الیکٹرانک میڈیا، پروفیشنل ریسلنگ یا کوئی نئی فلم؟

الیکٹرانک میڈیا، پروفیشنل ریسلنگ یا کوئی نئی فلم؟
 الیکٹرانک میڈیا، پروفیشنل ریسلنگ یا کوئی نئی فلم؟

  



ہمارے الیکٹرانک نیوز چینلوں نے پوری قوم کو ایک طویل عرصے سے ایک اضطراری کیفیت میں گرفتار کر رکھا ہے جسے جدید طبی اصطلاح میں ’’ڈیپرشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری عہدِ حاضر کی سوغات ہے اور اس پر ایک مفصل کالم لکھنے کی ضرورت ہے۔۔۔یادش بخیر ریٹائر چیف جسٹس افتخار چودھری نے جب ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی بات سننے سے انکار کر دیا تھا تو میڈیا نے چیف جسٹس کا ساتھ دیا تھا۔ وہ بڑے ہنگامہ خیز اور ہنگامہ آفریں ایام تھے اور تب سے لے کر آج تک پاکستان کے عوام اسی ہنگامہ آرائی کی ابتلا میں مبتلا چلے آتے ہیں۔ ہر چار چھ ماہ بعد ایک نیا سکینڈل قوم کے سامنے آ جاتا ہے ۔سماج کا ہر طبقہ دن بھر کے کام کاج کے بعد تھک ہار کر جب گھر واپس آتا ہے تو بجائے سکون آور یا اطمینان بخش لمحات کے، شام سات بجے سے آدھی رات تک 10،15نیوز چینلوں پر ایک شورِ قیامت بپا ملتا ہے۔ آج پاکستان کے شہری اور دیہاتی علاقوں میں غریب سے غریب گھرانے میں بھی کم از کم ایک عدد ٹیلی ویژن اور ایک عدد موبائل فون ضرور پائے جاتے ہیں۔ ویسے تو یہ دونوں سمعی بصری آلات (A.V.Aids) انسان کو معلومات اور تفریح بہم پہنچانے کے لئے ایجاد کئے گئے تھے اور ان کی تعلیمی اور تدریسی حیثیت بھی مسلم تھی لیکن پاکستان میں جو پذیرائی آج نیوز چینلوں کو حاصل ہے، وہ نہ ورچوایل یونیورسٹی چینلوں کے مقدر میں رہی ، نہ ڈرامہ اور فلم چلانے والے چینلوں کو نصیب ہوئی اور نہ سپورٹس چینلوں کی گرفت میں آ سکی۔ وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنے مستقبل کے معماروں کے کردار میں اپنا مستقبل دیکھنے کے آرزو مند رہتے ہیں۔ڈرامے، فلمیں، سپورٹس اور لیکچر وغیرہ ان کے فوری دکھوں کا مداوا نہیں کرتے۔ سچ پوچھیں تو حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی محاذ آرائیاں، نیوز چینلوں کا وہ ایندھن ہے، جس کے بغیر ان چینلوں کی گاڑی رک جاتی ہے۔ اس لئے ان چینلوں کے کرتا دھرتا زیادہ سے زیادہ محنت اور شدت سے ایسا ماحول پیدا کرنے کی ارادی سعی کرتے ہیں جس سے سامعین و ناظرین کا ایک حلقہ اگر اسے اپنے احساسِ محرومی کا کتھارسس دیکھتا ہے تو دوسرا اپنی کامیابی کے ثبوت کا تماشائی بن جاتا ہے۔۔۔ اور یوں دونوں فریقوں کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔

