ایسے کہ اپنے ٹی وی پروگرام کے پرومو(اشتہار) میں ایک موقع پر جب یہ کہتا ہے کہ سب کو ڈوب مرنا چاہیے کا ادھورا جملہ بولتا ہے تو لگتا ہے کہ آگے کہے گا(شراب والے ڈرم میں)۔

سیاست اور پرامن احتجاج عمران خان کا حق ہے۔ سکرپٹ رائٹر جو مرضی کہے سوچ سمجھ کے چلنے میں ہی عافیت ہے۔ رائے ونڈ جائیں یا ڈی چوک جو بھی کریں قانون کے دائرے میں رہ کر کریں۔ شیدا ٹلی کسی کا سگا نہیں۔ بے ربط گفتگو، لا یعنی پیش گوئیاں، فرزند راولپنڈی محض ’’درشنی پہلوان‘‘ بن چکا ہے۔ عمران خان سچ بولنے کا دعویٰ تو بہت کرتے ہیں ،لیکن اس حوالے سے ان کا ریکارڈ کچھ اور ہی بتاتا ہے تاہم ان کے منہ سے ایک سچی بات کئی سال پہلے ہی نکل گئی تھی کہ ’’میں تو شیخ رشید کو اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں‘‘اگرچہ آج کل خان صاحب نے شیخ صاحب کو اپنا گرو بنا رکھا ہے مگر بات پہلے والی ہی سچ تھی

پانامہ لیکس کی آڑمیں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی باتیں کیا شروع ہوئیں مردہ گھوڑے بھی انگڑائیاں لینے لگے ۔ کہنہ مشق سازشی جہانگیر ترین مدد مانگنے کے لئے ق لیگ کے آستانے پر گئے تو چودھری پرویز الٰہی کا ’’جوش جنون‘‘ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ فوراً بولے کہ اب تو وزیراعظم کے استعفے کے سوا کوئی آپشن ہی باقی نہیں بچا۔ انہیں اچھی طرح سے علم ہے کہ حکومت یونہی چلتی رہی تو 2018 ء میں گجرات سے قومی اسمبلی کی نشست بھی ہاتھ سے نکلنا نوشتہ دیوار ہے۔

دلچسپ ،لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ پانامہ لیکس میں خود چودھری برادران کا نام بھی شامل ہے۔ ایک مدت ہوئی وہ پاکستان میں اپنا سب کچھ بیچ باچ کے بیرون ملک منتقل کر چکے۔ اب تو بس ایک ہی بزنس ہے کہ جب کبھی حکومت میں آنے کا موقع ملے تو کسی پراپرٹی ٹائیکون کے ساتھ مل کر اپنا حصہ وصول کر لیاجائے۔چودھریوں کی ایک بات کی داد تو دینا پڑے گی کہ سیاست میں حصہ لینے کے لئے ہی سہی ان کے خاندان کے تمام افراد پاکستان میں ہی مقیم ہیں۔ اس حوالے سے انہیں عمران خان پر سبقت حاصل ہے جن کے دونوں بچے اپنی ارب پتی والدہ کے ساتھ لندن میں زندگی کی تمام سہولتوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کا پاکستان میں سیاست کرنے کے سوا کوئی سٹیک نہیں۔ انہوں نے بڑے بڑے فلاحی کام بھی کئے ہیں ،لیکن بالآخر ان سب کا فائدہ سیاسی طور پر ہی تو اٹھایا جارہا ہے۔

دھرنا گروپ کے ایک اور اہم کردار طاہر القادری بھی ان دنوں چنگھاڑنا شروع ہو گئے ہیں۔کینیڈا کے عالیشان محلات میں مقیم مولوی صاحب ارب پتی نہیں، بلکہ کھرب پتی ہیں۔ چندے کی رقوم کہ جن کا حساب کتاب رکھنے کے لئے ہی ایک بڑی فرم درکار ہے، اوپر سے امریکی تھنک ٹینک ’’رینڈکارپو ریشن‘‘ کے لاڈلے بھی ہیں۔ اسلام کی امریکی تشریح فرماتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں اچھل کود کے لئے طلب کئے جاتے ہیں۔ ہمارے دینی اور سیاسی قائدین نے غیر معمولی برداشت اور صبر کا ثبوت دیا ورنہ مقدس شخصیات کے بارے میں جو کلمات قادری صاحب ادا کر چکے ہیں اس پر نعوذ باللہ ہی کہا جا سکتا ہے۔قادری صاحب انڈیا کو بھی بہت محبوب ہیں۔ ابھی چند ہی روز قبل کہ جب کرکٹ دیکھنے کے بہانے سے عمران خان اور شیخ رشید بھارت میں تھے تو قادری صاحب بھی وہیں پائے گئے۔ مودی کی محبت میں بھارتی پارلیمنٹ کے غیرت مند رکن اسد اویسی پر برس پڑے جنہوں نے کہا تھا کہ ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کا نعرہ غیر اسلامی ہے۔طاہر القادری نے بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر للکارے مارے کہ اسد اویسی تم جاہل ہو۔ قرآن کی رو سے بھارت ماتا کی جے کا نعرہ سو فیصد درست ہے(نعوذباللہ)

قادری کے چاہنے والوں اور انہیں استعمال کرنے والوں کو یقیناًبھولا نہیں ہو گا کہ چند سال قبل نئی دہلی جا کر اسی قسم کے الفاظ الطاف حسین نے ادا کئے تھے، کہرام مچا تو جنرل مشرف سینہ ٹھونک کر مدد کے لئے آ گئے۔ اب کون ہے جو طاہر القادری کی سرپرستی فرمارہا ہے۔آج الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی ہے ،جبکہ ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کے نعرے لگانے والے کینیڈین شہری کو پورا میڈیا یوں لائیو دکھارہا ہے جیسے انہیں کسی نے یہ ڈیوٹی سونپی ہو۔ کیا کھلا تضاد نہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ڈبل ایجنٹوں سے کام لینے کی کوشش کی گئی الٹا نقصان ہی اٹھانا پڑا۔آج بھی یہ حقیقت تبدیل ہے نہ ہو گی ۔دھرنے ،ناچ گانے، ڈھول ڈھمکے جو دل چاہیں کریں مگر قانونی حدود و قیود کے اندر ،کسی کی فرمائش پر ہی سہی ،اوقات سے بڑھ کر تماشا لگانے کی کوشش کسی حوالے سے الٹی بھی پڑ سکتی ہے۔ حرف آخر یہی ہے کہ نادیدہ اور دیدہ قوتوں کی سازش میں شمولیت کے بغیر خاکے میں رنگ بھرا نہیں جا سکتا۔ احتجاج ہو ابھی تو پھیکا ہی رہے گا اور اگر کہیں سب نے مل کر سازش کو کامیاب بنا دیا تو پھر نقصان بھی سب کا ہی ہو گا۔

مزید : کالم


loading...