آپ نے نوٹ کیا ہوگا ایک زمانے تک امریکی ریسلنگ چینل کا بڑا شہرہ رہا۔ آج بھی بعض لوگ اسے دیکھنے سے بازنہیں آتے۔ اس چینل پر جو نوراکشتیاں دکھائی جاتی ہیں وہ ’’نقل بمطابق اصل‘‘ کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہیں۔۔۔ دو پہلوانوں کو ربڑ کے ایک آرام دہ جہازی سائز کے گدے سے بنے ہوئے رِنگ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اردگرد چاروں طرف نرم ربڑ ہی کے رسے لگا دیئے جاتے ہیں۔ آدھا پنڈال ’’ٹکٹ درجیب‘‘ تماشائیوں سے اور آدھا کرائے کے ’’دادگروں‘‘ سے بھر دیا جاتا ہے۔اس شو کے لئے ریفری اور پروموٹر صاحبان اور خوبرو خواتین کا کمال عیاری سے انتخاب کیا جاتا ہے جس سے دنگل کے تماشائی مسحور ہوں نہ ہوں اس چینل کے دور افتادہ ناظرین ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔پھر دونوں پہلوانوں کے ڈائیلاگ، ان کی جسمانی حرکات و سکنات، ان کا باہمی جارحانہ اندازِ حملہ اور آنکھوں سے برستے شعلے ناظرین کو مبہوت کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ ان ریسلنگ شوز کی ریہرسل پر جو وقت اور پیسہ لگایا جاتا ہے، وہ دنیا بھر کے نشریاتی اداروں سے وصول کرنے میں کسی ’’بخل‘‘ سے کام نہیں لیا جاتا۔ پہلوانوں کے داؤ پیچ اور ایک دوسرے پر وار کرنے کے صوتی اثرات دیکھ اور سن کر تماشائی نہ صرف حیران ہوتے ہیں بلکہ ان میں ایک جذباتی ہیجان بھی پیدا کر دیا جاتا ہے۔

طریقہء ارتکابِ واردات یہ ہوتا ہے کہ ایک پہلوان، اپنے حریف کی ٹھکائی کرنا شروع کر دیتا ہے ۔وہ حریف مار کھا کھا کر بظاہر اس طرح ادھ موا ہو کر لڑ کھڑاتا ہے کہ تماشائیوں کی ساری ہمدردیاں اس کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔ تابڑ توڑ حملوں اور اٹھا اٹھا کر پھینکنے کی پہلے سے ریکارڈ شدہ دلدوز آوازوں کو پردۂ سکرین پر اس طرح سنوایا اور دکھایا جاتا ہے کہ چینل کے تقریباً سارے ہی ناظرین دل و جان سے مار کھانے والے فریق کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ ان کے دلوں سے دعائیں نکلنے لگتی ہیں کہ کاش یہ بسمل اور گھائل پہلوان اس لفنگے اور منہ زور حملہ آور کو بھی اسی طرح مار مار کر ادھ موا کر دے اور اس کو بھی چھٹی بلکہ ساتویں اور آٹھویں کا دودھ یاد آ جائے۔ لیکن ابھی تماشائیوں کا پیمانہء جذبات پوری طرح لبریز نہیں ہوا ہوتا۔ ابھی چند تماشائی ’’مظلوم و مقہور پہلوان‘‘ کے ’’غم و اندوہ‘‘ میں اتنے ہمہ یاراں دوزخ نہیں بنے ہوتے۔ اس لئے دنگل کے منتظمین اس ہٹے کٹے پہلوان کو مزید وقت دے دیتے ہیں کہ وہ ٹارگت کو مزید سافٹ (Soft) کرے، جبر و استبداد کا دور مزید طویل ہو اور فریقِ مضروب مزید مجروح ہو جائے۔۔۔

تب ایک دم ادھ موئے پہلوان کے تنِ مردہ میں جان پڑتی ہے، اس کی آنکھوں سے انتقام کے شعلے نکلنے لگتے ہیں، کملائے ہوئے چہرے پر جاہ و جلال برسنے لگتا ہے اور وہ بھوکے شیر کی طرح اپنے حریف پر ٹوٹ پڑتا ہے۔۔۔ یہاں تماشائیوں کے دل سے آوازیں اٹھتی ہیں: ’’اور مارو اس کمینے بدمعاش کو۔۔۔ ہڈی پسلی ایک کردو اس لعنتی کی۔۔۔ بچ کے نہ جانے پائے ملعون۔۔۔ ایک بار اور۔۔۔ ایک بار اور‘‘ آخر کار وہ پہلوان جو چندلمحے پہلے غالب نظر آتا تھا، مغلوب بن جاتا ہے، ضارب،مضروب ہو کے گرنے لگتا ہے، اس کی چھاتی پر کک پڑتی ہے تو ناظرین دل ہی دل میں زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ اس کو بار بار اٹھا کر گدے پر پٹخا جاتا ہے تو گرنے کی آواز اتنی خوفناک ہوتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے وہ دوبارہ کبھی نہیں اٹھے گا۔۔۔ پھر پہلے والا مجروح پہلوان اس کے سینے پر بیٹھ جاتا ہے۔ ریفری گنتی شروع کرتا ہے لیکن سات کے عدد سے پہلے گرے ہوئے تنِ بسمل میں ایک دم جنبش ہوتی ہے اور وہ ایک بار پھر مار کھانے اور تماشائیوں کی گالیاں اور لعنتیں وصول کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور جب وہ آخری بار گرتا ہے اور ریفری پہلے والے کو ’’فاتح‘‘ قرار دے دیتا ہے تو سارا پنڈال شاباش و آفرین کے نعروں سے گونج اٹھتا ہے۔ لیکن جب پردہ گرنے لگتا ہے تو تماشائی دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ دونوں پہلوانوں کو کہیں خراش تک نہیں آئی ہوتی، تابڑ توڑ مکوں کا کوئی نشان کہیں ثبت نظر نہیں آتا، رِنگ کے موٹے موٹے رسوں میں بار بار جا ٹکرانے سے سرخ و سفید بدن پر کوئی ہلکا سا نقش بھی نہیں بنتا۔۔۔ اور کھیل ختم ہو جاتا ہے۔ جب کریڈٹ چلتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ پروگرام ’’پروموشن‘‘ تھا۔۔۔ یعنی دکھا وے کی کشتی تھی ۔لیکن یہ دکھاوا اصل کشتی سے بھی بڑھ کر اصلی معلوم ہوتا تھا!

کچھ یہی ’’پروموشن‘‘ ایک عرصے سے ہمارے نیوز چینلوں کا طرۂ امتیاز بن چکی ہے۔ اگر کوئی ان چینلوں کے ریونیو کا فورنزک آڈٹ (Forsenic Audit) کروائے تو اس کو معلوم ہوگا کہ ان چینلوں کے مالکان کے آف شور اکاؤنٹس کا تخمینہ کیا ہے اور کس کس پانامہ اور کس کس ورجن آئی لینڈ میں ان کی کمپنیاں ہیں۔ یہ بات سوچنے کی ہے کہ ایک دم اتنے ڈھیر سارے چینلوں کا جمعہ بازار پاکستان میں کیسے لگ گیا ہے، اتنی ماڈل خواتین کس طرح ایک دم یہاں پیدا ہو گئی ہیں، ایک دم سرف ایکسپریس، لائف بوائے اور لکس صابن، ٹوتھ پیسٹیں، مچھر مار ادویات، چپس کے پیکٹ، ملبوسات، ایئرکنڈیشنر، بجلی کے پنکھے، لان اور بریزے کے پارچات، چائے، گھی، بلیڈ، کوکا کولا اور دوسرے مشروبات وغیرہ کے اشتہارات ہر دس بارہ منٹوں کے بعد کیوں چلائے جا رہے ہیں اور سب سے بڑھ کریہ کہ مختلف برانڈز کے موبائل فونوں کی بے محابا تشہیر کیوں کی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے کوئی خریدتا ہے تو یہ اشیاء پروموٹ کی جاتی ہیں، کوئی لٹتا ہے تو یہ لوٹ مار مچی ہوئی ہے!

کسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کا بڑا ریونیو، اس کے نیوز چینل ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے باقی چینل عموماً طفیلی اجسام ہیں جو نیوز چینل پر پل رہے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ دیکھے جانے والے پروگرام سیاسیات سے متعلقہ ہوتے ہیں۔ ان کا فائدہ چینل مالکان کو یہ ہوتا ہے کہ ’’شرکائے بزم‘‘ کو کچھ دینا نہیں پڑتا بلکہ بسا اوقات ’’لینا‘‘ پڑ جاتاہے۔ سیاسی رہنماؤں کو تو اپنی اور پارٹی کی تشہیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اتنا شور شرابا تو امریکن چینلوں پر ٹرمپ اور ہیلری کے مباحثوں میں نہیں ہوتا جتنا ہمارے سیاسی رہنماؤں کے مباحثوں میں ہوتا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی نے اپنے اپنے ترجمان مقرر کر رکھے ہیں۔ ان ترجمانوں کی کوالی فیکیشنز میں سرفہرست اہلیت یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی پارٹی کا ہر قیمت پر دفاع کرنا ہے اور مخالف جو دلیل لائے اس کو رد کرنے کے لئے زیادہ مدلل دلیل دینی ہے۔ ویسے ان ترجمانوں کا سیاسی شعور قابل رشک ہوتا ہے، پاکستان کی سیاسی تاریخ ان کو ازبر ہوتی ہے، طلاقتِ لسانی میں ان کا ثانی خال خال ملتا ہے، یہ سیاسی شخصیات اپنے کالج اور یونیورسٹی کے زمانوں میں تقریری مقابلوں میں ٹرافیاں حاصل کرنے والوں میں پیش پیش ہوتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے موقف کی صداقت میں کسی بھی حد تک نیچے گرنے کو بھی ناروا، ناجائز اور نامناسب نہیں سمجھتیں۔

ایک اور قسم، سیاسی مبصرین کی اور بھی ہے۔۔۔ یہ تجزیہ گو حضرات اور خواتین اپنی مخصوص سیاسی پارٹی کے عمائدین کے گردو پیش پھرتی رہتی ہیں۔ حقائق یا نا حقائق اور ایشوز یا نان ایشوز کو سونگھنے کا فن ان کو خوب آتا ہے اور سب سے زیادہ فنکاری کا مظاہرہ وہ اپنی تقریری فصاحت و بلاغت سے کرتی ہیں۔ ان کو سننے اور دیکھنے والا ان کی بات سمجھنے کی رفتار میں ان سے پیچھے رہ جاتا ہے اور وہ ہمیشہ اس سے آگے نکل جاتی ہیں۔ جہاں چینل مالکان کو سیاستدانوں کی خدمات مفت حاصل ہو جاتی ہیں وہاں ان مبصروں کا ماہانہ الاؤنس اور ٹی اے ڈی اے بذمہ چینل ہوتا ہے!۔۔۔ جس طرح پروموشنل ریسلنگ ایک فن ہے اسی طرح سیاسی ٹاک شوز کا انعقاد بھی ایک فن ہے جہاں موضوعِ زیرِ بحث کا سارا زور پہلے پروڈیوسر پر اور پھر اینکرپر ہوتا ہے۔۔۔۔ یعنی پروڈیوسر، اینکر کا پسِ پردہ دماغ ہے اور اینکر، پروڈیوسر کی پیشِ پردہ زبان ہے!

جس ’’زمانے‘‘ میں کوئی سیاسی سکینڈل منظرِ عام پر نہیں آتا، وہ زمانہ نیوز چینلوں پر بہت بھاری گزرتا ہے۔ ان کا ریونیو کم ہونے لگتا ہے اور ریٹنگ خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اینکر حضرات و خواتین کی گرم گفتاری ماند پڑنے لگتی ہے۔ ایسے میں چینل کے مالکان اس ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کوئی نیا سیاسی سکینڈل اور نیا چٹکلہ ہاتھ آجائے۔یا پھر کوئی ایسا موضوع جس میں سکینڈل بن جانے کے جراثیم موجود ہوں، اس کو منتخب کر لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اللہ میاں غیب سے چھپڑ پھاڑ کر بھی نیوز چینلوں کی مدد کرتا ہے جس طرح آج کل پاناما لیکس کا شو زوروں پر جا رہا ہے۔۔۔ شائد اس فلم کی سلور جوبلی کی نوبت آ جائے یا کوئی نئی فلم پردۂ سکرین پر جلوہ گر ہونے والی ہو!

مزید : کالم


loading...